Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > معیشت

شاہدخاقان نے وزیراعظم سمیت پوری کابینہ سے دگنا ٹیکس دیا

SAMAA | - Posted: Sep 18, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 18, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 2018 میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے رکن پارلیمنٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے حکمران پاکستان تحریک انصاف کی پوری کابینہ سے دگنا ٹیس ادا کیا۔

ایف بی آر نے ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری اپنی ویب سائٹ پر جاری کی ہے جس کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے 24 کروڑ روپے سے زیادہ جبکہ کابینہ کے 25 اراکین اور وزیر اعظم عمران خان نے اجتماعی طور پر 11 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے 282،449 روپے ادا کیے۔ وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے زیر صفر ٹیکس ادا کیا۔ وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال کا ٹیکس ریکارڈ ڈائریکٹری میں نہیں ملا۔ وزیر انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن حماد اظہر اور وزیر پٹرولیم ڈویژن عمر ایوب کابینہ میں سرفہرست دو ٹیکس دہندگان تھے۔ انہوں نے سرکاری خزانے میں بالترتیب 5 کروڑ اور دو کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔

اس ڈائرکٹری کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2018 میں صفر ٹیکس ادا کرنے والے حکمران اتحاد اور حزب اختلاف کی دونوں جماعتوں کے 160 سے زیادہ پارلیمنٹیرین ہیں۔ ان میں پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان احمد خان بزدار، موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت زرتاج گل، پیپلز پارٹی کی ناز بلوچ اور علی حیدر گیلانی، مسلم لیگ (ن) کے چوہدری ذوالفقار علی بھنڈر اور محمد سجاد شامل ہیں۔

این اے 256 سے پی ٹی آئی کے ایم این اے محمد نجیب ہارون دوسرے نمبر پر ٹیکس ادا کرنے والے پارلیمنٹیرین تھے۔ نجیب ہارون نے 14 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔

وزرائے اعلیٰ

وزرائے اعلیٰ میں سب سے زیادہ ٹیکس وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے دیا جو کہ 48 لاکھ روپے ہے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے 10 لاکھ 22 ہزار روپے اور وزیراعلی کے پی محمود خان نے 2 لاکھ 35 ہزار ٹیکس جمع کرایا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

اہم سیاستدان

وزیراعظم عمران خان نے 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس دیا، آصف علی زرداری نے 28 لاکھ 91 ہزار 455 روپے، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 2 لاکھ 94 ہزار 117 روپے، حمزہ شہباز نے انکم ٹیکس کی مد میں 87 لاکھ 5 ہزار 368 روپے، اسد عمر نے 53 لاکھ 46 ہزار 342 روپے، شاہ محمود قریشی نے ایک لاکھ 83 ہزار، سابق وزیراعلیٰ کے پی پرویز خٹک نے ایک لاکھ 80 ہزار روپے، سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے 20بیس لاکھ اور شہباز شریف نے 97 لاکھ 30 ہزار 545 روپے ٹیکس ادا کیا۔

ایف بی آر نے اپنی ڈائرکٹری میں کہا ہے کہ ٹیکس گورننس میں شفافیت ایک موثر، منصفانہ اور پائیدار ٹیکس نظام کو یقینی بنانے کے لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے جو بدلے میں بہتر معاشی نظم و نسق کے لئے اہم ہے۔ ٹیکس نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے معلومات تک عوام کی رسائی ایک اہم سنگ میل ہے جو موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم ستون بھی ہے۔

ایف بی آر کی ڈائرکٹری نے 1007 پارلیمنٹیرینز (ایم پی اے ، ایم این اے اور سینیٹرز) کے ٹیکس ریکارڈ شائع کیے ہیں۔ آپ ایف بی آر کی ویب سائٹ ملاحظہ کرکے یا اس لنک پر کلک کرکے مکمل فہرست دیکھ سکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube