Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > معیشت

حکومت کا سستے مکانات کیلئے مارک اپ پرسبسڈی دینے کااعلان

SAMAA | - Posted: Oct 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago

حکومتِ پاکستان عوام کو سستے مکانات کی فراہمی کے اپنے وژن کے مطابق نئے مکانات کی تعمیر اور خریداری کیلئے مارک اپ زرِ اعانت (سبسڈی) فراہم کرے گی۔ اس سہولت کے تحت وہ تمام افراد جو پہلی بار اپنا مکان تعمیر یا خرید رہے ہونگے، انہیں رعایتی اور سستے مارک اپ ریٹس پر بینک قرضے مل سکیں گے۔

حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دسختط کردیئے گئے۔ جس کے مطابق ایسے شہریوں کو جو پہلی بار اپنا مکان تعمیر یا خرید رہے ہوں کو قرضوں پر مارک اپ زر اعانت (سبسڈی) فراہم کی جائے گی، یہ سہولت اسٹیٹ بینک کے انتظامی تعاون کے ساتھ ہوگی جو حکومتِ پاکستان اور ’نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ (نیفڈا) کا ایگزیکیوٹنگ پارٹنر ہوگا۔

حکومتِ پاکستان نے دس سال کے دوران قرضوں پر مارک اپ زرِ اعانت کی ادائیگی کے لیے 33 ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس سہولت کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومتِ پاکستان نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

حکومت کی جانب سے مارک اپ زرِ اعانت کی سہولت تمام بینکوں کے ذریعے دستیاب ہوگی اور اسے تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا۔

منصوبے کے تحت سطح اول کے تحت 5 مرلہ یا 125مربع گز تک کے مکانات/ اپارٹمنٹ/ فلیٹ جن کا زیادہ سے زیادہ کورڈ ایریا 850 مربع فٹ اور زیادہ سے زیادہ قیمت 3.5 ملین روپے ہوگا، کی خریداری کیلئے قرضے دستیاب ہیں، اس سطح کے تحت زیادہ سے زیادہ 20 سال کیلئے زیادہ سے زیادہ 2.7 ملین روپے کا قرضہ دیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کا زیادہ سے زیادہ مارک اپ ریٹ کائبور جمع 250 بیسز پوائنٹس ہوگا، تاہم حکومتِ پاکستان قرضہ لینے والوں کیلئے پہلے 5 سال کیلئے مارک اپ کم کرکے 5 فیصد تک لانے کی خاطر مارک اپ زرِ اعانت فراہم کرے گی جبکہ اگلے 5 سال کیلئے مارک اپ 7 فیصد ہوگا۔

کائبور دراصل کراچی انٹربینک آفر ریٹ ہے جو یومیہ بنیاد پر انٹر بینک مارکیٹ میں طے کیا جاتا ہے اور اسے بینکوں کی طرف سے بیشتر ریٹیل قرضہ جاری کرنے کیلئے بینچ مارک (یا نشانیہ) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یہ ریٹ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر یومیہ شائع کئے جاتے ہیں۔

مرکزی بینک کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سطح دوم کے تحت 5 مرلہ یا 125 مربع گز تک کے مکانات/ اپارٹمنٹ/ فلیٹ جن کا زیادہ سے زیادہ کورڈ ایریا 850 مربع فٹ اور زیادہ سے زیادہ قیمت 3.5 ملین روپے ہوگا، کی خریداری کیلئے قرضے دستیاب ہیں، اس سطح کے تحت زیادہ سے زیادہ 20 سال کیلئے زیادہ سے زیادہ 3 ملین روپے کا قرضہ دیا جائے گا، اس سطح کے تحت اُن لوگوں اور گھرانوں کو مکاناتی یونٹ کی تعمیر یا خریداری کیلئے قرضہ دیا جائے گا جنہوں نے ’نیفڈا‘ پروجیکٹس کیلئے درخواست نہیں دی ہوگی یا کوالیفائی نہیں کرسکے ہونگے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بینک زیادہ سے زیادہ کائبور جمع 400 بیسز پوائنٹس تک مارک اپ وصول کرسکیں گے، تاہم سطح دوم کے تحت پہلے 10 سال کیلئے رعایتی شرح وہی ہوگی جو سطح اول کیلئے ہے۔

سطح سوم متوسط آمدنی والے گھرانوں کو سستے مکانات کی فراہمی کیلئے ہے، اس میں 5 مرلہ (125 مربع گز) سے زائد اور 10 مرلہ یا 250 مربع گز تک کے مکانات/ اپارٹمنٹ/ فلیٹ جن کا زیادہ سے زیادہ کورڈ ایریا 850 مربع فٹ سے 1100 مربع فٹ تک اور زیادہ سے زیادہ قیمت 6 ملین روپے ہوگی، کی تعمیر یا خریداری کیلئے رعایتی قرضے دستیاب ہیں۔

بینک کا کہنا ہے کہ اس سطح کے تحت زیادہ سے زیادہ 20 سال تک کیلئے زیادہ سے زیادہ 5 ملین روپے کا قرضہ دیا جائے گا، بینک زیادہ سے زیادہ کائبور جمع 400 بیسز پوائنٹس تک مارک اپ وصول کر سکیں گے تاہم حکومتِ پاکستان قرضہ لینے والوں کیلئے پہلے 5 سال کیلئے مارک اپ کم کر کے 7 فیصد تک لانے کی خاطر مارک اپ زرِ اعانت فراہم کرے گی جبکہ اگلے 5 سال کیلئے مارک اپ 9 فیصد ہوگا۔

توقع ہے کہ اس سہولت کے متعارف کرائے جانے سے ’نیفڈا‘ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں سے نئے مکانات فراہم ہونگے جو حکومتِ پاکستان کا وژن حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد دیں گے۔

اس سہولت کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کے سرکلر میں درج ذیل لنک پر دی گئی ہیں۔

https://www.sbp.org.pk/smefd/circulars/2020/C11.htm

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube