Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > معیشت

سیلرز نے ہونڈا اور سوزوکی موٹر سائیکلوں کی قیمت بڑھادی

SAMAA | - Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago

اگر آپ ہونڈا 125 موٹر سائیکل فوری طور پر خریدنا چاہتے ہیں تو کمپنی نرخ ایک لاکھ 30 ہزار روپے پر 15 ہزار روپے تک اضافی رقم دینے کیلئے تیار ہوجائیں، یا دوسری صورت میں آپ کو ایک ماہ انتظار کرنا ہوگا۔

موٹر سائیکل کمپنیوں کو 20 سالہ تاریخ میں پہلی بار گاڑیاں ڈیلیور کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ طلب میں دوگنا اضافہ ہے۔

ہونڈا کمپنی کے ڈیلر فیصل آٹو موبائلز کے نمائندے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر کسی کو کمپنی نرخ پر موٹر سائیکل خریدنی ہے تو اسے ڈیلیوری کیلئے ایک ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔

ڈیلر کا مزید کہنا ہے کہ اگر آپ کو فوری طور پر موٹر سائیکل چاہئے تو اکبر روڈ پر غیر رجسٹرڈ سیلرز سے ہونڈا 125 کی قیمت ایک لاکھ 50 ہزار روپے تک ادا کرنی پڑے گی۔

پاک سوزوکی کے رجسٹرڈ ڈیلر کا بھی کہنا ہے کہ سوزوکی موٹر سائیکل کا ڈیلیوری ٹائم ایک ماہ تک ہے تاہم انہوں نے موٹر سائیکل کی قیمت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مارکیٹ سے لی جاسکتی ہے۔

سرمایہ کار جو رقم کار خریدنے کے خواہشمند سے وصول کرتے ہیں وہ کار کی اصل رقم سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا صرف پاکستان میں ہوتا ہے جہاں کار ساز ادارے بعض اوقات گاڑی ڈیلیور کرنے میں ایک ماہ لگاتے ہیں۔ مثال کے طور پر خریدار کو اپنی گاڑی بک کرانے پر عارضی رقم ادا کرنی پڑتی ہے جبکہ اس کی ڈیلیور دو ماہ بعد مکمل ادائیگی پر کی جاتی ہے۔

مزید جانیے : پاکستان میں پہلی سہ ماہی میں موٹرسائیکلوں کی فروخت ریکارڈسطح پر

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے چیئرپرسن محمد صابر شیخ کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو بنیادی طور پر سپلائی کے مسئلے کا سامنا ہے، پارٹس اور دیگر خام اشیاء کی فراہمی میں گزشتہ سال کرونا وائرس کی وباء سے پیدا ہونیوالی ایمرجنسی صورتحال کے باعث بگڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے گزشتہ سال نومبر میں چین میں پیداوار متاثر ہوئی اور بعد ازاں پاکستان میں مارچ تا مئی لاک ڈاؤن نے صورتحال مزید خراب کردی اور پھر بعد ازاں جون میں موٹر سائیکل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔

پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں چین خام مال اور پرزہ جات فراہم کرنے والا مرکزی سپلائر ہے۔

صابر شیخ کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کے پاس تین ماہ کی پیشگی انوینٹری تھی، (یعنی جو آئندہ تین ماہ کی طلب کیلئے کافی تھی) اب وہ بھی خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مشہور چینی موٹر سائیکلیں یونیق اور سپر پاور بھی 2 سے 3 ہزار روپے کی اضافی قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔

آٹو پارٹس کے کاروبار سے وابستہ عمر بٹ کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو اسٹیل شیٹس اور اسٹیل کے پائپس کی بھی قلت کا سامنا ہے، اس طرح کی دھات ہر قسم کی گاڑیوں بشمول موٹر سائیکل اور کاروں میں استعمال کی جاتی ہے۔

عمر بٹ نے بتایا کہ اس وقت موٹر سائیکل کے جن پارٹس کی قلت ہے ان میں اسٹینڈ، فٹ ریس، مڈ گارڈ وغیرہ شامل ہیں۔

آٹو پارٹس سیلر محمد وسیم نے تصدیق کی کہ اس وقت موٹر سائیکل کے پارٹس بشمول چین اسپوکٹ کی قلت ہے۔

WhatsApp FaceBook

3 Comments

  1. Arshad Nawaz Awan  October 20, 2020 8:44 pm/ Reply

    ہمارے معاشرے کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ کسی نہ کسی بات( جیسے کورونا )کی آڑ لے کر سرمایہ کار صارفین کا خون نچوڑنے کی حتی اوسع کوشش کرتا ہے۔ کاروں کے خریداروں کو تو اضافی ادائیگی جیسے عذاب کا سامناپہلے سے تھا اب غریب آدمی کو بھی اس مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بروز قیامت ایسی مصیبتیں ڈھانے والے خدا کو کیا منہ دکھائیں گے، زرا اس طرف بھی دھیان کر لیں۔

  2. Muhammad Asad Ansari  October 21, 2020 8:13 am/ Reply

    Offff

  3. حامد مغل  October 21, 2020 3:22 pm/ Reply

    یہ پاکستان کے لوگ ہجوم ہیں من ہیس قوم نہیں ہیں ہم ان کمپنیوں سے موٹرسائیکل خریدنا بند کردیں یہ ہجوم تو ایک مہینے میں دماغ ٹھکانے لگ جائے گا ان کمپنیوں کا دماغ کس نے خراب کیا ھے

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube