Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

کراچی:سپرہائی وے مویشی منڈی عارضی روزگارکاذریعہ بن گئی

SAMAA | - Posted: Jun 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago

کراچی میں سپر ہائی وے پر بنائی گئی مویشی منڈی کے ساتھ ہی ہوٹل، اسٹالز اور کیبن بھی عارضی روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

سپر ہائی وے کی مویشی منڈی میں ملک کے مختلف حصوں سے قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ دوسری جانب منڈی نے بڑی تعداد میں لوگوں کو عارضی روزگار کا ذریعہ بھی فراہم کردیا ہے۔

لوگ کی بڑی تعداد میں منڈی کا رخ کرنے والے منڈی کے ساتھ بنائے گئے ہوٹلز، کیب، اور اسٹالز سے اشیا خرید رہے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق مویشی منڈی میں آنے والے شہریوں کے کھانے، پینے اور دیگر ضروریات کے لحاظ سے ہوٹل، دکانوں اور اسٹالز کی بکنگ جاری ہے جب کہ ہاکرز بھی بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔

منڈی کے ہر بلاک میں جانوروں، ہوٹل، دکانوں اور کیبنز کیلئے جگہ مخصوص ہے، جس کے سائز اور لوکیشن کے لحاظ سے کرائے مقرر کئے گئے ہیں۔ کھانے پینے کے ہوٹل کیلئے 30بائی 60 فٹ ہوٹل پرائم لوکیشن کا کرایہ90ہزار روپے، جب کہ اسی سائز کے عام لوکیشن کا کرایہ 55ہزار روپے لیا جارہا ہے۔ 15 بائی 30 فٹ کے دکان کا کرایہ 50ہزار روپے اور 8 بائی 8 فٹ کے کیبن کا کرایہ 25 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔

ہاکر سے 5 ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ تجارتی مقاصد کیلئے ان جگہوں کی بکنگ کرنے والے کنٹریکٹر محمد حسن نے سماء ڈیجیٹل سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہاکر بڑی تعداد میں آچکے ہیں۔ دکانوں، ہوٹل اور کیبنز کی بکنگ بھی جاری ہے، لیکن ابھی کافی گنجائش ہے۔ اگلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں ساری بکنگ بھی مکمل ہوجائے گی اور جانور وں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی جس کے بعد منڈی کی رونقیں عروج پر ہوں گی۔

محمد حسن کے مطابق کرائے فکس ہیں، خریداروں کا رش اور کاروبار اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ یہ کرائے روزگار کرنے والوں پر بوجھ نہیں بنتے۔ عید قرباں سے قبل تقریباً ایک ماہ مویشی منڈی بڑے کاروباری سیزن کی حیثیت رکھتا ہے جس میں نہ صرف بیوپاری اور بڑے بڑے فارم ہاوس جانور فروخت کرنے کے لئے آتے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے، چارہ، کرسی، قناتیں، قالین، ساونڈ سسٹم اور دیگر ضروری اشیاء کرائے پر دینے والے تاجروں کو بھی عارضی طور پر کاروباری مواقع ملتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منڈی لگنے کے بعد جانور لانے والی گاڑیوں میں ٹرک 22 وہیلر، پک اپ اور منی ٹرک مالکان بھی متحرک ہوگئے ہیں، تاہم تاجروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ منڈی انتظامیہ کے کرائے زیادہ ہونے کی وجہ سے جانوروں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہو رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ منڈی انتظامیہ کو کرائے کم رکھنے چاہیے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔ مویشی منڈی کے میڈیا کو آرڈینیٹر ذکی ابڑو کے مطابق اب تک منڈی میں 22ہزار سے زائد جانور پہنچائے جاچکے ہیں، جہاں مزید اسٹالوں کی بکنگ بھی جاری ہے اور شہریوں کی آمد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ موسم بھی بہتر ہونے سے رونق میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube