Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > معیشت

ملک میں یورو فائیو ایندھن کی تیاری میں مشکلات

SAMAA | - Posted: Aug 25, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 25, 2020 | Last Updated: 2 months ago

 

حکومت پاکستانی ایندھن کو کم آلودگی پھیلانے والے یورو فائیو کے معیار تک لانے کیلئے کوشاں ہے لیکن اس حوالے سے اسے آئل ریفائنریز کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ انہیں اپنے پلانٹس کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا۔

حکومت نے آئل کمپنیز بشمول پی ایس او، شیل اور ہیسکول سے کہا ہے کہ یکم ستمبر 2020ء سے پیٹرول صرف یورو فائیو معیار کا درآمد کریں جبکہ یوور فائیو ڈیزل یکم جنوری 2012ء سے لایا جائے۔ پی یس او کے ملک میں 3 ہزار 500 سے زائد پیٹرول پمپس ہیں جن میں سے پہلے ہی کراچی، لاہور، اسلام آباد، جہلم، گوجرانوالہ اور حیدرآباد کے 56 پمپس پر یورو فائیو معیار کے فیول کی فراہمی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

یورو فائیو فیول 120 روپے فی لیٹر دستیاب ہے جو معمول کے پیٹرول سے تقریباً 20 روپے مہنگا ہے۔

یورو فائیو کے معیار کا ایندھن ماحول پر کم سے کم اثر انداز ہوتا ہے کیوں کہ اس میں گندھک 98 فیصد اور بینزین کی سطح 80 فیصد کم ہوتی ہے۔ یہ گاڑیوں سے آلودگی کے اخراج کو کم کرتا ہے اور انجن کی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔ کم بینزین والا ایندھن صنعتی مزدوروں کی صحت پر بھی برے اثرات نہیں ڈالتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی تعداد میں اضافے اور کم معیاری ایندھن کے باعث پنجاب خصوصاً لاہور میں اسماگ کا مسئلہ پیدا کر رہا ہے اور بہتر معیار کے ایندھن سے اس پر قابو پایا جاسکے گا۔

لیکن اگر ریفائنریز یورو فائیو معیار کا ایندھن بنانے پر تیار ہو بھی جاتی ہیں تب بھی انہیں اپنے پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے میں 3 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ مزید برآں ذخیرے کی موجودہ استطاعت کے پیش نظر تیل کی کمپنیوں کے لئے یورو فائیو علیحدہ سے فروخت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

جے ایس گلوبل کیپیٹل کے تجزیہ کار ارسلان احمد کے مطابق پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کا تناسب 40:60 ہے۔ ڈیزل کا استعمال زیادہ تر کمرشل گاڑیوں بشمول بسوں، پک اپ اور ٹرکوں میں ہوتا ہے جو زیادہ ایندھن لیتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد ڈیزل مقامی طور پر تیار ہوتا ہے جبکہ باقی ماندہ درآمد کیا جاتا ہے۔ ملک میں استعمال ہونے والا پیٹرول اندازاً 60 فیصد درآمد کیا ہوتا ہے۔

تجزیہ کار عاطف ظفر کا کہنا ہے کہ آئل کمپنیز کی جانب سے اس حوالے سے مزاحمت موجود ہے تاہم درآمد ہونے والے والے تمام ایندھن کو یورو فائیو معیار پر لایا جاسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جتنا بھی ایندھن ملک میں استعمال ہوگا وہ یورو فائیو معیار کا ہوگا کیوں کہ مقامی آئل ریفائنریز فی الوقت یورو فائیو تیار کرنے کی اہل نہیں۔ انہیں اپ گریڈ ہونے کیلئے پیسہ اور وقت درکار ہوگا۔

ارسلان احمد کا خیال ہے کہ اس حوالے سے حکومت کی زیادہ توجہ پنجاب کے ان علاقوں پر ہوگی جو اسماگ سے زیادہ متاثر ہیں۔ جبکہ ملک کے بقیہ حصوں میں درآمد کئے جانے والے یورو فائیو اور موجودہ استعمال ہونے والے یورو 2 کا مرکب استعمال ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube