Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

طالبان نے پاک افغان تجارت پر کسٹم ڈیوٹی عائد کردی

SAMAA | - Posted: Jul 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago

افغان طالبان نے بھی تجارتی اشیاء کیلئے کسٹم ٹیرف جاری کردیا، جس سے تاجروں کو دوہرا ٹیکس دینا پڑے گا۔

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے تجارتی اشیاء کی آمد و رفت کیلئے باقاعدہ کسٹم ٹیرف جاری کئے جانے پر تاجروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت پہلے ہی ٹیکس لے رہی ہے، اب افغان طالبان کی جانب سے بھی ٹیکس وصولی سے لاگت بڑھ جائے گی اور دونوں ملکوں میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
بعض تاجروں کا خیال ہے کہ طالبان کی جانب سے جو ٹیکس لگایا گیا ہے وہ بہت زیادہ نہیں، اصل مسئلہ بغیر رکاوٹ کے تجارتی اشیاء کی آمد و رفت ہے۔
افغان طالبان کا اثر و رسوخ بڑھنے کے بعد پاک افغان چمن اور اسپن بولدک سرحدوں پر دونوں ممالک کے مابین کسٹم قوانین اور سسٹم کے حوالے سے پیچیدگیاں سامنے آرہی تھیں اور دونوں ممالک میں تجارت معطل ہوگئی تھی۔ اب افغان طالبان کی جانب سے 20 صفحات پر مشتمل کسٹم ٹیرف جاری کیا گیا ہے۔
سماء ڈیجٹل کو حاصل ہونیوالے اس ٹیرف ڈاکیومنٹ کے مطابق 376 اشیاء کی آمد و رفت پر ٹیکس لیا جائے گا، ان اشیاء میں کرین، ایسکیویٹر، الیکٹرانکس آئٹمز، جانور، ادویات، عام استعمال اور کھانے پینے کی اشیاء شامل ہیں، جس پر ٹیکس کی شرح تعداد اور ٹن کے حساب سے مقرر کی گئی ہے۔
فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور چمن چیمبر آف کامرس کے سابق صدر انجینئر دارو خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ڈبل ٹیکس غیر اعلانیہ طور پر کافی عرصے سے لیا جارہا ہے، خاص طور پر ایران سے آنے والے سامان پر افغان حکومت بھی ٹیکس لیتی تھی اور طالبان بھی، لیکن اب باضابطہ طالبان کی جانب سے ٹیکس لگایا گیا ہے، یہ ڈبل ٹیکس بھی بعض علاقوں میں تو ہوگا لیکن جہاں تجارتی سامان دو مختلف فریقوں کے علاقوں سے نہ گزرتا ہو تو وہاں سنگل ٹیکس ہی ہوگا۔
دارو خان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان نے جو ٹیکس لگایا ہے وہ بہت زیادہ نہیں اصل مسئلہ بلا رکاوٹ تجارت ہے، اگر وہ جاری رہتی ہے تو ڈبل ٹیکس سے بھی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
پاک افغان تجارت سے منسلک اور سرحد چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر شاہد حسین کے مطابق چمن بارڈر بند ہونے سے تجارت معطل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے سبزی، پھل ضائع ہوئے اور تاجروں کو کافی نقصان ہوا، اسی طرح غلام خان اور خرلاچی بارڈر پر بھی لاء اینڈ آرڈر کی مخصوص صورتحال کی وجہ سے تجارتی آمد و رفت متاثر ہوئی اور تاجروں کو ڈیمرج کا بھی نقصان اٹھانا پڑا، البتہ طورخم بارڈر پر تجارتی اشیاء کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہی۔
شاہد حسین کے مطابق طورخم بارڈر پر تو ڈبل ٹیکسیشن نہیں ہوگی البتہ چمن بارڈر پر ڈبل ٹیکسیشن کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے لیکن یہ ٹیکس بہت زیادہ نہیں ہے، تاجروں کیلئے ڈبل ٹیکسیشن سے زیادہ بلارکاوٹ تجارتی آمد و رفت ہے، دونوں ممالک بہت ساری اشیاء کیلئے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، تاجروں کیلئے پُرامن اور محفوظ طریقے سے تجارت جاری رہنا زیادہ ضروری ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube