Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

کیا فاء وی ٹو ہیچ بیک پاکستان میں بند ہوگئی؟

SAMAA | - Posted: Sep 11, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 11, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ایف اے ڈبلیو (فاء) کمپنی کی 1300 سی سی ہیچ بیک وی ٹو کو مزید بک نہیں کیا جا سکتا اور مارکیٹ میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ اسے بند کر دیا گیا ہے۔

 ایف اے ڈبلیو کمپنی کا وی ٹو ماڈل جب پاکستان میں متعارف کروایا گیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ اسے پاکستانی مارکیٹ میں کامیابی ملے گی کیونکہ یہ ٹویوٹا وٹز کی طرح دکھائی دیتی تھی، جسے پاکستانی مارکیٹ میں خوب پذیرائی ملی۔ لیکن وٹز کو پاکستان میں بنایا نہیں گیا تھا بلکہ اسے جاپان سے بطور استعمال شدہ کار درآمد کیا گیا تھا۔

آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار عثمان انصاری نے کہا کہ اس کار کو  2014 میں سی بی یو (مکمل طور پر بلٹ یونٹ، جس کا مطلب کار کی مکمل تیار شدہ شکل میں ہے) کے طور پر متعارف کرایا گیا اور اگست 2017 میں کمپنی نے مقامی طور پر ہیچ بیک بنانا شروع کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاء دائیں ہاتھ مسافر کار کے سیگمنٹ نے دنیا کے دیگر حصوں میں بھی جدوجہد کی اور انہوں نے اپنی کاریں خاص طور پر وی ٹو بند کر دی ہیں۔

 کمپنی کے مطابق وی ٹو کار کی بکنگ بند نہیں ہوئی تاہم اس کی فروخت میں کافی کمی آئی جس کی بنیادی وجہ چین میں اس کے پرزوں کی پیداوار بند ہونا ہے اور اسے جنوبی افریقہ میں بھی بند کر دیا گیا ہے جہاں پاکستان کی طرح دائیں ہاتھ کی کاریں چلائی جاتی ہیں۔ گاڑی کی بکنگ بند ہونے یا نہ ہونے کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن کمپنی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ چین میں فاء فیکٹری اب دوسرے شہر میں منتقل ہو گئی ہے کیونکہ اس شہر کو وبائی بیماری نے شدید متاثر کیا تھا۔ یہ پاکستان سے بہت دور ہے اور سی کے ڈیز (اسمبلی کے لیے کار کے پرزے) درآمد کرنا اس وقت کاروباری معاملات کیلیے ساز گار نہیں ہے۔

کمپنی وی ٹو گاڑی کی بکنگ نہیں کر رہی ہے لیکن ایک ڈیلر گاڑی کی 50 ہزار روپے اون منی کے عوض پیشکش کرتی رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وی ٹو کا مرکزی مد مقابل سوزوکی سوئفٹ تھی، جو کہ 13 سو سی سی کی ہیچ بیک بھی ہے، جسے حال ہی میں بند کر دیا گیا ہے۔

کمپنی منی وین ایکس پی وی بھی فروخت کر رہی ہے جو کہ سوزوکی بولان اور منی پک اپ کیریئر کے زمرے میں آتی ہے اور یہ دونوں گاڑیاں سوزوکی راوی کے زمرے میں آتی ہے۔ انصاری نے مزید کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے تمام ڈیوٹی اور ٹیکس کم کرنے کے بعد دونوں گاڑیوں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی کیوں نہیں کی ہے۔

انصاری کا کہنا ہے کہ الحاج گروپ پروٹون کو پاکستان لایا کیونکہ یہ پہلے ہی فاء مسافر کاروں کی کارکردگی سے مایوس ہو چکا تھا، لیکن فاء ایک ذرائع کے مطابق کمپنی اس گاری کو بند نہیں کرے گی۔ کمپنی بسوں اور بھاری فاء ٹرکوں کی فروخت جاری رکھے گی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ تمام لوگ کام کررہے ہیں اور گاڑیوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ ہمارا منصوبہ کچھ اور گاڑیاں لانے کا بھی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube