Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > معیشت

پاکستان کو 2ارب ڈالرموصول، 40فیصد قرض ادائیگیوں میں چلاگیا

SAMAA | - Posted: Jul 3, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jul 3, 2020 | Last Updated: 1 month ago

پاکستان کو 26 جون 2020ء کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران عالمی اداروں سے 2 ارب ڈالر موصول ہوگئے، جس میں سے 809 ملین ڈالر (تقریباً 40 فیصد) غیرملکی قرضوں کی ادائیگی میں چلے گئے۔ اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ادائیگیوں کے بعد پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر میں 1.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا۔

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اپریل 2020ء کے بعد پہلی بار 11.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے ملکی زر مبادلہ ذخائر سات ماہ کی کم ترین سطح پر چلے گئے تھے۔

زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں ڈالر کی آمد ہے، جس میں ورلڈ بینک سے 725 ملین، ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے 500 ملین جبکہ ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے ملنے والے 500 ملین ڈالر شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک زرمبادلہ ذخائر کا ڈیٹا ایک ہفتہ کی تاخیر سے جاری کرتا ہے، آئندہ ہفتے جاری ہونیوالے زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا، کیونکہ چائنیز بینک کی جانب سے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر مزید موصول ہوچکے ہیں۔

اگست 2018ء میں اقتدار میں آنے کے بعد موجودہ حکومت کیلئے خسارے کا حجم اہم چیلنج تھا، ابتدائی چند ماہ میں ہی زرمبادلہ ذخائر کئی 6 ارب ڈالر گر گئے اور درآمدی ادائیگیوں کیلئے صرف 2 ماہ کا ذخیرہ رہ گیا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج پر دستخط کئے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے نے پاکستان کیلئے مزید دروازے کھول دیئے ور ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ایشین انویسٹیمنٹ بینک نے بھی تعاون کا وعدہ کیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس پروگرام کے دوران منصوبے کے تحت مختلف اداروں سے 38 ارب ڈالر کی فنڈنگ کیلئے راہ ہموار کرنا تھا۔

رواں سال زرمبادلہ ذخائر 2018ء کے مقابلے میں کم ترین سطح سے دوگنے ہوچکے ہیں۔ ڈالر اکاؤنٹ گزشتہ سال اکتوبر میں سرپلس میں چلا گیا تھا، البتہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کچھ قیمت بھی چکانا پڑی، معاشی شرح نمو روکنے کے اقدامات کئے گئے جیسا کہ درآمدات کو کم کرنا، روپے کی قدر میں کمی اور سود کی شرح میں اضافہ، جس سے قرض لینا مہنگا ہوگیا۔

گزشتہ مالی سال 20-2019ء کے پہلے نو ماہ کے دوران ڈالر اکاؤنٹ کا خسارہ 73 فیصد تک کم ہوگیا اور مئی میں ہمارا اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube