Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > معیشت

پاکستان الیکٹرک بائیکس،رکشا کیلئےتیارمگربجلی کی گاڑیوں کیلئےنہیں

SAMAA | - Posted: Jul 2, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 2, 2020 | Last Updated: 3 months ago

پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مارکیٹ ویلیو کم کرنے میں ایک خاص لابی یا مہم چلانے والوں کا بڑا کردار ہے، جنہوں نے بجلی کی گاڑیوں پر پالیسی میں یو ٹرن کیلئے کار لابی اور سیاسی مشکلات کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

معروف ویب سائٹ ” دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ پر سینیر صحافی “زوفین ابراہیم “ کے تازہ کالم کے مطابق “پاکستان الیکٹرک وہیکلز اینڈ پارٹس مینو فیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن (پی ای وی پی ایم ٹی اے) کے جنرل سکریٹری شوکت قریشی نے کہا ہے کہ “ہمیں یہ دیکھ کر بہت تکلیف اور مایوسی ہوئی ہے کہ الیکٹرک کاروں کو 5 سالہ الیکٹرک وہیکل پالیسی سے نکال دیا گیا ہے۔” اس ماہ کے اوائل میں، پاکستانی حکومت کے اقتصادی ضابطہ کار (ای سی سی) نے متوقع ای وی پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے تحت پاکستان میں 2 اور 3 پہیے والی گاڑیوں کی تیاری کی اجازت دی گئی لیکن 4 پہیے والی گاڑیوں کوشامل نہیں کیا گیا ، جو “ای وی پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔

شوکت قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہم  نے تمام تجزیہ اور تحقیق کی اور انہیں ملک وسیع ڈیٹا فراہم کیا جس سے ان کو اپنی پالیسی کو سمت فراہم کرنے میں مدد ملی۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈر میٹنگوں اور مشاورت میں شامل تھے ، اور آج ہمیں مشکل صورتحال میں ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ای وی پی ایم ٹی اے ایسا محسوس کرنے میں تنہا نہیں ہے، آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر اور ای وی پالیسی کے پیچھے موجود شخصیت  ملک امین اسلم نے تھرڈ پول کو بتایا کہ 4 پہیوں والی گاڑیوں کو شامل کرنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

ملک امین اسلم  کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی (ایم او سی سی) نے اپنی سابقہ پالیسی دستاویز میں فور وہیلروں کے لئے بھی واضح ہدف اور پالیسی کی سفارش کی تھی ، جسے کابینہ نے منظور کیا تھا ، لیکن ای سی سی کی ذیلی کمیٹی میں اس پر تاخیر کی گئی ہے۔

ٹویٹر پر جاری ای سی سی کے فیصلے کا اعلان کرنے والے پاکستان کے وزیر برائے صنعت و پیداوار، حماد اظہر نے کہا کہ”4 پہیوں والی گاڑیوں کے بارے میں پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے اور جلد ہی اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی”۔ لیکن وہ تاخیر کی  موجب وجوہات کی وضاحت کے لئے دستیاب نہیں تھے ۔

ذاتی مفادات

پی ای وی پی ایم ٹی اے نے ملٹی بلین ڈالر کی آٹوموبائل انڈسٹری لابی پر پالیسی کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔  ” قدرتی ایندھن سے چلنے والی کاروں کی مانگ میں کمی  کیوجہ سے، انڈسٹری کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

ماحولیاتی وکیل اور پاکستان آب و ہوا کی تبدیلی کونسل کے ممبر رفیع عالم کا کہنا تھا کہ کار مینوفیکچرر لابی گھبرا گئی ہے۔ ای وی (الیکٹرک وہیکل) کی تیاری میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس میں عام انجن کار کے مقابلے میں بہت کم حرکت پزیر حصے ہیں اور ای وی پلانٹس چلانے کے لئے بہت کم افراد کی ضرورت پڑے گی”  ماحولیاتی وکیل اور پاکستان آب و ہوا کی تبدیلی کونسل کے ممبر رفیع عالم نے بتایا ۔ “ڈایناسور کو اپنے بقاء کی فکر ہے ۔

انہوں نے مزید کہا ، “ایم او سی سی  اور کار لابی کے مابین اس بے معنی لڑائی کی وجہ سے ای وی پالیسی تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔”

پی ای وی پی ایم ٹی اے کے اعزازی سکریٹری اعجاز حسین نے تھرڈ پول کو بتایا ، “[بڑی کار کمپنیاں] ای سی سی کے اندر بے حد اثرورسوخ کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں پوری کوشش کر رہی ہیں کہ ای وی پالیسی کی منظوری میں تاخیر ہو۔”

اعجاز حسین نے مزید کہا کہ ابھی تک بہت سے مینوفیکچررز کی اپنی خود کی الیکٹرک وہیکل  تیار کرنا باقی ہے اور جب تک وہ معاملات  ترتیب میں نہ لےآئیں  تب تک نئے حریف نہیں آنے دیں گے- انہوں نے کہا کہ ٹویوٹا ایک چینی ای وی کمپنی کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بنا رہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ 2024 تک اپنا ای وی نہ لائے۔  “تب تک [ٹویوٹا] ہمارے لئے اس پالیسی میں تاخیر کرنے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان کی سب سے بڑی ڈیلرشپ ، ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کے چیف ایگزیکٹو ، سلیم گوڈیل نے اس کی تصدیق کی ،” ٹویوٹا [چینی الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی]  بی وائی ڈی کے ساتھ ای وی کے مشترکہ منصوبے پر کام کر رہا ہے ، لیکن ان گاڑیوں کو پاکستان لانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ” 

ماحولیاتی تبدیلی کے مشیر اسلم نے حسین سے اتفاق کیا- انہوں نے کہا ، “اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں ایک مضبوط اینٹی ای وی لابی موجود ہے جو تنگ مصلحت پسندانہ مفادات کی حامل ہے جو نظام میں گہرائی سے سرایت کر چکی ہے اور اس عمل کو روکتی اور موخر کرتی رہی ہے۔” انہوں نے تاخیر کو “مجرمانہ” قرار دیا کیونکہ یہ واضح طور پر “قومی مفاد” کے خلاف ہے۔

پاکستان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن (پاما) کے ڈائریکٹر جنرل ، عبدالوحید خان نے کہا کہ یہ دعوے قطعی من گھڑت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعت اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارتوں کے مابین معاملات کے لئے کار سازوں پرالزام عائد کرنا غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے کہا ، “دو پہیہ والی ای وی کے لئے پالیسی کی منظوری سے بھی ہم پر اثر پڑے گا کیونکہ بائک عام آدمی کی آمد و رفت کا ایک ذریعہ ہے اور یہ تقریبا 20،000،000 سالانہ پاکستان میں تیار ہوتے ہیں۔ کیا ہم نے حکومت کو اس کی منظوری سے روکا  ؟”

عبدالوحید خان نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ ہونے والی تمام اسٹیک ہولڈر میٹنگوں میں حصہ لیا تھا اور ہر قسم کی گاڑیوں پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، “سڑکوں پر ای وی لانا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک مہنگی منتقلی ہے اور ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے ، ” انہوں نے مزید کہا ،”یہ مشینیں  اپنےساتھ مسائل بھی لاتی ہیں جن کا سامنا یہاں تک کہ ہندوستان اور چین جیسے ممالک بھی کر رہے ہیں۔”

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2017 میں ہندوستان نے اعلان کیا کہ وہ 2030 تک صرف برقی گاڑیاں تیار کرے گی۔ اس ہدف کو اب کم کرکے30 فیصد کردیا گیا ہے۔

اسلم نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ تاخیر سے ای وی گاڑیوں ، اسپیئر پارٹس اور اجزاء کے لئے پاکستان کو مینوفیکچرنگ کا مرکز بننے کاموقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ، “ابھی کم کھلاڑیوں کیوجہ سے ہمارے پاس قدم جمانے کا سنہری موقع ہے۔ حب بننے کا مطلب عالمی سطح پر سپلائی چین کا حصہ بننا اور خصوصی حقوق حاصل کرنا ہے۔ ایسا ہوتا ہے جب آپ دوسرے حریف کو تکنیکی طور پر پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ،” پی اے ایم ای کے خان نے کہا۔ “ہم ابھی بھی اس کھیل میں نئے ہیں۔

کیا ہائبرڈ  الیکٹرک وہیکل ہوسکتا ہے؟

اعجاز حسین نے کہا کہ مزید وقت حاصل کرنے کےلئے ، آٹوموبائل لابی ہائبرڈ کاروں کو ای وی کے طور پر شامل کرنے  اور ان کو پالیسی میں ایک ہی حیثیت اور فوائد دینے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔  دنیا میں کہیں بھی ایک ہائبرڈ کو ای وی کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔”

پی ای وی پی ایم ٹی اے نے تھرڈ پول کو بتایا کہ چونکہ آٹو انڈسٹری کے پاس دنیا بھر میں ای وی دستیاب نہیں ہیں ، لہذا وہ ہائبرڈ کے ذریعے پاکستان کی مارکیٹ میں سرمایہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے- ایسوسی ایشن ہائبرڈ کو ای وی کی حیثیت سے رکاوٹ کے باوجود قبول کرنے کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ایم او سی کےملک امین اسلم کہتے ہیں کہ ان کی وزارت پالیسی میں چار پہیوں والی گاڑیوں کو شامل کرنے پر زور دیتی رہے گی ،تاکہ پاکستان کل ای وی شفٹ کے “واضح ماحولیاتی اور معاشی فوائد” سے فائدہ اٹھا سکے اور ساتھ ہی دائیں ہاتھ  ڈرائیو والی ای وی کے مینوفیکچرنگ اینڈ ایکسپورٹنگ حب بننے کی حیثیت حاصل کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 43 فیصد اخراج ٹرانسپورٹ سیکٹر سے ہوتا ہے ، وزیر نے کہا کہ ای وی میں تبدیلی سے پاکستان کو ایک بہت بڑا موقع ملا ہے۔  اگر ان کو کامیابی حاصل ہوئی تو ، اگلے پانچ سالوں میں ایک لاکھ الیکٹرک کاریں ، 500،000 دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں ، اور 1،000 بسیں اور ٹرک سڑکوں پر ہونگی۔ ان کے مطابق اس سے دھویں کے اخراج میں 65 فیصد کمی واقع ہوگی۔ اور صارفین کی لاگت میں 70 فیصد کمی واقع ہو گی۔ 

اس کے علاوہ ، انہوں نے کہا ، اس سے درآمدی ایندھن پر تقریبا 2 ارب ڈالر کی سالانہ بچت ہوگی۔ دریں اثنا ، پاکستان اس وقت سسٹم میں 3،000 سے 4،000 میگا واٹ اضافی بجلی استعمال کر سکے گا۔ 

اقتصادی سروے 2018-19 میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سڑکوں پر 30 لاکھ نجی کاریں اور 20 ملین موٹرسائیکلیں اور موٹررکشہ موجود ہیں ، لہذا یہ واضح نہیں ہے کہ ای وی کی اس تعداد کا اتنا بڑا اثر کیسے پڑے گا۔

سرمایہ کار کشمکش میں 

بہت سی کمپنیوں نے ای وی پالیسی کی توقع میں اربوں کی سرمایہ کاری کی ہے اور یہاں تک کہ انفراسٹرکچر بھی تیار کرلیا ہے۔ ای سی سی نے ای وی کے لئے متعدد مراعات کی منظوری دی ہے ، جن میں پانچ سالہ فکسڈ سیل ٹیکس اور پانچ سالہ فکسڈ امپورٹ کسٹم ڈیوٹی شامل ہیں۔ اگر ای وی مینوفیکچررز ملک کے بجٹ میں یہ تحریر کرواسکتے ہیں ، جس کی ایم او سی نے سختی سے سفارش کی ہے تو ، وزیر اسلم کے مطابق ، “اس مہینے کے اندر” اندر ہی دو اور تین پہیوں والی الیکٹرک وہیکل کی تیاری شروع ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی، عالم نے نشاندہی کی کہ حکومت کو ای وی پالیسی کو ممکن بنانے والے سسٹم کو “بھرپور فروغ دینے” کی ضرورت ہے ، جیسے کہ ای وی ری چارجنگ کے اسٹیشنوں اور ری چارجنگ کی قیمتوں کا ڈھانچہ۔

پی ای وی پی ایم ٹی اے میں اپنے کردار کے علاوہ ، حسین، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کمپنی ایس ضیاء الحق اینڈ سنز میں ای وی آٹو ڈویژن کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں بھی کام کرتے ہیں- حسین نے کہا کہ پچھلے تین سالوں میں ، کمپنی نے تحقیق اور ترقی میں “بہت زیادہ سرمایہ کاری” کی ، 15 بار چین کا دورہ کیا اور 11 الیکٹرک کاریں اور 10 بائکس خریدیں تاکہ وہ پاکستان میں ٹیسٹ کر سکے۔ انہوں نے کہا ، “ہم ہر سال 10،000 کاریں بنانے کے لئے تیار ہیں۔”ہمارا یونٹ سول کام مکمل ہونے کے ساتھ تقریبا تیار ہے۔ کاغذی کارروائی اس سے پہلے ہی کرلی گئی تھی۔ ان کی کمپنی نے 500 ملین روپے (تقریبا 3 30 لاکھ امریکی ڈالر) سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے ، جس میں 25 ایکڑ اراضی ، سول انفراسٹرکچر اور چین میں دفتر رکھنا شامل ہے۔  حسین نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ پاکستان پہلے ہی دو سال پیچھے ہے اور مزید تاخیر سے سرمایہ کار ممکن ہے ہاتھ  سے نکل جائیں۔

خوشخبری ..!  

 اگرچہ ، 4 پہیوں کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنےوالے بہت سوں کے لئے صورتحال حوصلہ افزاء نہیں، لیکن دو اور تین پہیئوں والی گاڑیوں کے مینوفیکچروں کے لئے جشن منانے کو بہت کچھ ہے۔ ہائبرڈ رکشہ اور موٹر بائیک بنانے والی گرین وہیلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر محمد ایاز چھ سالوں سے ای وی پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس پالیسی کی منظوری کو “انقلاب” قرار دیا۔

مرتضیٰ زیدی اور حیدر زیدی کے ای وی اسٹارٹپ انر زیڈ آٹوموٹو میں کام چل رہا ہے-(تصویر بشکریہ مرتضی زیدی )

پاکستان میں 17.5 ملین موٹر سائیکلوں کے اندراج کے ساتھ ، موٹرسائیکل کی ملکیت 2015 میں 41 فیصد سے بڑھ کر 2018 میں 53 فیصد ہوگئی ہے۔ چین ، ہندوستان ، انڈونیشیا اور ویتنام کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی موٹرسائیکل مارکیٹ ہے۔ 

اس میں تعجب کی بات نہیں کہ ایاز ملک بھر میں دو پہیے والے ای وی کے لئے زیادہ مواقع دیکھ رہے ہیں- انہوں نے کہا ، “ہم نہ صرف مقامی مارکیٹ کی طلب پوری کرسکتے ہیں ، بلکہ اس سال کے آخر تک ان کی برآمدات بھی شروع کر سکتے ہیں۔آغاز کرنے کے لئے تقریبا دو درجن کمپنیاں تیار بیٹھی ہیں ، اس شعبے میں بہت زیادہ مہارت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے۔

اسلام آباد میں مقیم مرتضیٰ زیدی اور حیدر زیدی دو سالہ ای وی اسٹارٹ اپ ، انر زیڈ آٹوموٹو کی قیادت کررہے ہیں- مرتضیٰ نے کہا کہ انہیں زیادہ یقین ہو گیا ہے کہ ای وی کو سڑکوں پر لانا صحیح سمت کی جانب لے جارہا ہے۔ “پاکستان میں روزانہ 4000 بائکس فروخت کی جارہی ہیں تو تصور کریں کہ فوسل ایندھن سے چلنے والی بائیکس ہماری صحت کا کیا حال کریں گی؟۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق لاک ڈاؤن کے دوران چند ہفتوں میں  آسمان صاف ہوگیا۔

جیساکہ انہوں نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ ای وی پالیسی کو منظور کرلیا گیا ہے ساتھ وہ یہ بھی  کہتے ہیں کہ اگر حکومت تاجروں کو ای وی کے پارٹس خریدنے کے لئے زیادہ ڈیوٹی فری چھوٹ دے گی تو “جدت طرازی کے لئے دروازے بند ہوجائیں گے۔” “حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صنعت کو کچھ سال دے اور پھر اسے مکمل طور پر بند کردے تاکہ تحقیق اور ترقی اور جدت پر مبنی مقامی مارکیٹ ترقی کر سکے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube