Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > معیشت

کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کی جائے، عوامی مطالبہ

SAMAA | and - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago

کے الیکٹرک کے لائسنس میں ترمیم سے متعلق نیپرا کی عوامی سماعت شور شرابے کی نذر ہوگئی۔ چیئرمین نیپرا نے کہا اگلی سماعت کراچی ميں نہيں اسلام آباد ميں ہوگی۔ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کی جائے، بزنس کمیونٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی بنانے کو تیار ہے۔

بجلی کے ستائے کراچی والوں کو دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملا تو نيپرا کی جانب سے لگائی گئی عوامی کچہری ميں طوفان مچ گيا، شہری اور تاجر کے الیکٹرک پر برس پڑے۔

تاجر رہنماء سراج قاسم تیلی کی چیئرمین نیپرا سے تلخ کلامی ہوگئی، انہوں نے  کے الیکڑک کے ڈسٹری بیوشن لائسنس میں ترمیم کيساتھ دیگر کمپنیوں کو بھی بجلی فراہم کرنے کے لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کی جائے، بزنس کمیونٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی بنانے کو تیار ہے، نیپرا اپنی روزی حلال کرے اور کراچی کا دیرینہ مسئلہ حل کرے۔

عوامی سماعت میں کے الیکڑک انتطامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی، لوگوں نے ’’چور ہے چور ہے کے الیکٹرک چور ہے‘‘ کے نعرے لگائے، جس پر چیئرمین نیپرا نے تنبیہ کی اور سماعت پہلے کچھ دیر کیلئے روکی تاہم حالات قابو میں نہ آنے پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت اسلام آباد میں ہوگی۔

سماعت میں عوام کی بڑی تعداد، تاجر رہنماؤں، ایم کیو ایم رہنماء خواجہ اظہار الحسن، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور سماجی کارکن جبران ناصر بھی موجود تھے۔

کے الیکٹرک کے عامر غازیانی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقے 6 سے بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

ڈی ایچ اے فیز 6 کے رہائشی بلال خان کا کہنا تھا کہ ان کا علاقہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہے تاہم اس کے باوجود وہاں بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ ایسا کیوں ہے تو کہتے ہیں کہ یہ لوڈ مینجمنٹ تھی، انہوں نے صرف عنوان تبدیل کردیا بصورت دیگر شہر کے ہر علاقے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ افسران لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں سے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، ماضی میں تمام جماعتوں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن نے کے الیکٹرک کی سرپرستی کی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔

کے اليکٹرک کيخلاف نيپرا کی عوامی سماعت کے دوران جماعت اسلامی اور ايم کيو ايم رہنماء کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کا معاملہ ہماری جماعت پارلیمنٹ میں لے کر گئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube