Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

کراچی میں دودھ کی قلت اور قیمت بڑھنے کی شکایات

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 1 month ago

شہر کے مختلف علاقوں میں دودھ کی قلت کی شکایات مل رہی ہیں، خاص طور پر نارتھ کراچی، نیو کراچی، کورنگی اور بلدیہ سمیت بعض علاقوں میں 8 بجے کے بعد دکانوں پر دودھ دستیاب نہیں ہوتا جبکہ کچھ دکانداروں نے خاموشی سے قیمت بھی بڑھادی ہے۔

لی مارکیٹ کی اوپن منڈی میں نرخ بھی بڑھ رہے ہیں اور لی مارکیٹ کی اوپن منڈی میں رواں ماہ کے آغاز پر فی من دودھ کی قیمت 5500 روپے تھی جو بڑھتے ہوئے 6 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

دودھ کی قیمت بڑھانے کیلئے رواں ماہ کے شروع میں کوشش کی گئی لیکن ریٹیلرز کے عدم تعاون اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی وجہ سے ڈیری مالکان کامیاب نہیں ہوسکے، جس کے بعد اچانک بعض علاقوں میں قلت کی شکایات مل رہی ہے۔

دودھ فروشوں کا کہنا ہے کہ ڈیری فارمرز بندی (کنٹریکٹ) کے مطابق تو پوری سپلائی کررہے ہیں لیکن بندی سے اضافی سپلائی کم کردی ہے، جس کے نتیجے میں قلت پیدا ہورہی ہے جبکہ ڈیری  فارمرز کہتے ہیں کہ لاگت بڑھنے کی وجہ سے موجودہ قیمتوں میں بچت مشکل ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے پیداوار میں کمی آرہی ہے۔

ڈیری شعبے میں بندی نظام کا کیا مطلب ہے؟

ڈیری شعبے میں ڈیری فارمرز اور ریٹیلرز کے ساتھ ہول سیلر کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ مختلف اشیائے صرف کی مارکیٹوں میں ہول سیلر کمپنیوں یا ڈسٹری بیوٹرز سے مصنوعات لیکر ریٹیلرز کو دیتے ہیں، انہیں کمپنیوں سے مال ملنے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، جتنی ڈیمانڈ آتی ہے اس کے مطابق وہ مال اٹھالیتے ہیں لیکن ڈیری کے شعبے میں معاملہ مختلف ہے۔

ہولسیلر کو ڈیمانڈ بڑھنے یا سپلائی کم ہونے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ان کی ریٹیل کی پوری چین ان کے ہاتھ سے چلی جائے گی دوسری طرف ڈیری فارمر کو بھی دودھ بچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہولسیلرز سالانہ کنٹریکٹ کرتے ہیں جس کو ”بندی“ کہا جاتا ہے، جس کے تحت پورے سال جنوری تا دسمبر طے شدہ مقدار میں ڈیری فارمرز ہول سیلر کو دودھ فراہم کرنے کا پابند ہے۔

اگر ڈیری فارمر کی اپنی پیداوار کم ہوجائے تو ہولسیلر اوپن منڈی سے دودھ خرید لیتا ہے اور جو فرق ہوتا ہے وہ ڈیری فارمرز سے وصول کرتا ہے، اسی طرح ہول سیلر کی ڈیمانڈ کم بھی ہوجائے تب بھی وہ مقررہ مقدار میں ہی دودھ خریدتا ہے، چاہے اسے وہ دودھ کسی کو سستا ہی فروخت کرنا پڑے۔

بندی کے مطابق ہولسیلر ڈیری فارمر کو فی من دودوھ کے 2 سے 5 لاکھ روپے ڈپازٹ بھی جمع کراتا ہے، فریقین میں معاہدہ مقدار کا ہوتا ہے، قیمت کا نہیں ہوتا لیکن قیمت بڑھنے سے انہیں فرق بھی نہیں پڑتا، ہولسیلر کی اپنی گاڑیاں بھی ہوتی ہیں، دودھ کی جب بھی قیمت طے ہوتی ہے، اس میں کرائے کی مد میں بھی ہولسیلر کا خیال رکھا جاتا ہے۔

فی لیٹر 130 روپے دودھ کی قیمت پر بھی ڈیری فارمر خوش نہیں 

دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے مقرر ہے لیکن اس کے برعکس 130 روپے لیٹر کے حساب سے دودھ فروخت کیا جارہا ہے اور ڈیری فارمرز قیمت میں مزید 20 روپے بڑھانے کی کوششیں کررہے ہیں۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر کا کہنا ہے کہ لاگت بڑھنے کی وجہ سے موجودہ قیمت پر کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے، جبکہ ریٹیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالوحید گدی بھی سمجھتے ہیں کہ چارہ بہت مہنگا ہوگیا ہے، ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے اور جانور بھی مہنگے مل رہے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دودھ کی طلب بڑھ رہی ہے، اندرون سندھ سے کراچی، حیدرآباد آنے والا دودھ بھی وہیں بک جاتا ہے، بلوچستان میں بھی جن علاقوں میں قہوہ پیا جاتا تھا وہاں بھی اب دودھ کی چائے کا استعمال بڑھ گیا ہے، کراچی سے جما ہوا دودھ بسوں کے ذریعے سے بلوچستان سپلائی ہوتا ہے لیکن موجودہ قیمت پر ڈیری فارمرز کو زیادہ کشش نظر نہیں آرہی، اس لئے وہ بھینسوں کی تعداد نہیں بڑھا رہے، جس کی وجہ سے قلت پیدا ہورہی ہے۔

لاگت بڑھنے کی ایک وجہ سرمایہ کار بھی ہیں 

ڈیری شعبے سے وابستہ افراد سے معلوم ہوا ہے کہ ڈیری فارمرز ایک طرف ہولسیلرز کو بندی نظام کے تحت پورے سال کیلئے ایڈوانس میں ہی دودھ بک کرلیتے ہیں اور ڈپازٹ کی مد میں بھی ان سے رقم لے لیتے ہیں، دوسری طرف وہ بھینس خریدنے کیلئے سرمایہ کاری بھی کرواتے ہیں، جس میں مخصوص افراد سے جانوروں کی پیمنٹ کرائی جاتی ہے اور 2 سے 3 لاکھ روپے کی ادائیگی پر انویسٹر کو 30 ہزار روپے منافع اور اصل رقم 4 سے 5 ماہ میں قسطوں میں لوٹائی جاتی ہے، یہ اضافی رقم بھی لاگت میں شامل ہوجاتی ہے۔

ایک دودھ ہولسیلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی ڈیری فارمرز تو صرف فرنٹ پر رہ گئے ہیں، پیچھے سرمایہ کار ہوتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ کمانے کیلئے متحرک ہوتے ہیں، جس کیلئے وہ سرکاری افسران کے ساتھ مل کر قیمتوں کو بھی بڑھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملاوٹ بھی کی جارہی ہے، بعض علاقوں میں جتنا دودھ ہوتا ہے اتنا ہی پانی ملا دیا جاتا ہے اور وہ پانی بھی 130 روپے لیٹر میں فروخت کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube