Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > معیشت

پاکستان پوسٹ کومائیکروفنانس بینک بھی شروع کرنا چاہئے، اسٹیٹ بینک

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 3 months ago

پاکستان پوسٹ میں مائیکرو فنانس بینک سروسز کا آغاز پاکستان کو اپنے معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کے ساتھ ادارے کی بہتر تنظیم سازی بھی میں بھی معاون ہوگا۔

پاکستان پوسٹ کو ایشیاء پیسیفک گروپ کی ’انسداد منی لانڈرنگ۔کامبیٹنگ دی فائنانسنگ آف ٹیررازم (اے ایم ایل/سی ایف ٹی)  میوچل ایویلیوایشن رپورٹ (ایم ای آر) آف پاکستان‘ کے تحت ایسے اداروں میں شامل کیا گیا ہے جن میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہو۔

پاکستان اکنامک سروے 19-2018ء کے مطابق پاکستان پوسٹ کے ملک بھر میں 10 ہزار 496 دفاتر موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر پاکستان کے 5 بڑے شہروں سے باہر واقع ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس میں ملک کیلئے مالی شمولیت میں اضافے کی کافی صلاحیت ہے۔

معاشی ترقی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کی مالی شمولیت کو ضروری سمجھا جاتا ہے، جس سے ان کیلئے فنڈز تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں معاشی نمو کو بھی فروغ ملتا ہے۔ 2015ء تک پاکستان کی 53 فیصد آبادی کو مالی اعتبار سے خارج کردیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ’پاکستان پوسٹ کے ذریعے مالیاتی شمولیت میں اضافہ‘ کے عنوان کے تحت جاری رپورٹ کے مطابق ملکی سطح پر تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ریاست کے زیر انتظام پوسٹل سروس غیر خدماتی اور بینکوں سے باہر بالخصوص دیہی علاقوں کی آبادی کی مالی شمولیت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

جاپان اس حوالے سے ایک مثال ہے، کہ کیسے پوسٹل فائنانشل انکلوژن ملکی ترقی کی مالی اعانت کیلئے انفراسٹرکچر، درمیانے اور نچلے درجے کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے بچت کو مؤثر انداز میں متحرک کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایسے ہی پاکستان پوسٹ وسیع پیمانے پر عوامی رابطوں کی وجہ سے ملک میں مالی شمولیت بڑھانے اور بچت کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پوسٹل سروس کو استعمال کرتے ہوئے مالی خدمات میں توسیع کیلئے متعدد کاروباری ماڈلز موجود ہیں۔

پاکستان پوسٹ آفس کی ملک بھر میں اس وقت 10 ہزار 500 برانچیں اور 21 لاکھ صارفین ہیں۔

پاکستان میں فی الحال اکاؤنٹ ہولڈرز کی تعداد 3 کروڑ 80 لاکھ ہے، حکومت کا 2023ء تک اسے 6 کروڑ 50 لاکھ افراد تک لے جانے کا ارادہ ہے۔ خواتین اکاؤنٹ ہولڈرز کی موجودہ تعداد ایک کروڑ 44 لاکھ ہے جس کیلئے 2023ء تک کا ہدف 2 کروڑ مقرر کیا گیا ہے، پاکستان پوسٹ اس ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان پوسٹ اس وقت محدود پیمانے پر بنیادی مالی مصنوعات اور سروسز فراہم کررہا ہے، جیسا کہ لائف انشورنس، منی ٹرانسفر اور سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونز کی ایجنسی سروسز کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ادارے نے پنشن اور ترسیلات زر صارفین کے دروازوں پر پہنچانے کی سروس کا بھی آغاز کیا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان پوسٹ اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان ترسیل زر کی ترسیل روایتی پوسٹل سروس سے جدید مالی سروس کے مرحلے میں منتقلی کا مرحلہ ہوسکتا ہے۔ اس سے حکومت کو نیشنل فائنانشل انکلوژن اسٹریٹجی (این ایف آئی ایس) 23-2019ء کے کچھ سرفہرست اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

البتہ پاکستان پوسٹ کو اپنی کچھ خامیوں کو دور کرنا ہوگا، اسے مالیاتی خدمات کی فراہمی کیلئے اپنے ملازمین کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔

ایشیاء پیسیفک گروپ کی ’انسداد منی لانڈرنگ۔کامبیٹنگ دی فائنانسنگ آف ٹیررازم (اے ایم ایل/سی ایف ٹی)  میوچل ایویلیوایشن رپورٹ (ایم ای آر) آف پاکستان‘ کے اکتوبر 2019ء میں اجراء کے بعد پاکستان پوسٹ کے دائرہ کار اور خدمات کو واضح طور پر ری اسٹرکچر کرنے کیلئے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح پاکستان پوسٹ کو مالیاتی شمولیت میں اضافے کیلئے جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے سے قبل اپنی کارروائیوں کو آسان بنانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگا۔

زراعت اور مویشیوں کی انشورنس اسکیموں کی فراہمی، مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ایسے گھرانوں کے مالی اعداد و شمار جمع کرنا، جن کے اب تک کوئی بینک اکاؤٹ نہیں، کچھ ایسی مثالیں ہیں جو اس ادارے میں سرمایہ کاری کو تحریک دے سکتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube