Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

سندھ کا ٹیکس فری بجٹ پیش،گاڑیوں کی خریداری پرپابندی لگانےکافیصلہ

SAMAA | and - Posted: Jun 15, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Jun 15, 2021 | Last Updated: 4 months ago

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ 2021 پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں صوبے میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ جب کہ صوبے بھر میں کم از کم اجرت 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت آج منگل 15 جون کو سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد کیا گیا،جس میں کابینہ نے نئے مالی سال 22-2021 کے ترقیاتی بجٹ پر بحث کے بعد منظوری دی۔ جس کے بعد دوپہر 4 بجے مراد علی شاہ کی جانب سے اسمبلی اجلاس میں بجٹ 2021 پیش کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کی تقریر شروع ہوتے ہی شور شرابہ شروع ہوگیا۔ جس پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو ان کی جماعت کے رہنماؤں نے حصار میں لے لیا۔ اپوزیشن ارکان بجٹ تقریر کے دوران ایوان میں سیٹھی بجا کر احتجاج کرتے رہے۔

وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مجموعی حجم 1477 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے کیلئے 250 ڈیزل ہائبرڈ الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی۔

انڈس اسپتال کیلئے سالانہ گرانٹ 2.5 ارب روپے مقرر

انڈس اسپتال کی توسیع کیلئے2 ارب روپے مقرر

بسوں کی خریداری کیلئے بھاری رقم بجٹ میں شامل، تاہم اس رقم سے متعلق بجٹ تقریر میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

سندھ میں محکمہ اطلاعات کیلئے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تعلیم کیلئے 286 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کراچی کے ماس ٹرانزٹ کیلئے 28 ارب روپے مختص

بجٹ میں 10 فیصد پینشن میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

سندھ میں کم از کم اجرت 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

بجٹ میں سندھ کی عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔

تنخواہوں میں 20فیصد اضافے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

صوبائی کابینہ نے سندھ میں سولرانرجی پر250 ٹیوب ویل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سولر انرجی ٹیوب ویلز کی لاگت 495 ملین روپے ہوگی۔

عبداللہ کالج تا قلندریہ چوک شاہراہ کی تعمیر کیلئے 1ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئےہیں۔

غریبوں کیلئے 30 ارب 40 کروڑ کا خصوصی پیکج متعارف کرائیں گے۔

کرونا متاثرین کی امداد کے 10 ارب روپے بھی اسی پیکیج میں شامل ہیں۔

یونیورسٹی پوزیشن ہولڈرز اسکالرشپ کیلئے 1 ارب 20 کروڑ روپے ہوگی۔

نویں سے بارہویں جماعت تک مفت تعلیم کیلئے 2 ارب رکھے جائیں گے۔

کسانوں کو کھاد، بیج اور ادویات کی فراہمی کےلیے 3 ارب روپے دیئے جائیں گے۔

کم قیمت گھروں کی تعمیر کے لیے 2 ارب روپے بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube