Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

کراچی کے بلڈرز شہر چھوڑ کر جانے لگے

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago

کراچی سے بلڈرز ملک کے دیگر شہروں خاص طور پر اسلام آباد اور لاہور کا رخ کررہے ہیں جبکہ بعض بلڈرز پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی مختلف تعمیراتی منصوبوں میں قسمت آزمائی میں مصروف ہیں۔

سابق چیئرمین آباد اور نائب صدر فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز عارف جیوا بھی کراچی کے ان بلڈرز میں شامل ہے جو اس وقت اسلام آباد میں تعمیراتی پراجیکٹس کے سلسلے میں مصروف ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں سسٹم کافی پیچیدہ ہے، ایک تعمیراتی پراجیکٹ کی منظوری میں 2 سال لگ جاتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) 2 سے 3 ماہ میں اور لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) 45 دن میں پراجیکٹ کی اپرول دے دیتے ہیں۔ کراچی میں پلان، نقشہ منظوری اور ڈیڑھ درجن سے زائد اداروں سے این اوسیز لینی پڑتی ہے جبکہ اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں یہ سسٹم اتنا پیچیدہ نہیں، جس کی وجہ سے بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کراچی کے بجائے دیگر شہروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

عارف جیوا کا کہنا ہے کہ کراچی کی کنسٹرکشن انڈسٹری کے 20 سے 25 بڑے نام اسلام آباد اور لاہور میں کام کررہے ہیں، بلڈرز پہلے بھی کراچی میں زیادہ خوش نہیں تھے لیکن پہلے دیگر شہروں میں کراچی کی طرح کسٹمرز کے مواقع نہیں تھے، اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے بھی تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا جارہا ہے، بینکوں سے قرض آسانی سے اور کم شرح سود پر مل رہے ہیں اور دیگر معاملات میں بھی سہولت دی جارہی ہے، جس سے کراچی کے بلڈرز دیگر شہروں میں فائدہ اٹھارہے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف بلڈرز ایسوسی ایشن (آباد) کے چیئرمین فیاض الیاس کے مطالق کراچی میں تعمیرات سے منسلک افراد کیلئے ماحول سازگار نہیں ہے، لینڈ پرچیز، بلڈنگ اپرول سے لے کر ڈپارٹمنٹل ایشوز کی ایک لمبی فہرست ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر شہریوں میں یہ مسائل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے کراچی کے بلڈرز دیگر شہروں میں جارہے ہیں اس کا نقصان کراچی کے شہریوں کو ہوگا جو غیر قانونی مکانات لینے پر مجبور ہونگے اور کچی آبادیاں مزید بڑھ جائیں گی۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت کے کم لاگت مکانات کی اسکیم سے اس وقت سب سے زیادہ صوبہ پنجاب فائدہ اٹھارہا ہے جبکہ سندھ کا سسٹم اس قدر پیچیدہ ہے کہ حکومتی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے درکار دستاویزات مکمل ہونے تک اسکیم ہی ختم ہوچکی ہوگی۔

فیاض الیاس کے مطابق ایس بی سی اے میں ون ونڈو قائم کیا گیا ہے لیکن عملدرآمد نہیں ہورہا، حکومت کو ان تمام ایشوز کی جانب توجہ دینی چاہئے تاکہ شہر میں تعمیراتی سرگرمیاں بھی بھرپور انداز میں جاری رہ سکے اور شہریوں کی رہائش کے حوالے سے ضروریات پوری ہوسکے۔

بلڈرز اور ریئل اسٹیٹ سے منسک افراد کا کہنا ہے کہ کراچی میں یہ ایشوز پہلے بھی تھے لیکن اب جس طرح تجاوزات کے خلاف آپریشن اور قانونی معاملات سامنے آرہے ہیں اس کی وجہ سے بلڈرز مزید پراجیکٹس سے گریز کررہے ہیں تاہم چونکہ انہیں فری ٹیکس رجیم، آسان بینک قرضوں اور دیگر مراعات سے بھی فائدہ اٹھانا ہے اس لئے وہ دیگر شہروں کا رخ کررہے ہیں،

ڈیفنس اینڈ کلفٹن ایسوسی ایشن آف ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے صدر زبیر بیگ کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو دہرے نقصان کا سامنا ہے ایک تو نئے پراجیکٹس اس طرح نہیں آرہے جس طرح کی توقع ظاہر کی جارہی تھی، اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سینکڑوں بلڈنگز ایسی ہیں جس کے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ نہیں لئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے جب شہری کسی فلیٹ کی خریداری کیلئے بینک کے پاس جاتے ہیں تو ان کی درخواست مسترد ہوجاتی ہے۔

زبیر بیگ کے مطابق وفاقی حکومت کو آسان گھر اسکیم کے تحت کراچی کے کم آمدن طبقے کو سپورٹ کرنے کیلئے اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے میں ون ونڈو سہولت دی گئی ہے جان بوجھ کر تاخیری حربے نہیں آزمائے جاتے، عام شہریوں کے پاس قانونی تقاضے پورے ہوں تو فوری اپرول دیدی جاتی ہے، بلڈرز تو شہر کو کاروبار دیتے ہیں، ان کے اپرول میں کیوں وقت لگائیں گے؟، اگر کسی کیس میں وقت زیادہ لگتا ہے تو اس کی وجہ مطلوبہ دستاویزات کی کمی ہوتی ہے، جس کے بغیر اپرول نہیں دی جاسکتی اور ان ڈاکیومنٹیشن میں وقت لگ جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube