Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے،شوکت ترین

SAMAA | - Posted: May 23, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: May 23, 2021 | Last Updated: 4 months ago

اس دفعہ آئی ایم ایف کا رویہ سخت تھا

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ معیشت کی بحالی کیلئے پلان تیار کر رہے ہیں۔ شارٹ اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنالی ہیں۔ اب ہماری توجہ مہنگائی کم کرنے پر ہے۔ رواں سال بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ کرونا ملکی معیشت پر اثر انداز ہوا۔ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھ چکی ہے۔ معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی بہتر پالیسیوں کے باعث کرونا سے معیشت کو زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ حکومت کی توجہ اب مہنگائی کم کرنے پر ہوگی۔ مہنگائی کا خاتمہ ولین ترجیح ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے اس بار پاکستان سے سخت رویہ اپنایا۔ تنخواہ داروں پر ٹیکس بڑھانے کی آئی ایم ایف تجویز قبول نہیں کی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اس تجویز پر بات چیت جاری ہے۔ ہم فوڈ سرپلس ملک نہیں بلکہ غذائی خسارے والا ملک بن گئے ہیں۔ اگلے سال 5فیصد گروتھ ہوسکتی ہے اور اس سے اگلے سال 6فیصد ہوسکتی ہے۔ ہماری تمام تر توجہ معیشت کی گروتھ پر ہوگی۔ ہماری معاشی ترقی دیرپا نہیں رہتی۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ میں مزید اضافے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ حکومت عام آدمی کیلئے مختلف اسکیمز لے کر آرہی ہے۔ زراعت کے حوالے سے قلیل المدتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ ایکسپورٹ ، انڈسٹری، زراعت اور تعمیراتی سیکٹر پر زیادہ توجہ دی ہے۔ موجودہ حکومت نے چند ٹارگٹڈ چیزوں پر توجہ دی۔ امیر اور غریب کیلئے ایک جیسی گروتھ ہونی چاہیئے۔ کوشش ہوگی کہ کسان خود منڈیوں میں آکر اپنے اجناس فروخت کرے۔ عام آدمی کیلئے بھی اسکیمیں لیکر آئیں گے، جس میں روزگار پروگرام بھی ہوگا۔ ہمارے پاس جب بھی ڈالر ختم ہوا ہمیں بحران کا سامنا کرنا پڑا، ہمیں برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا، تا کہ ڈالرکی کمی نہ ہو۔

اوور سیز پاکستانیوں سے متعلق وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ پیسے بھجوائے جس نے معیشت کو سہارا دیا۔ اوور سیز پاکستانیز وزیراعظم عمران خان سے محبت کرتے ہیں۔ عمران خان کی وجہ سے ملک میں پیسہ بھیج رہے ہیں۔

شوکت ترین نے مزید کہا کہ جب تک ایف بی آر کا ریونیو نہیں بڑھے گا حکومت مقروض ہی رہے گی۔ ہمیں ہرحال میں ریونیو بڑھانا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنا ہوگا۔ 42 فیصد ملکی دولت بینکوں سے باہر ہے، پورے ملک سے پیسے اکٹھے ہوتے ہیں اور 9 شہروں میں خرچ ہوجاتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube