Saturday, November 27, 2021  | 21 Rabiulakhir, 1443

حکومت کا گاڑیوں کی قیمتیں متعین کرنے پر غور

SAMAA | - Posted: Sep 3, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 3, 2021 | Last Updated: 3 months ago

آرٹ ورک: انس جاوید / سماء ڈیجیٹل

وزارت صنعت و پیداوار نے گاڑیوں کی قیمتیں بڑھانے پر کار ساز کمپنیوں سے جواب طلب کرلیا۔ خط میں پوچھا گیا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کیوں اضافہ کیا گیا ہے؟۔

خط میں کمپنیز سے پوچھا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں آٹوموبائل مینوفیکچررز کو ٹیکسوں میں نمایاں رعایت دی تاکہ عام عوام سستی گاڑیاں خرید سکیں۔

انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو ایک خط لکھا گیا ہے جس پر کنٹرولر جنرل آف پرائسز اور سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کامران علی افضل کے دستخط موجود ہیں۔

وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے لکھے گئے خط کے مطابق کار ساز کمپنیوں نے حکومتی رعایتوں کی منظوری کے بعد اپنی قیمتوں میں کمی کی ہے لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ وہ قیمتوں میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، حالانکہ مراعات دیئے ابھی صرف چند ہفتے ہوئے ہیں اور پیداواری لاگت میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ یہ صورتحال واضح طور پر ناقابل قبول ہے اور حکومت کے پاس ریگولیٹری اقدامات شروع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، جس کے تحت پرائس کنٹرول، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے ایکٹ 1977 کے تحت قیمتوں کا تعین شامل ہو سکتا ہے۔

انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے جنرل منیجر (پالیسی) عاصم ایاز نے کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار نے کار ساز کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی لاگت کا ڈھانچہ شیئر کریں اور کسی بھی قیمت میں اضافے کا جواز پیش کریں۔

عاصم ایاز کے مطابق کار ساز کمپنیوں کے درمیان مقابلہ بازی اور حکومت کاروں کی قیمتوں کو کنٹرول میں کرسکتی ہے تاہم حکومت کیلیے کاروں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ایک مشکل کام ہوگا کیونکہ ہر کمپنی کی پیداواری لاگت دوسری کمپنی سے مختلف ہوتی ہے۔

ایک خبر کے مطابق کارساز کمپنیاں مبینہ طور پر قیمتوں میں اضافے پر غور کررہی ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ میں اسٹیل کی قیمت اور شپنگ لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بار برداری کا کرایہ (فریٹ چارجز) اوسطاً 1 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 4 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube