قیمتوں میں بہتری کیلئےمڈل مین کی کمر توڑ دینگے، وزیرخزانہ

SAMAA | - Posted: May 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago

آڑھتی سستے دام چیزیں لیکر کسان کا استحصال کرتا ہے

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ملک میں اسٹريٹيجک ريسرو بنائيں گے اور مڈل مين کی کمر توڑ ديں گے، مڈل مين سمجھتے ہيں وہ اسٹيٹ سے اچھے ہيں تو وہ غلط سوچتے ہيں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وئير ہاؤس اور کولڈ اسٹوريج بنانے ہوں گے، کسان وئير ہاؤس جاکر چيز دے گا اور اسے کيش مل جائے گا البتہ ان وئير ہاؤسز کا سيٹ اپ بنانے ميں وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی زراعت ٹھیک کرنی ہے، آڑھتی کسان سے سستے دام چيزيں لے کر اسکا استحصال کرتا ہے اور ہمارے پاس سسٹم نہيں جس وجہ سے کسان کا استحصال ہوتا ہے۔ ہم مارکيٹ کو مارکيٹ سے ڈيل کريں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم اس بات پر توجہ نہیں دے رہے کہ کسان سے لے کر رٹیل تک قیمت کیوں اتنی زیادہ ہے۔ میں نے ٹی وی پر دیکھا کہ پیاز جیکب آباد میں کسان سے ملتا ہے اور 35 روپے میں جا کر رٹیل میں فروخت ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قیمتوں میں جو اتنا زیادہ فرق ہے اس پر ہم نے توجہ دینا شروع کی ہے کیونکہ اوسطاً مڈل مین کا مارجن اس میں 60فیصد کا ہے جوکہ بالکل نہیں ہونا چاہیئے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام بہت مشکل ہے اور آئی ایم ایف کے 90 فیصد پروگرام فیل ہوجاتے ہیں۔ آئی ايم ايف پروگرام کا طريقہ يہی رہا ہے کہ گلا دبادو اور سانس نہ آئے۔ اِس وقت ہماری معيشت کو کرونا وائرس سے خطرہ ہے لیکن کرونا کے دوران حکومت نے بہت اچھا پیکج دیا۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ايف بی آر نے اچھا کام کيا لیکن ہراسگی کے واقعات بھی ہوئے، آئی ٹی کا شعبہ ہمارے ليے گيم چينجر ثابت ہوسکتا ہے جبکہ سماجی تحفظ کے پروگرام کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمارا سرکلر ڈیٹ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ ہم فوڈ سرپلس کے بجائے فوڈ ڈيفيشٹ ملک بنتے جا رہے ہيں۔ گزشتہ سال مارچ میں ریونیو گروتھ میں 40 فیصد گروتھ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بيوروکريسی نيب سے ڈری ہوئی ہے، پہلے کہتے بيوروکريسی رکاوٹ کرتے ہيں اب بريک لگی ہوئی ہے۔

وزیر خزانہ نے وعدہ کیا کہ معیشت کو دھکا لگا دوں گا جوکہ 4،5 ميل فی گھنٹہ چلے گی اور چلتے چلتے آگے چلی جائے گی۔ جو زيادہ کام کرے گا اور اسے زيادہ پيسہ ملے گا

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Anonymous  May 6, 2021 6:46 pm/ Reply

    صوبائی یا قومی حکومت کے پاس کوئی مارکیٹنگ سسٹم نہ ہے مڈل مین کو ختم کرنا ہے تو پیمرا بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ وئیر ہاؤس کا سیٹ اپ بنا کر آئیڈیا دینا تھا جب تک سیٹ اپ بنے گا حکومتی مدت ختم ہو جائے گی۔ آڑھتی نیلامی پر جنس فروخت کر کے کمیشن لیتا ہے کاشت کار کو ایڈوانس اور گاہک کو اذھار دیتا ہے۔ کاشت کار کو بغیر ڈیلرز کے کھاد بیج زرعی ادویات تو دلوا دیں جی۔ جیکب آباد سے اسلامآباد کا کرایہ ٹرک دیکھیں۔ صرف منڈیوں میں
    نہیںں ہر کاروبار کھاد سریہ مشینری میں مڈل مین کا اہم کردار ہے

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube