Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

اجتماعی قربانی میں شہریوں کی دلچسپی،فلاحی اداروں میں حصہ سستاکیوں؟

SAMAA | - Posted: Jul 14, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 14, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ دینی مدارس اور فلاحی ادارے بڑے جانوروں میں 12 تا 13 ہزار روپے فی کس کے حساب سے بکنگ کررہے ہیں جب کہ گلی محلے اور برادریوں کی سطح پر مختلف جانور کے وزن و قیمت کے لحاظ سے 15 تا 20 ہزار روپے فی کس حصہ آنے کی توقع ہے۔
دینی مدارس اور فلاحی اداروں کے منتظمین کے مطابق اجتماعی قربانی میں شہریوں کی جانب سے بھرپور دلچسپی نظر آرہی ہے جب کہ مویشی منڈیوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے والے مویشیوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اور اس رینج میں اجتماعی قربانی کی نیت سے شہری جانور خریدتے ہیں۔
دینی مدارس اور فلاحی اداروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں دو طرح کی بکنگ ہورہی ہے ایک وقف قربانی جس میں بکنگ کرنے والے کی گوشت کی ڈیمانڈ نہیں ہوتی بلکہ وہ تاکید کرتے ہیں کہ ان کے حصے کا گوشت مستحقین میں تقسیم کیا جائے جب کہ دوسری کیٹیگری ان لوگوں کی ہے جو اپنے حصے کی رقم دے کر قربانی کے بعد گوشت لیتے ہیں۔ اجتماعی قربانی میں بکروں، گائے اور بیل کی بکنگ ہورہی ہے لیکن زیادہ رجحان بڑے جانوروں میں حصہ ڈالنے کا ہے۔
شہریوں کی ایک بڑی تعداد گلی محلے، برادریوں اور سوسائٹیز کی سطح پر بھی اجتماعی قربانی کا انتظام کرتی ہے۔ رواں سال بھی یہ رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کے نرخوں کے مطابق ایک لاکھ روپے تک کے جانور کا حصہ 15 ہزار روپے، تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار روپے کے جانور کا حصہ 18 ہزار روپے اور ڈیڑھ لاکھ روپے والے جانور کا حصہ 22 ہزار روپے تک پڑ رہا ہے جس میں ٹرانسپورٹیشن اور ایک دو دن کے چارے کی قیمت بھی شامل ہے اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالنے والے بیشتر افراد خود ہی جانور ذبح کرتے ہیں جبکہ جو قصائی کی خدمات لیتے ہیں ان کا حصہ اس حساب سے بڑھ جاتا ہے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ دینی مدارس اور فلاحی اداروں میں حصہ سستا کیوں ہوتا ہے تو اس حوالے سے ان اداروں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں جانور لاتے ہیں جس میں ایک جانور 65 ہزار تا75 ہزار روپے کا آتا ہے۔ ایسے جانور کسی قدر وزن میں کم ہوتے ہیں لیکن پنجاب اور اندرون سندھ سے بڑی تعداد میں لائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سستے پڑتے ہیں۔
اجتماعی قربانی کا ارادہ کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ دینی مدارس اور فلاحی اداروں کی اجتماعی قربانی میں حصے کا ریٹ تقریباً پچھلے سال کے مطابق ہی ہے جب کہ اپنے طور پراجتماعی قربانی کرنے والوں کے مطابق جانوروں کے نرخوں کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تو لگتا ہے کہ فرق نہیں پڑے گا۔ چارے کے نرخوں میں بھی زیادہ فرق نہیں آیا البتہ ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے کی وجہ سے حصہ گزشتہ سال کی نسبت قدرے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube