Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

سونے کے کاروبار پرحکومت کی کڑی نظر، جیولرز میں بیچینی

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago

Gold-web (1)

حکومتی اداروں نے سونے اور اس سے بنے زیورات کی خرید و فروخت کی سخت مانیٹرنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے بڑے جیولرز سے ان کے زیر استعمال سرمائے اور لین دین کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے جیولرز، درآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل گئی ہے اور انہوں نے 9 جولائی کو لاہور میں ملک گیر اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق سونے اور زیورات کی خرید و فروخت کی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس کا مقصد منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسگ کے تمام راستوں کو بند کرنا ہے۔

اس سے قبل پرائز بانڈز کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے تحت بڑی مالیت کے بانڈز بند ہوچکے ہیں اور اب سونے اور زیورات کی لین دین کی مانیٹرنگ بڑھادی گئی ہے، جس کے تحت اسٹیٹ بینک کا فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور ایف بی آر کا خصوصی اینٹی منی لانڈرنگ و ٹیرر فنانسنگ یونٹ فعال ہوگیا ہے۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے سونے کی لین دین کے مراکز پر پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔

ایف اے ٹی ایف سونے و زیورات کے کاروبار کی مانیٹرنگ بڑھانے پر کیوں اصرار کررہا ہے؟

ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کی مالی اعانت کے تمام راستوں کو روکنا چاہتی ہے، جس میں نقد رقوم کی لین دین اور بینکنگ چینل کے روایتی طریقوں کے حوالے سے کافی اقدامات کرلیے گئے ہیں جبکہ غیر روایتی طریقوں میں پرائز بانڈز کی خرید و فروخت بند کی جارہی ہے اور اب سونے و زیورات کی خرید وفروخت کے حوالے سے بھی نگرانی بڑھائی جارہی ہے۔

کروڑوں روپے کا کالا دھن سونے یا بانڈز میں منتقل کرکے گھروں، دفاتر یا کہیں بھی رکھے جاسکتے ہیں جبکہ بانڈز اور سونے و زیورات کی ملکیت بھی متعین نہیں ہوتی اور وہ جس کے ہاتھ میں ہو وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔ لہٰذا ایف اے ٹی ایف حکام کا خیال ہے کہ دہشت گردی کی مالی اعانت میں پرائز بانڈز، سونا و زیورات بھی استعمال ہوسکتے ہیں، اس لئے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان پر اس شعبے کو ریگولرائز کرنے اور لین دین کی مانیٹرنگ کیلئے دباوٗ ڈالا جارہا ہے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق ملکی صرافہ مارکیٹوں میں یومیہ کروڑوں روپے کے سونے اور اس سے بنے زیورات کی لین دین ہوتی ہے لیکن اس خرید وفروخت پر سیلز ٹیکس اور حاصل آمدن پر انکم ٹیکس نہیں دیا جاتا۔ ایف اے ٹی ایف کی شرط اپنی جگہ لیکن اتنے بڑے شعبے کی آمدن اور لین دین کو ٹیکس نیٹ میں لانا بھی ضروری ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

جیولرز سے پوچھ گچھ شروع ہونے پر ملک بھر کے سنار اور سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں اور گزشتہ ہفتے میٹھادر صرافہ مارکیٹ اور صدر صراف مارکیٹ میں ہنگامی اجلاس بھی ہوئے اور آن لائن مشاورت کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 جولائی کو لاہور میں اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں ملک بھر کے صراف رہنماء شرکت کریں گے اور مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے۔

آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ہارون رشید چاند نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سناروں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں جنہیں سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلئے کہا جا رہا ہے جو ممکن نہیں اور اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں آکر جیولرز کو 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سونے و زیورات کی لین دین کے بارے میں آگاہ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

حاجی ہارون رشید چاند نے کہا کہ ان اقدامات سے جیولرز کو کاروبار میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں جس کیلئے ہم لاہور میں اکٹھے ہورہے ہیں تاکہ اس صورتحال کے حوالے سے کوئی ایکشن پلان ترتیب دیا جاسکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
gold kay karobar par hakoomat ki nazar, sonay kay karobar
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube