Saturday, October 31, 2020  | 13 Rabiulawal, 1442
ہوم   > معیشت

ڈالر غیر مستحکم لیکن گورنر اسٹیٹ بینک بے فکر

SAMAA | - Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 5 months ago

فوٹو: اے ایف پی

عید الفطر کے بعد چار کاروباری دنوں میں ڈالر 4 روپے اضافے سے سات ماہ کی بلند ترین سطح 165 روپے پر چلا گیا تھا تاہم جمعرات کوڈالر کی قیمت 163.5 روپے پر واپس آگئی۔

شرح تبادلہ میں اتار چڑھاؤ نے تاجروں اور صارفین کو کافی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے تاہم گورنر اسٹیٹ بینک سید رضا باقر کہتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہے، جیسا کہ دیگر اجناس کی منڈیوں میں ہوتا ہے۔

مرکز بینک کے گورنر رضا باقر نے بدھ کو ویبینار ‘‘پاکستانی معیشت : پوسٹ کوویڈ 19، سینٹرل بینک کے تناظر میں’’ کے دوران کہا کہ ڈالر کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالی معاونت کی ضروریات کو پورا کیا گیا ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی ضروریات کو انتہائی مناسب طریقے سے پورا کیا ہے۔ اپنے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے ایک گراف کے ساتھ فرق کو واضح کیا (پاکستان کے مکمل زر مبادلہ ذخائر مائنس غیر ملکی ادائیگیاں) جو فروری یا کرونا وائرس کی وباء سے معیشت پر اثرات سے قب تک 10 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔

البتہ مارچ تک یہ فرق 7 ارب ڈالر تک رہ گیا تھا، جو مکمل لاک ڈاؤن کا پہلا مہینہ تھا جس میں برآمدات 24 فیصد اور ترسیلات زر 5 فیصد گر گئی تھیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ہمارے ڈالر کے ذخائر دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری منفی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کرونا وائرس کے اثرات سے متعلق اپنی رپورٹ میں خود ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کی صورت میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوسکتی ہے۔

رضا باقر کا کہنا ہے کہ مرکزی بین کو کسی بڑے اتار چڑھاؤ کی توقع نہیں۔ ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ مارکیٹ ریٹس کی بنیاد پر طلب اور رسد کے تحت قیمت اوپر یا نیچے جانا معمول کی بات ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوا جس پر لوگوں نے قیمتیں بہت زیادہ بڑھنے کی قیاس آرائیاں کیں لیکن جب ڈالر کی فراہمی بہتر ہوئی تو قیمتیں ایک بار پھر نیچے آگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں بھی ایسا ہی ہوا تاہم یہ اتار چڑھاؤ غیر معمولی نہیں ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ ہم بگاڑ پیدا کرنیوالی بڑی حرکات پر نظر رکھتے ہیں، جب بھی ہم مداخلت کرتے ہیں۔

پاکستان کے ڈالر کمانے کے اہم ذرائع برآمدات اور ترسیلات زر ہیں، برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے اور معاشی ادارے خبردار کرچکے ہیں کہ کرونا وائرس کے معیشت پر اثرات کے باعث عالمی ترسیلات میں 20 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد ملی جبکہ جی 20 ممالک نے بھی ہمارے قرضے دسمبر تک منجمد کردیئے، جس کے باعث ہمیں مئی میں شرح تبادلہ کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی۔

اس کے باوجود گزشتہ ہفتے ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا، گزشتہ دو کاروباری سیشنز میں کمی سے قبل اس ہفتے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان رہا۔

ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے نمائندے ظفر پراچہ نے بتایا کہ جب بھی ڈالر مہنگا ہوا ہے برآمد کنندگان زیادہ قیمت کا فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی ادائیگیاں روک دیتے ہیں اور درآمد کنندگان نرخ مزید بڑھنے کے خوف سے جلد ادائیگیاں کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں کمی ہوئی تو درآمدات جو برآمدات کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہیں، میں بھی کمی واقع ہوئی، تیل کی درآمد بھی واضح طور پر گر گئی ہے۔ پراچہ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اس کا ملک کی ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال پر مثبت اثر پڑے گا اور ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوجائے گا۔

باقر رضا کا کہنا ہے کہ اس وقت تیل کی درآمدات میں کمی کا فائدہ ملک کو حاصل ہورہا ہے، جو برآمدات میں ہونے نقصان سے بھی زیادہ ہے، ہماری برآمدات میں بھی بتدریج تھوڑا اضافہ ہورہا ہے۔

ترسیلات میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ ہمارے اختیار میں نہیں، ہمارے اختیار میں یہ ہے کہ ہم باضابطہ چینلز کو مزید فعال کرتے ہوئے مراعات کیلئے استعمال کریں، اسی طرح کی پالیسی سے بنگلہ دیش کو فائدہ ہوا۔

مرکزی بینک کے سربراہ پاکستان کے فری لانسرز کی آمدنی میں اضافے کیلئے بھی پرامید ہیں، جس کے باعث ڈالر کے ذخائر کو مدد ملے گی۔

 گورنر اسٹیٹ بینک سید باقر رضا نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک بیرون ملک مقیم افراد کیلئے نئے مالیاتی چینلز کھولنے پر کام کررہی ہے۔ اس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، انجینئرز اور ڈاکٹرز کو سہولت فراہم کرنا ہے، ن کے پاس سرمایہ کاری کیلئے معقول بچت موجود ہوتی ہے، جو بالآخر ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں مدد دیگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
ECONOMY, PAKISTAN, CORONAVIRUS, SBP, STATE BANK OF PAKISTAN, REZA BAQIR, DOLLAR,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube