Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

کار ساز کمپنیاں کئی گاڑیوں کی بکنگ بند کرسکتی ہیں

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago

پاکستان میں کار ساز کمپنیوں نے کئی گاڑیوں کی بکنگ بند کردی۔ پاک سوزوکی نے کلٹس آٹو میٹک ویرینٹ اور آلٹو وی ایکس ایل جبکہ کیا لکی موٹرز نے پکانٹو کا آٹومیٹک ویرینٹ کی بکنگ روک دی۔ جس کی وجہ سیمی کنڈکٹر چپس کی کمی کو قرار دیا جارہا ہے۔

انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال سوزوکی اور کیا ہیں تاہم آنے والے مہینوں میں تمام کمپنیوں کو اس مسئلے کا سامنا ہوگا، سیمی کنڈکٹر چپ کی کمی عالمی مسئلہ ہے، پاکستان تک اس کے اثرات کچھ دیگر سے پہنچے ہیں۔

تمام کمپنیاں چاہے وہ جاپانی ہوں، کورین یا چینی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ دیگر سامان کی سپلائی کے علاوہ سیمی کنڈکٹر کی کمی کا سامنا کررہی ہیں۔

ٹویوٹا کے سی ای او علی اصغر جمالی کا مسئلے کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بکنگ بند نہیں کررہے، مسائل ہیں تاہم ان سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سوزوکی کے کار ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سی سی کی کلٹس اور آلٹو وی ایکس ایل کیلئے سیمی کنڈکٹر کی کمی کا سامنا ہے۔ پاک سوزوکی سب سے زیادہ کاریں فروخت کرنے کے ساتھ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کا بڑا رکن ہے۔

اس کے علاوہ کیا لکی، جو کہ پاکستان میں تیسری بڑی کار بیچنے والا ادارہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، نے بھی اپنی بکنگ بند کردی ہے۔ کمپنی حکام نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ کمپنی سیمی کنڈکٹر چپس کی کمی سے متاثر ہورہی ہے اور وہ اس سے ابھرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس کے نتائج کیا ہیں؟

سپلائی چین کے مسائل اور چپس کی کمی نے تقریباً تمام کاروں کی ترسیل کی مدت میں بھی اضافہ کردیا، اس کے باعث اوون منی کا مسئلہ بھی نئی بلندی پر پہنچ گیا۔

کاروں کی اوون منی میں اس حد تک اضافہ ہوگیا کہ کچھ کاریں اپنی اصل قیمت سے 10 لاکھ روپے زیادہ میں فروخت ہورہی ہیں۔

اوون منی سرمایہ کاروں کی جانب سے وصول کی جانبوالی غیر قانونی قیمت ہے، جو سرمایہ کار ایسے خریدار سے وصول کرتے ہیں جو فوری طور پر گاڑی خریدنا چاہتے ہیں، یہ گاڑی کی اصل قیمت سے اوپر ہوتے ہیں، ایسا کرنا پاکستان کے آٹو سیکٹر میں عام بات ہے، جہاں کار سازوں کو گاڑیوں کی ڈیلیوری میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔

انڈسٹری کے سپلائی چین کے مسائل کے دوران گاڑیوں کی فراہمی کی مدت 3 ماہ سے بڑھ کر 6 ماہ تک پہنچ گئی ہے اور اب کمپنیاں کاروں کی بکنگ معطل کررہی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ابھی گاڑی بک کرواتے ہیں تو ہونڈا سٹی کا آٹومیٹک ویرینٹ آئندہ سال مارچ تک آپ کو پہنچایا جائے گا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار شکیب خان کا کہنا ہے کہ اگر سیمی کنڈکٹر چپس کی کمی کا مسئلہ برقرار رہا تو تمام کمپنیاں متاثر ہوں گی، تمام کاروں میں اب (الیکٹرانک فیول انجکشن) انجن اور اے بی ایس بریک ہیں اور اس لئے تمام کاریں سیمی کنڈکٹر چپس پر انحصار کرتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ کاریں کم انحصار کرتی ہیں اور کچھ زیادہ، ایک مینوئل گاڑی کو ان میں استعمال ہونیوالی چپس کی کم تعداد کی ضرورت پڑسکتی ہے جبکہ خودکار اقسام کی گاڑیوں کو زیادہ چپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ مینوئل کاروں کی بکنگ اب بھی کی جاسکتی ہے جبکہ آٹو میٹک کاروں کی بکنگ معطل کردی گئی ہیں۔

آٹو سیکٹر کے ماہر اور تجزیہ کار عثمان انصاری نے کہا کہ دوسرے ممالک کی آٹو انڈسٹری کو پہلے ہی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کئی ممالک کوویڈ 19 کی وباء سے نکلنا شروع ہوئے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں یہ مسئلہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں تھوڑی دیر سے آیا، میرے خیال میں اس تاخیر کی وجہ پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کم حجم (سالانہ فروخت ہونیوالی کاروں کی تعداد) تھی۔

سیمی کنڈکٹر چپس کی کمی کیوں ہوئی؟

کرونا وائرس کی وباء آٹو انڈسٹری میں سیمی کنڈکٹر چپس کا سپلائی چین ایشو بنانے کی وجہ بنی، چپس تیار کرنیوالی کمپنیوں نے ٹیک انڈسٹری سے آنیوالی طلب کو پورا کرنے کیلئے اپنی توانائیاں اس جانب موڑ دیں، خاص طور پر طبقہ لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ویب کیم بنانے کے شعبے کی طرف، کیونکہ لوگوں پر کام کیلئے گھروں تک محدود کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ چپ فیکٹریوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران کام معطل ہونا بھی سپلائی کم ہونے کی ایک وجہ تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube