Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

آرگینک میٹ کمپنی کے شیئرز فروخت کیلئے پیش

SAMAA | - Posted: Jun 30, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 30, 2020 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان سے بیرون ملک گوشت فروخت کرنے والی دوسری بڑی کمپنی آرگینک میٹ کمپنی نے اپنی 37.5 فیصد حصص یعنی 4 کروڑ شئیرز فروخت کرنے کے لیے پیش کردئیے ہیں۔ شئیرز کی اسٹاک ایکس چینج پر فروخت 30 جون سے شروع کردی گئی ہے جو کہ جولائی کے وسط تک جاری رہے گی۔ اکثریتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شئیرز انتہائی کم قیمت پر فروخت کے لیے پیش کئے گئے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر سال 2020 میں کسی بھی کمپنی کے پہلی بار شئیرز فروخت کے لیے پیش کئے گئے ہیں۔

سماء منی سے بات کرتے ہوئے ماہرین کی اکثریت نے بتایا کہ کمپنی کے فی شئیر کی 18 روپے فلور قیمت انتہائی کم ہے تاہم کچھ کا خیال تھا کہ اس کمپنی کے شئیرز ہم عصر کمپنی الشہیر کارپوریشن کے مقابلے میں مہنگے ہیں۔

منگل 30 جون سے آرگینک میٹ کمپنی کے 3 کروڑ شئیرز پہلے فروخت کے لیے پیش کردئے گئے ہیں جن کے لیے 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی فی بولی لگائی جائے گی۔ اس عمل کو بک بلڈنگ پورشن کہتے ہیں اور اس سے شئیرز کی اصل مالیت کا تعین ہوتا ہے۔ اس عمل کے بعد کمپنی کے دیگر ایک کروڑ شئیرز فروخت کے لیے چھوٹے سرمایہ کاروں کو پیش کئے جائیں گے۔ اس کے بعد جولائی کے وسط میں کمپنی کو پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں لسٹڈ کمپنی کے طور پر شامل کرلیا جائے گا۔

اگر اس کی بولی میں زیادہ افراد نے دلچسپی لی اور تعداد بڑھی تو شئیرز کی نیلامی 18 روپے سے بڑھ سکتی ہے۔ اس کےعلاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر شئیرز کی فروخت میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم رہی تو مقرر کردہ 18 روپے فی شئیر کی قیمت کم بھی ہوسکتی ہے۔

اکثریتی ماہرین نے سماء منی کو بتایا کہ ان کے خیال میں فی شئیرکی قیمت 20 روپے تک جاسکتی ہے۔ اگر اس کی طلب میں اضافہ بھی ہوا تو زیادہ سے زیادہ قیمت 25.2 روپے فی شیئرتک ہوسکتی ہے۔ کیوںکہ قانون یہ ہے کہ ابتدائی قیمت کے 40 فیصد سے زائد قیمت نہیں بڑھ سکتی۔

اگر آپ اس کمپنی کے شیئرحاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں توآپ یقینی طور پر یہ جاننا چاہیں گے کہ اس کی درست مالیت کیا ہوسکتی ہے۔

شئیر کی فیس ویلیو 10 روپے ہوتی ہے۔ اس حساب سے اس کمپنی نے 8 روپے کا پریمیم یعنی برینڈ ویلیو مقرر کی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کمپنی کی پیداوار خصوصی قابل ذکر رہی ہے اور موجودہ معاشی صورتحال کے برعکس مستقبل میں یہ مزید ترقی کرسکی ہے۔

انوسٹمنٹ بینکارعدنان سمیع شیخ نے بتایا کہ فلور پرائس کی بنیاد پر آرگینک میٹ کمپنی کا شئیر ہم عصر کمپنی الشہیر کارپوریشن کے مقابلے میں 40 فیصد سستا ہے۔ آرگینک میٹ کمپنی کے ریونیو اور منافع میں بہتری دیکھی جارہی ہے۔ پچھلے 5 برس میں اس کمپنی کے منافع میں 6 گنا اضافہ ہوا یعنی یہ بڑھ کر 264 ملین روپے تک بڑھ گیا اوراس کی سیلز 3 گنا یعنی 3.3 بلین روپے تک بڑھ گئی۔

عدنان سمیع شیخ نے مزید بتایا کہ دی آرگینک میٹ کمپنی اس لیے زیادہ مزید ترقی کرسکتی ہے کیوں کہ یہ گوشت فروخت کرنے کے کاروبارسے منسلک ہے  اور یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔

اس کمپنی کا 90 فیصد مال بیرون ملک جاتا ہے اور اس نے روپے کی قدر کم ہونے سے پچھلے مالی سال میں فائدہ اٹھایا۔ ان کی اب نئی مارکیٹوں کی جانب توجہ ہے۔ انہوں نے 2011 میں بیف اور مٹن کے تازہ گوشت سے کاروبار کا آغاز کیا تھا اور اب اس کا شمار پاکستان سے حلال گوشت بیرون ملک بھیجنے والی سرکردہ کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ خلیجی ممالک سمیت ملائیشیا، یورپ کے کچھ ممالک اور وسطی امریکا میں اس کی مانگ ہے۔

ایک اور معاشی ماہر نے بتایا کہ کسی کمپنی نے اس بحران کی صورتحال میں اس قدر اچھی کارکردگی نہیں دکھائی جتنی آرگینک میٹ کمپنی کی رہی اور اس کو منافع بھی ہوا۔

شرمین سیکیورٹیز کے ثاقب حسین کا کہنا ہے کہ الشہیر نے فلور پرائس سے 120 فیصد اضافے کے ساتھ آئی پی او میں زیادہ قیمت پر کام کیا لیکن مارکیٹ نے اسے قبول نہیں کیا۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ الشہیر کے حصص کی قیمت اب آئی پی او کے دن 95 روپے کے مقابلے میں 12 روپے ہے۔ آرگینک میٹ کمپنی کی  فلور پرائس زیادہ ہے۔ اس کی قیمت 12 سے 15 روپے تک ہونی چاہئے تھی۔

آرگینک میٹ کمپنی کو توقع ہے کہ مالی سال 2020 میں اس کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے میں 27 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس نے آئی پی او کے بعد چین، روس اور مشرقی یورپ کی مارکیٹ کو اپنی برآمدات کا ہدف بنایا ہے جس سے اس کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اسٹاک میں توسیع کا منصوبہ اپنے ساتھ خطرات کو بھی لیکر آتا ہے۔

آئی پی او ، جو دو سالوں میں صرف تیسرا ہے ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خوف سے بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ آئی ایم ایف نے 2020 کے عالمی سطح پر نمو کی پیش گوئی کو منفی 4.9 فیصد کردیا ہے۔ اور اس سے پہلے کی توقع سے کہیں زیادہ آہستہ بحالی کی پیش گوئی کی ہے۔ آسٹریلیا اور برازیل سے بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی گوشت برآمد کنندگان کو سخت مقابلہ درپیش ہے۔ چین آرگینک میٹ کمپنی کے لئے ایک منافع بخش مارکیٹ ثابت ہوسکتا ہے لیکن انہیں ابھی تک اس تک رسائی حاصل کرنا باقی ہے۔

انویسٹمنٹ بینکر عدنان سمیع شیخ کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کی وجہ سے لمبے عرصے کے لئے برآمدات اور درآمدات کی معطلی کا خطرہ رہے گا، جس کے نتیجے میں آرگینک میٹ کمپنی کی فروخت کم ہوسکتی ہے۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے ضروری انفرا اسٹرکچر قائم کرنے میں تاخیر ہوئی تو سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube