Thursday, October 28, 2021  | 21 Rabiulawal, 1443

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر نئی بلندترین سطح پرپہنچ گیا

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، اورپن مارکیٹ میں 40 پسے اور انٹربینک مارکیٹ میں 52 پیسے مہنگا ہوگیا۔

پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اونچی پرواز پیر کو بھی برقرار رہی اور کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر 169.08 روپے سے بڑھ کر 169.60 روپے کا ہوگیا جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 171 روپے کی سطح عبور کرتے ہوئے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 40 پیسے کے اضافے سے ڈالر 171.40 روپے ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جمعہ کو انٹر بینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 169.08روپے تھی جو 52 پیسے یعنی 0.31 فیصد اضافے سے پیر کو 169.60 روپے کا ہوگیا۔ع

عارف حبیب سیکیورٹیز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 14 مئی سے اضافہ ہونا شروع ہوا تھا جب انٹر بینک میں ڈالر 152.28 روپے تھا، ڈالر کی قدر بڑھنے کے اس حالیہ رجحان کے باعث امریکی کرنسی کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 10.21 فیصد اپنی قدر کھو چکا ہے جبکہ جون سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی شرح 7.11 فیصد اور جنوری سے 5.76 فیصد آچکی ہے۔

دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق پیر کو ڈالر کی قدر میں 40 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے ڈالر 171 رو پے سے بڑھ کر 171.40 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

چیئرمین فاریکس یسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ڈالر اکاؤنٹس منجمد ہیں اور انہیں بیرونی ادائیگیوں کیلئے ڈالر چاہئیں جو ان کے پاس نہیں، اس لئے افغانستان کی ضرورت کی اشیاء آٹا، چینی، گندم، چاول، تیل اور دیگر پاکستان کے راستے درآمد کی جارہی ہیں، جس کی وجہ سے درآمدات کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور اس کا اثر زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور پاکستانی روپے کی قدر گرنے کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے کی بڑی وجہ درآمدات ہیں جس کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے اس کے علاوہ آئندہ ماہ اکتوبر میں تقریباً ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈز کی میچورٹی آرہی ہے، جس کی وجہ سے بینکوں میں ڈالر کی طلب بڑھ گئی ہے اور اس کا اثر اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی نظر آرہا ہے۔

ظفر پراچہ کے مطابق حکومت کو لگژری آئٹمز کی درآمدات پر پابندی عائد کرنی چاہئے، توقع ہے کہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں ہوئی تو اسٹیٹ بینک صورتحال پر قابو پالے گا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو محمد سہیل کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی سکوک کو بہتر رسپانس ملا ہے، حکومت کو چاہئے کہ اکتوبر میں 1.2 ارب ڈالر کے نئے سکوک جاری کردیئے جائیں تاکہ پہلے کے سکوک کی ادائیگی کے دباؤ سے ملکی زرمبادلہ اور پاکستانی روپے کو محفوظ رکھا جاسکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube