Tuesday, August 3, 2021  | 23 Zilhaj, 1442

بجٹ 22-2021ء: مقامی گاڑیوں پر ایکسائزڈیوٹی اور سیلزٹیکس میں چھوٹ

SAMAA | - Posted: Jun 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ بجٹ مستحکم معاشی کارکردگی کی نويد ثابت ہوگا، اس بجٹ میں ہر کسی کیلئے کچھ نہ کچھ موجود ہے، یہ ترقیاتی بجٹ ہے، ملکی ترقی کا ضامن ثابت ہوگا، اس ميں ملک کے پسماندہ طبقے کا خاص خيال رکھا گيا ہے، کسان ايکسپورٹ کرے گا تو زراعت مستحکم ہوگی۔

جمعہ 11 جون کو بجٹ پیش کرنے کے موقع پر شوکت ترین کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے مرد و خواتین اراکین نے احتجاجی پلے کارڈز اٹھالیے، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں تنبیہ کی۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے قرض ليکر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے، ہمارا بڑا چيلنج ملک کو ديواليہ ہونے سے بچانا تھا، معاشی ترقی ميں اضافے کی شرح ہر شعبے ميں ريکارڈ کی گئی، کپاس کے سوا تمام فصلوں کی ريکارڈ پيداوار ہوئی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ تباہ حال معیشت بحالی کی جانب جا رہی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پاليا۔ اس سال برآمات ميں 14 فيصد اضافہ ہوا۔ ہم معاشی گروتھ کلب ميں شامل ہوگئے ہيں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی ادائيگياں کرنا پڑیں، ورنہ ملک ديواليہ ہوجاتا، اخراجات ميں کفايت شعاری اپنائی گئی، ہم معاشی گروتھ کلب ميں شامل ہوگئے ہيں، شرح نمو ميں اضافے پر تنقيد کرنیوالوں کے پاس دليل نہيں، کرونا کی وجہ سے معاشی استحکام ميں وقت لگا، معاشی استحکام آچکا ہے، ترقی کی جانب چل پڑے ہیں، کم آمدنی والے طبقے کو احساس پروگرام سے امداد فراہم کی۔

بجٹ تقریر کا خلاصہ پوائنٹ کی شکل میں مندرجہ ذیل ہے۔

سیگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی۔

آئل فیلڈ، ویئر ہاؤس پر ود ہولڈنگ ٹیکس 8 سے کم کر کے 3 فیصد کردیا گیا۔

سی پیک کے نئے منصوبے 28 ارب ڈالر کے ہونگے۔

سی پیک میں 26 مزید منصوبے تجویز

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 13 ارب ڈالرز کی مالیت کے 17 پراجیکٹ مکمل

سی پیک میں 21 ارب ڈالرز مالیت کے 21 منصوبے جاری

فلاحی اداروں کو غیر مشروط ٹیکس سے چھوٹ دی جائیگی

کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے۔

افراد اور اداروں کی مد ميں ٹرن اوور ٹيکس 100 ارب کرنے کا اعلان

اسپيشل اکنامک زون کیلئے ٹرن اوور ٹیکس بھی ختم

گاڑیوں پر سيلز ٹيکس کو 17 فيصد سے کم کرکے ساڑھے 12 فيصد کرنے کا اعلان۔

فضائی سفر، ڈيبٹ کريڈٹ کارڈ اور معدنيات کی تلاش پر بھی ودہولڈنگ ٹيکس نہيں ہوگا۔

بينک سے رقم نکلوانے، اسٹاک مارکيٹ اور مارجن فائنانسنگ پر ودہولڈنگ ٹيکس کا خاتمہ

ايک ارب 10 کروڑ ڈالر ويکسين کی درآمد پر خرچ کریں گے۔

کرونا ایمرجنسی فنڈ کیلئے 100 ارب روپے تجويز۔

ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے 10 ارب اضافے کے ساتھ 480 ارب روپے مختص

مختلف شعبوں کیلئے سبسڈی کی مد میں 501 ارب روپے رکھنے کی تجویز

سبسڈی کا 30 فیصد پاور سیکٹر کیلئے رکھا جائے گا

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کیلئے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے

حکومت کا شہری گھرانوں کو قرض فراہم کرنے کا اعلان

حکومت کا نئے ٹیکس قوانین متعارف کرانے کا اعلان

ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی

حکومت کا بجٹ ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کرنیکا اعلان

ہر گھرانے کے ایک فرد کو مفت ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے گی۔

بجٹ 22-2021ء: 850 سی سی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی ختم۔

مقامی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کرنے کا اعلان

مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 7 ہزار 909 ارب روپے مقرر

ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 829 ارب جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار 80 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

کراچی ٹرانسفارميشن پلان کيلئے 739 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

پبلک پرائيويٹ پارٹنر شپ کے تحت 2 ہزار ارب کے 50 منصوبے بھی بجٹ کا حصہ۔

ایم ایل ون مںصوبے کو 3 مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔

کے ون، کے فور اور تربيلا منصوبے کيلئے 16ارب رکھے گئے ہیں۔

ہر کاشتکار کو ہر فصل کيلئے ڈيڑھ لاکھ روپے بلا سود قرض ملے گا

ترقياتی بجٹ 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب کردیا گیا

زيادہ منافع بخش پروجيکٹ ميں سرمايہ کاری کریں گے

ديامر اور بھاشا ڈيم کيلئے 23 ارب روپے رکھے گئے ہيں۔

پانی کے بحران سے نمٹنے کيلئے 10 سالہ منصوبہ بندی کرلی

آبی تحفظ کيلئے مجموعی طور پر 92 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجلی کے منصوبوں کيلئے 118 ارب روپے مختص۔

پی ايس ڈی پی کی مد ميں 118 ارب مختص، صوبوں کو 25 فیصد اضافی رقم فراہم کی جائے گی۔

داسو ہائيڈرو پاور منصوبے کيلئے 57 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ مکانات کی کمی ہے۔

آئی ايم ايف جانے سے بچنے کيلئے برآمدات بڑھانا اہم ہے۔

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 8 ہزار487 ارب روپے ہوگا۔

مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف7909ارب روپے مقرر کیا ہے۔

این ایف سی کے تحت صوبوں کو 3 ہزار 412 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔

وفاقی حکومت کے پاس اپنا بجٹ چلانے کیلئے صرف4497 ارب روپے بچیں گے۔

اگلے سال ہر گھرانے کو صحت کارڈ فراہم کيا جائے گا۔

فی کس آمدنی ميں 15 فيصد اضافہ ہوا۔

اس سال برآمدات ميں 14 فيصد اضافہ ہوا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پاليا گيا۔

ترسيلات زر ميں ريکارڈ اضافہ ہوا۔

زرمبادلہ کے ذخائر 3 ماہ سے زيادہ درآمدات کيلئے کافی ہيں۔

بیس ارب روپے ترقیاتی پراجیکٹ کیلئے رکھے گئے ہیں۔

ہر کاشتکار کو ہر فصل کيلئے ڈيڑھ لاکھ روپے بلا سود قرض ملے گا۔

ترقياتی بجٹ 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب کردیا گیا

زيادہ منافع بخش پروجيکٹ ميں سرمايہ کاری کریں گے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے  وزیر خزانہ شوکت آج بروز جمعہ 11 جون کو قومی اسمبلی میں 8 ہزار ارب کا بجٹ پیش کررہے ہیں جس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 900 ارب روپے اور دفاع کیلئے ایک ہزار 330 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس 4 بجے شروع ہوا۔ بجٹ تقریر کے آغاز پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔، جس کے باعث وزیر خزانہ شوکت ترین کو بجٹ تقریر کرنے کیلئے ہیڈ فون کا سہارا لینا پڑا۔

بجٹ پیش کرنے کے آغاز میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ورثے ميں ملنے والی تباہ حال معيشت بحال ہورہی ہے اور يہ کاميابی وزيراعظم عمران خان کے بغير ممکن نہيں تھی۔ وزیر خزانہنے کہا کہ ورثے ميں ملنے والی تباہ حال معيشت بحال ہورہی ہے، يہ کامیابی وزيراعظم عمران خان کی بغير ممکن نہيں تھی، ماضی کی حکومت کو اتنی مشکل صورتحال کا سامنا نہیں رہا، وزیراعظم کی قیادت میں ملک کو بحران سے نکال کر لائے، عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے کرنے سے نہیں گھبراتی، مشکل فیصلے لئے بغير معاشی صورت حال سے نکلنا ممکن نہ تھا۔

شوکت ترین نے مزید کہا کہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فيصد تھا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر کی تاريخی سطح پر تھا450 ارب کا بھاری گردشی قرضہ ہمارے کاندھوں پر ڈال ديا گيا، آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 8 ہزار 487 ارب روپے ہوگا، مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 7909ارب روپے رکھا گیا ہے، جب کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2080 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر کا اختتام علامہ اقبال کے شعر پر کیا۔

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Nasrullah  June 11, 2021 3:53 pm/ Reply

    تاریخی بجٹ ہوگا انشاءاللہ عوام کا بجٹ ہوگا asr

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube