Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

پرائز بانڈز کے نمبروں پرسٹےکا متبادل طریقہ ڈھونڈ نکالا گیا

SAMAA | - Posted: Jul 9, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 9, 2021 | Last Updated: 3 months ago

Gambling

پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی بند ہونے پر بانڈز پرچی کے سٹہ بازوں نے غیر ملکی لاٹریوں پر سٹہ کھلانا شروع کر دیا ہے اور رواں ماہ جولائی میں 15 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی نہ ہونے پر پہلی مرتبہ تھائی لینڈ کی آن لائن لاٹری پر جوا کھیلا گیا۔

اگلے مہینوں میں سٹہ باز تھائی لینڈ کے علاوہ دبئی، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی لاٹریوں کو استعمال کرنے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پرائز بانڈز بند کیے جا رہے ہیں اور اب تک 40 ہزار، 25 ہزار، 15 ہزار اور ساڑھے 7ہزار روپے کی مالیت کے پرائز بانڈز کی لین دین روکی جا چکی ہے جب کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں سال کے آخر تک بقیہ بانڈز یعنی 1500 روپے، 750 روپے، 200 روپے اور 100 روپے  مالیت کے بانڈز بھی بند کر دیے جائیں گے۔

پرائز بانڈز کی بندش کے اعلان کے بعد انعامات کی غرض سے بانڈز رکھنے والوں سے زیادہ ان بانڈز کی قرعہ اندازی کے نام پربانڈ پرچی کا ماہانہ اربوں روپے کا غیر قانونی دھندہ کرنے والے پریشان ہوگئے تھے کیوںکہ وہ انہی بانڈز کے نمبرز پر سٹہ کھیلتے تھے تاہم سٹہ بازوں نے اپنا دھندہ بچانے کی غرض سے بالآخر اس کا حل ڈھونڈ نکالا اور یکم جولائی کو 15 ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی نہ ہونے پر انہوں نے تھائی لینڈ کی ایک لاٹری کو بنیاد بنا کر اسی انداز میں نمبر کاٹے اور قرعہ اندازی کے نمبرز پر اسی طرح سٹہ کھلایا جس طرح وہ پرائز بانڈز کے نمبر کو استعمال کرتے تھے۔

بانڈز پرچی کے دھندے سے منسک افراد کے مطابق جو بانڈز ابھی ختم نہیں ہوئے اور جن کی قرعہ اندازی ہونی ہے ان بانڈز پر تو جوا کھیلا جائے گا لیکن جن تاریخوں میں بانڈز کی قرعہ اندازی نہیں ہوگی ان میں تھائی لینڈ کی لاٹری کو استعمال کیا جائے گا۔ تھائی لینڈ کی لاٹری کا جولائی میں کامیاب استعمال کیا گیا لیکن پھر بھی متبادل کے طور پر دبئی، برطانیہ اور امریکہ کی آن لائن لاٹریوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

بانڈز پرچی کا دھندہ کس طرح ہوتا ہے؟

پاکستان میں مختلف مالیت کے پرائز بانڈز کی کئی عشروں سے لین دین ہورہی ہے انعامات نکلنے کی امید پر شہری پرائز بانڈز خریدتے رہے ہیں لیکن اس پورے قانونی عمل کے ساتھ ساتھ شروع سے ہی ایک غیر قانونی دھندہ بھی چلتا آرہا ہے جس میں پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کے بجائے اس کے نمبرز کو استعمال کرکے ان نمبرز پر سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ یہ جوا کھیلنے والا بکی کو نمبر لکھواتا ہے اگر اس کا لکھوایا ہوا نمبر قرعہ اندازی میں آنے والے نمبرز سے میچ کرتا ہے تو اسے اس کی لگائی گئی رقم کے تناسب سے رقم دی جاتی ہے۔

سٹے میں استعمال ہونے والی رقم اور انعامات کا پرائز بانڈز کے اس سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بس صرف بانڈز کے نمبر وں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پرائز بانڈ مارکیٹ کے ایک ڈیلر کے مطابق شروع میں یہ دھندہ کھلے عام چلتا تھا لیکن سن 1999میں اس پر پابندی لگا دی گئی جس کے بعد چوری چھپے سارا کام ہوتا ہے۔ تقریباً ہر علاقے میں ہی یہ نیٹ ورک موجود ہے جس میں بروکرز بکنگ کرتے ہیں اور وہی بروکرز جیتنے کی صورت میں زائد رقم دینے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے پولیس کا کام ہے کہ وہ اس جوئے کو روکے لیکن مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں ہی یہ سارا دھندا ہو رہا ہے۔

محمدی کالونی (مچھر کالونی) کے ایک سٹہ کھیلنے والے 28سالہ جوان نے بتایا کہ ہر علاقے میں بانڈز پرچی والے بروکرز ہوتے ہیں جن کو نمبرز لکھوائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی وہ جتنی رقم لگانی ہے اس کی پرچی دے دیتے ہیں، بنیادی طور پر پرائز بانڈ کے شروع کے 4 نمبروں پر سٹہ کھیلا جاتا ہے جس میں پہلے 2 نمبرز کو آکڑا، پہلے تین نمبرز کو ٹنڈیلہ اور 4 نمبرز کو فور کاسٹ کہتے ہیں جب کہ درمیانے دو نمبروں کو بیک آکڑا کہا جاتا ہے۔

قرعہ اندازی میں 100 روپے کا آکڑا کھیلنے والے کی قرعہ اندازی میں نمبر میچ ہونے کی صورت میں 8 ہزار روپے اور ٹنڈیلہ کے نمبر میچ ہونے کی صورت میں 63 ہزار روپے اور فورکاسٹ کے نمبر میچ ہونے پر چار لاکھ روپے دیے جاتے ہیں جبکہ 100روپے کا بیک آکڑا میچ ہونے کی صورت میں بھی 8 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔

دھوراجی کے رہائشی 45 سالہ شخص نے بتایا کہ بروکرز 6 فیصد پرچی کاٹتے ہوئے اور انعام پر 10 فیصد کمیشن کاٹتے ہیں۔ ہے تو یہ سارا کام غلط لیکن ایمانداری سے ہوتا ہے اور کبھی نہیں سنا کہ انعام نکلنے پر رقم نہ دی گئی ہو کیوں کہ یہ سارا کروڑوں روپے کا دھندہ اعتماد کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ اس نے بتایا کہ ایک بار ایک بروکر نے نمبر کی پرچی بنوائی لیکن آگے نہیں لکھوایا اور وہ نمبر نکل آیا جس پر اس بروکر کو اپنی جیب سے 8 لاکھ روپے دینے پڑے۔

کورنگی کے ایک جواری کا کہنا ہے کہ ہر مہینے کی پہلی اور 15 کو بانڈز کی قرعہ اندازی ہوتی رہی ہے اور ان دونوں تاریخوں کی رات کو چاند رات کہا جاتا ہے جس میں جواری پوری رات جاگتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس حوالے سے سوچ سمجھ کر نمبرز لکھوائے جاتے ہیں جب کہ سٹہ کھیلنے والے کافی حد تک نفسیاتی مریض بھی بن جاتے ہیں دیواروں پر لگے اشتہار میں دیے گئے موبائل نمبرز، آنے والی فون کالز، گزرتی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس اور مختلف تاریخوں سے نمبر نکالتے ہیں بعض مخصوص رویوں اور باتوں سے بھی نمبرز نکالتے ہیں جیسے کہ گھر میں داخل ہونے پر بیوی کے غصے کا مطلب فلاں نمبر اور خاموشی کا فلاں نمبر ہوگا۔

کھارادر کے ایک سٹہ کھیلنے والے لڑکے کے مطابق سٹہ کھیلنے والے پیروں، فقیروں کے چکر میں بھی جلد آجاتے ہیں کئی لوگوں نے ان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امتحانی گیس پیپرز کی طرح پوسٹرز بھی بنانے شروع کردیے ہیں جو فروخت کیے جاتے ہیں جب کہ کئی سوشل میڈیا گروپ بھی بن گئے ہیں جن میں سٹہ کھیلنے والوں کو لکی نمبر دینے کے نام پر لوٹا جاتا ہے۔

سٹہ کھیلنے والے افراد کے مطابق بانڈز پرچی کاٹنے کی ایک ایسی لت ہے جس کو پڑ جائے بڑی مشکل سے جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹہ کھیلنے والے عموماً فائدے میں نہیں رہتے کیوں کہ وہ ایک بار جیتنے کے بعد جیتی ہوئی رقم مزید لالچ میں لگا دیتے ہیں اور ہار جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل فائدے میں صرف سٹہ کھلانے والے ہی رہتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube