Monday, November 29, 2021  | 23 Rabiulakhir, 1443

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان

SAMAA | - Posted: Sep 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

آج کاروباری دن کے دوران اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں 1200 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد انڈیکس45 ہزار پوائنٹس سے بھی کم کی سطح  پر ٹریڈ کررہا ہے۔ کاروباری دن کے اختتام پر اسٹاک مارکیٹ انڈیکس 45 ہزار 597 پوائنٹس پر ٹرید کررہا تھا۔

تجزیہ کار عدنان سمیع شیخ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اضافے کے بعد لوگوں نے اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکال کر فکسڈ انکم کی مد میں پیسوں کی سرمایہ کاری شروع کردی ہے کیونکہ شرح سود بڑھنے سے لوگوں کو سرمایہ کاری پر ملنے والا منافع بھی زیادہ ہوگا، جس کے بعد انڈیکس میں دو روز میں 2ہزار پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا یہ توقع کی جارہی ہے مرکزی بینک شرح سود میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ اسکے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور ڈالر کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو مرکزی بینک حالات قابو میں  کرنے کیلیے شرح سود کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

تجزیہ کار رضا جعفری کا کہنا تھا کہ کچھ روز سے اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار کیونکہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جس سے ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور ڈالر مزید بڑھ جانے کے خدشات کے باعث لوگوں نے زیادہ سے زیادہ ڈالرز خریدنا شروع کردئیے ہیں۔ اسکے علاوہ آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بھی رکا ہوا ہے جس کے باعث مارکیٹ میں غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا قرض آئی ایم ایف سے ملنا تھا جس میں 1.5 ارب ڈالر مل چکے ہیں اور 4.5 ارب ڈالرز ملنے ابھی باقی ہیں اس حوالے سے بھی لوگوں کے خدشات ہیں کہ آیا بقایا قرض ملتا ہے یا نہیں۔ اسکے علاوہ شرح سود گزشتہ 1 سال سے نہیں بڑھی، لیکن پیر کے روز مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود 7 فیصد سے بڑھا کر 7.25 فیصد کردی جس کا اثر بھی مارکیٹ پر آیا ہے اور سرمایہ کاروں نے پیسہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر فکسڈ انکم میں لگانا شروع کردیا ہے تاکہ وہاں سے انہیں زیادہ سے زیادہ منافع مل سکے۔

واضح رہے وزیر خزانہ شوکت ترین نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے باعث حکومت کو مانیٹری پالیسی میں شرح سود بڑھانی پڑی۔ کیونکہ قرض حاصل کرنے کیلیے آئی ایم ایف کے قوائد و ضوابط کو پورا کرنا ہوتا ہے جن میں شرح سود بڑھانا، روپے کی قدر کو گرنے سے نہ روکنا اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرنا کچھ اہم شرائط ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube