Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > معیشت

عیدالاضحیٰ پر آن لائن قربانی کا تجربہ کیسا رہا؟

SAMAA | - Posted: Aug 5, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 5, 2020 | Last Updated: 3 months ago

کراچی میں گوشت فروخت کرنیوالی کمپنیوں نے صارفین کو عید الاضحیٰ کے موقع پر آن لائن قربانی کی سہولت کا دھوم دھام سے آغاز کیا تاہم شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں انتہائی دیر سے سڑا ہوا گوشت موصول ہوا۔

لال میٹ کے 27 سالہ مالک تابش حیدر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے تجربے سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری گوشت کی 4 دکانیں ہیں اور میں اس بار قربانی کے کاروبار میں داخل ہوا تاکہ اپنے برانڈ کے نام کو مزید بہتر بناسکوں لیکن اس کا اختتام میرے اور میری کمپنی کیلئے بہت خراب رہا۔

لال میٹ کے حصہ داروں کے گوشت کے ایک ہزار میں سے 400 باکس صرف اس لئے برباد ہوگئے کیونکہ ان کے 2 ڈیلیوری پارٹنرز میں سے ایک نے گوشت کو جلد خراب ہوجانیوالی شے کے بجائے عام خشک اشیاء کی طرح سمجھا۔ ڈیلیوری کمپنیز کو کھانے کی فراہمی میں 8 گھنٹے تک کا وقت لگتا ہے۔ حیدر نے ان کمپنیز کا نام بتانے سے انکار کردیا تاہم ان کا اندازہ ہے کہ اس سے 40 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، جس کے ازالے اور متاثرہ صارفین کو ادائیگی کیلئے قرض لینا پڑے گا۔

امید تو یہ تھی کہ کرونا وائرس سماجی فاصلے کے ایس او پیز کے تحت آن لائن بکنگ، دور قربانی اور گوشت کی فراہمی زیادہ محفوظ تر ہوگی اور لیڈنگ کمپنیز کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا۔ میٹ ون نے گائے کا ایک حصہ 19 ہزار 500 روپے جبکہ بکرا 29 ہزار 500 روپے مقرر کیا تھا۔ میٹ ماسٹر کا گائے کا ایک حصہ 18 ہزار 500 اور بکرا 28 ہزار 500 روپے جبکہ لال میٹ کا گائے کا حصہ 17 ہزار 500 اور بکرا 27 ہزار روپے کا تھا۔ دوسری جانب رواں سال مساجد اور مدارس میں روایتی اجتماعی قربانی میں گائے کا اوسطاً حصہ 12 ہزار روپے کا تھا جبکہ کہیں کہیں 10 ہزار روپے سے بھی نیچے رہا۔

ذبیحہ حلال انڈسٹریز سے تعلق رکھنے والے اہم رکن قیصر اقبال (ان کا فوجی فوڈز کے ذبیحہ سے تعلق نہیں) کا کہنا ہے کہ انہیں توقع تھی کہ اس سال پاکستان میں اجتماعی قربانی کے رجحان میں 6 گنا اضافہ ہوگا۔ ان کے محتاط اندازے کے مطابق آن لائن آرڈرز 40 ہزار (15 ہزار بکرے اور 25 ہزار گائے یا بیل) تک ہوگی۔

لال میٹ کے حیدر علی کا کہنا ہے کہ میٹ ون، ذبیحہ آف فوجی فوڈز، میٹ ماسٹر اور اے آر وائی فریش ون جیسے برانڈز کے علاوہ اس عید پر آن لائن قربانی کیلئے 80 کے قریب نامعلوم کمپنیاں صرف کراچی میں منظر عام پر آگئیں، جنہوں نے لاجسٹک چیلنجز سے نمٹنے کی بھی تیاری نہیں کی۔

خاتون کاروباری شخصیت رفعت عالم کا کہنا ہے کہ آئندہ وہ کبھی بھی آن لائن قربانی کیلئے میٹ ون کو آرڈر نہیں دیں گی، کیونکہ انہیں حصہ نا صرف 7 گھنٹے تاخیر سے ملا بلکہ وہ غیر صحتمند ہڈیوں پر مشتمل تھا۔ میٹ ماسٹر کا اس شکایت پر جواب دیتے ہوئے کہنا ہے کہ عید کے پہلے دن آٹو میٹڈ ڈی بوننگ لائن میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے تاخیر ہوئی، صارفین کو معاوضہ دیا جائے گا۔ میٹ ماسٹر پاکستان کی دوسرے بڑے گوشت کے برآمد کنندہ دی آرگینک میٹ کمپنی کا ذیلی ادارہ ہے۔

ذبیحہ حلال انڈسٹریز کے قیصر اقبال کا کہنا ہے کہ قربانی عام روایتی گوشت کا کاروبار نہیں، ان دنوں میں آپ کے پاس ایک مضبوط اور مخصوص متحرک ڈیلیوری ٹیم ہونی چاہئے، گوشت کو ایک سے دو گھنٹے میں پہنچادینا چاہئے ورنہ یہ سڑنا شروع ہوجاتا ہے۔

فریش ون کی کلفٹن میں دکان پر صارفین نے حملہ کردیا، بہت سے لوگوں نے بھی سوشل میڈیا پر بھی شکایت کی۔ گلشن اقبال کے رہائشی خالد رضا اللہ جو ایک انجینئر ہیں، ان کا میٹ ون شاپ پر تجربہ بہت برا رہا، انہیں گوشت کے حصول کیلئے کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

ذبیحہ حلال کے سی ای او تنویر اقبال نے بتایا کہ وہ ایک عشرے سے اجتماعی قربانی پر کام کررہے ہیں لیکن آن لائن قربانی ایک چیلنجنگ ٹاسک تھا۔ انہیں لگتا ہے کہ بہت سی کمپنیز ڈیڈ لائن پوری کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں کیونکہ ان کے ڈیلیورنگ شراکت داروں کو گوشت تقسیم کرنے کا بہت کم تجربہ ہے۔

ذبیحہ کو تجربے نے سکھایا کہ انسانی وسائل کی بھی اپنی حدود ہیں، قصابوں کو عید کے تین دنوں میں اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے۔ یہ اتنا بھی آسان نہیں جتنا نظر سمجھا جاتا ہے، اگر ایک قصاب 4 گھنٹوں میں 5 جانور ذبح کرسکتا ہے تو اسے 15 جانوروں کیلئے 3 شفٹوں میں کام پڑے گا۔

تنویر اقبال کا کہنا ہے کہ یہ عام ریاضی کا سوال نہیں، میرا خیال ہے کہ کاروبار میں بہت سے لوگوں نے اسے آسانی ریاضی سمجھا ہوگا۔ انہیں لگتا ہے کہ ان عوامل نے آن لائن کمپنیوں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube