Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

 جھینگے کے شکار پر پابندی، بیوپاریوں کیلئے کمائی کا سیزن

SAMAA | - Posted: Jun 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago

سندھ حکومت کی جانب سے جھینگے کے شکار پر ہر سال جون و جولائی کے مہینوں میں پابندی عائد کردی جاتی ہے، جس کا مقصد بریڈنگ سیزن ہونے کے باعث جھینگے کی افزائش کو فروغ دینا ہے۔

رواں سال بھی یکم جون سے لانچوں کی روانگی بند ہے جبکہ یکم جون سے قبل گہرے سمندر میں شکار پر جانیوالی لانچوں کی واپسی تاحال جاری ہے، اس کے علاوہ چھوٹی لانچوں میں ماہی گیر بھی چوری چھپے شکار کیلئے نکلتے ہیں، جن کے جالوں میں مچھلی کے ساتھ جھینگا بھی آجاتا ہے لیکن انہیں پابندی کے باعث جھینگے کی فروخت میں مشکل پیش آتی ہے اور بیوپاری ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سستے داموں جھینگا خریدتے ہیں۔

ماہی گیروں سے حاصل معلومات کے مطابق مقامی طور پر عام شہری کلری جھینگا زیادہ خریدتے ہیں، جس کو بیوپاری ماہی گیروں سے موسم سرما میں 600 روپے فی کلو تک خریدتے تھے لیکن اس وقت ایک طرف گرمی کے باعث طلب کم ہے اور دوسری جانب فروخت بھی غیر قانونی ہے، جس کے سبب بیوپاری ماہی گیروں سے کلری جھینگا بمشکل 350 روپے فی کلو میں خرید رہے ہیں۔

بڑے ریسٹورنٹس ٹائیگر اور جھیرا نامی جھینگوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، جھیرا موسم سرما میں 500 تا 800 روپے فی کلو میں ماہی گیروں سے خریدا جاتا تھا جو بیوپاری اب بمشکل 250 تا 500 روپے میں خرید رہے ہیں، اسی طرح ٹائیگر نامی جھینگا ماہی گیروں سے سیزن میں سائز کے حساب سے 800 تا 1600 روپے فی کلو میں بک جاتا تھا، اب یہی جھینگا 400 روپے میں خریدا جارہا ہے۔

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ جھینگے کی خریداری زیادہ تر سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس سے منسلک بیوپاری کرتے ہیں جو سستے داموں ماہی گیروں سے جھینگا خرید کر اپنی فیکٹریوں میں فریز کردیتے ہیں اور بعد میں ایکسپورٹ کرتے ہیں، اگر کسی فیکٹری میں مال پکڑا بھی جائے تو وہ پرانا اسٹاک ظاہر کردیتے ہیں۔

تاہم فیکٹری مالکان ان اطلاعات کی تردید کرتے ہیں۔

نیٹو آئی لینڈر فشرمین ایسوسی ایشن کے صدر آصف بھٹی کے مطابق سندھ حکومت ہر سال شکار پر پابندی عائد کرتی ہے لیکن انہیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ ماہی گیر ان دو مہینوں میں کھائیں گے کہاں سے؟۔ نوٹی فکیشن کے مطابق جھینگے کے شکار پر پابندی ہے لیکن اس آڑ میں مچھلی کا شکار بھی بند کردیا جاتا ہے، کراچی فش ہاربر، بابا اور بھٹ جزائر سے تو شکار پر جانا ممکن نہیں لیکن ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ، کیٹی بندر وغیرہ سے ماہی گیر قریبی سمندر میں شکار کیلئے نکل جاتے ہیں لیکن جو شکار کرکے لاتے ہیں اس کی قیمت ہی اتنی کم ہوتی ہے کہ ان کے خرچے ہی پورے نہیں ہوتے۔

فش ہاربر (فشری) سے حاصل معلومات کے مطابق مچھلی کی مختلف اقسام کی قیمتیں بھی کافی کم ہیں اور ماہی گیروں سے مشکہ 300 روپے روپے، کھگہ 120 تا 200 روپے سفید پاپلیٹ 500 روپے تک، کالا پاپلیٹ 400 تا 700 روپے فی کلو، سرمئی 300 روپے اور دندیا 200 تا 300 روپے میں خریدی جارہی ہے۔

لانچوں کو برف فراہم کرنے والے حاجی نثار کا کہنا ہے کہ مچھلی اور جھینگے کی قیمتیں اتنی کم ہیں کہ لانچ مالکان کا خرچہ ہی پورا نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بڑی لانچیں تقریباً واپس آگئیں ہیں۔

بابا جزیرے سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ لانچ مالک حاجی ستار کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر ایک بات نسل در نسل چلی آرہی ہے کہ جن مہینوں میں ”ر“ نہیں آتا، ان مہینوں میں مچھلی و جھینگا نہیں کھانا چاہئے، ان مہینوں میں مئی، جون، جولائی اور اگست شامل ہیں، اس وجہ سے اور کچھ گرمی کی وجہ سے بھی مچھلی و جھینگے کی فروخت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ بیوپاری آف سیزن اور سندھ حکومت کی پابندی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حکومت کو اس عرصے میں ماہی گیروں کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے کوئی پالیسی وضع کرنی چاہئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube