Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

گاڑیوں پر اون منی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

SAMAA | - Posted: Sep 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago

Pakistan-auto-sales

گاڑیوں کی خریداری پر اون منی کی رقم میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ گاڑیوں کے کچھ خریدار فوری طور پر گاڑی حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے باعث کچھ کار ڈیلرز گاڑیاں کمپنی کی اصل قیمت سے 10لاکھ روپے سے زیادہ کی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کار کمپنیاں اسٹیل اور دیگر خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، شپنگ لائنز میں رکاوٹ اور بار برداری (فریٹ چارجز) کے کرایوں کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے سپلائی چین کے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جس کے باعث گاڑیوں کی ترسیل کی مدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اون منی ایک غیر قانونی قیمت ہے جو سرمایہ کار اُن خریداروں سے وصول کرتے ہیں جو فوری طور پر گاڑی خریدنا چاہتے ہیں۔ اون منی کے باعث گاڑی کی قیمت اُس کی اصل قیمت سے زائد ہوجاتی ہے۔ یہ عام طور پر پاکستان کے کار کے سیگمنٹ میں ہوتا ہے جہاں کار بنانے والے بعض اوقات کار کی ڈیلیوری مہینوں میں کرتے ہیں۔

سوزوکی کمپنی کے ایک کار ڈیلر کے مطابق ہزار سی سی کلٹس کار کو سلیکٹر نامی پرزے کی کمی کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے کمپنی کو گاڑی کی بکنگ معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پاک سوزوکی کمپنی پاکستان میں سب سے زیادہ گاڑیاں فروخت کرتی ہے۔

نئی ہونڈا سٹی کی آٹو میٹک کی قسم خریدنے کے لیے اگر خریدار گاڑی کی بکنگ ابھی کرواتے ہیں تو خریداروں کو مارچ تک انتظار کرنا ہوگا۔ ملائیشیا میں آٹو انڈسٹری کرونا وبا کی وجہ سے بند ہو چکی ہے جس کے بعد ملائیشیا کی پاکستان میں موجود پروٹون نامی کمپنی کو پاکستان میں گاڑیوں کی ڈیلیوری میں مشکلات  پیش آرہی ہیں۔

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ پاکستان میں نئی ​​گاڑیوں کی خریداری پر اون منی کی قیمت اس وقت عروج پر ہے۔ ایچ ایم شہزاد نے مزید کہا کہ حکومت نے آٹو انڈسٹری کو جو فوائد دیے ہیں اس کے اثرات اون منی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے باعث زائل ہوچکے ہیں۔

کار ڈیلر انجم رضوی کے مطابق گاڑیوں کی انڈسٹری کو ہمیشہ اون منی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بظاہر اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور یہ مسئلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئی کمپیکٹ ایس یو ویز یا کراس اوورز جیسے کیا اسپورٹیج، ہنڈائی ٹکسن، گلوری 580 پرو اور ایم جی-ایچ ایس گاڑیوں پر اون منی 7لاکھ روپے فی یونٹ ہے اور ان گاڑیوں کی قیمت 40لاکھ روپے سے 60 لاکھ روپے تک ہے۔

 ایک اور کار ڈیلر کے مطابق ایم جی-ایچ ایس پر اون منی چند دن پہلے تک 10 لاکھ روپے تک جا پہنچی تھی لیکن اب یہ کم ہو کر 7لاکھ روپے ہوگئی ہے۔

تمام آٹو کمپنیاں اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ کاروں کی فروخت میں کوئی اون منی کی رقم شامل ہے۔ تاہم سماء منی کی ایک تحقیق کے مطابق کار کمپنیوں کی مجاز ڈیلرز خریداروں کو اون منی کی رقم کے عوض کاروں کی فوری ترسیل کی پیشکش کرتے ہیں۔

ایک بڑی کمپنی کی ایک مجاز کار ڈیلر سے کار خریدنے کے لیے رابطہ کیا گیا، جس کی ترسیل کی مدت تین ماہ ہے لیکن مجاز ڈیلر نے گاڑی کی معیاری قسم کو اون منی پر ایک لاکھ 35 ہزار روپے اور عمدہ قسم کو ایک لاکھ 50ہزار روپے اون منی پر فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ کار ڈیلر کے مطابق فوری طور پر اون منی پر گاڑی حاصل کرنے پر ضروری نہیں کہ خریدی گئی گاڑی کا رنگ خریدار کی مرضی کے مطابق ہو۔

انجم رضوی نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو کار بک کرتے ہیں اور جب گاڑی ان کو ڈیلیور کی جاتی ہے تو وہ ڈیلر سے کہتے ہیں کہ وہ اسے اون منی پر کسی اور خریدار کو بیچ دے جو گاڑی فوری طور پر خریدنا چاہتا ہو۔

حکومت اون منی کی روک تھام کی کوشش کر رہی ہے اور وہ کمپنیاں جو گاڑی کی فراہمی میں دو ماہ سے زیادہ کا وقت لیتی ہیں اُن پر جرمانہ عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، لیکن ذرائع کے مطابق جرمانہ عائد کرنے کی منصوبہ بندی کاغذی حد تک ہی محدود ہے۔

حکومت کی جانب سے رواں سال جولائی میں ٹیکس کم کرکے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی گئی جس کے بعد کاروں کی مانگ بڑھ گئی۔ تاہم کارٹ مارکیٹ میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ کار کمپنیاں گاڑیوں کی قیمتیں بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

سماء منی کی جانب سے کیے گئے مارکیٹ سروے کے مطابق سوزوکی آلٹو پر اون منی کی قیمت لاکھ سے ایک لاکھ 50 ہزار روپے، کلٹس پر 2 لاکھ روپے، چنگان ایلسون پر ایک لاکھ 50 ہزار روپے، ٹویوٹا یارس پر 75 ہزار روپے، ہنڈائی ایلانٹرا پر ایک لاکھ 50 ہزار روپے، ہونڈا سٹی پر 3لاکھ روپے اور فارچیونر پر قیمت 10 لاکھ روپے ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube