Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

پاکستانیوں نے گھر سے کام کے دوران 7 چیزیں سیکھیں

SAMAA | - Posted: Apr 21, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 21, 2020 | Last Updated: 2 years ago

کرونا وائرس کے باعث گھر سے کام کرنے والے شادی شدہ حضرات پر گھریلو زندگی کے نئے پہلو آشکار ہوئے ہیں اور اس طرح کے حالات میں ایسی خواتین کی اہمیت اجاگر ہونے لگی ہے جو ملازمت کرنے سمیت گھر کے کام پہلے بھی بخوبی انجام دے رہی تھیں اور یہ نئی چیز معمول کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

سماء منی نے اس حوالے سے چند ایسے افراد سے بات چیت کی ہے جو ایک مہینے سے لاک ڈاؤن کے دوران گھر سے کام کر رہے ہیں۔ بیشر مالکان سے جب بات کی گئی تو وہ گھر سے کام کرنے سے متعلق مطمئن تھے جبکہ چند افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے وباء کے بعد بھی اس طرح کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔

اخراجات میں کمی

گھر سے کام کرنے سے متعلق جو بات لوگوں کے ذہن میں آئی وہ یہ کہ اسطرح سے ٹرانسپورٹ پر خرچ ہونے والے روزانہ کے پیسے بچتے ہیں اور ذہن بھی سکون میں رہتا ہے۔ ایک ایوی ایشن کمپنی کے ملازم حسان شیخ نے بتایا کہ میں پہلے روزانہ دفتر آنے جانے کیلئے 500 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ سفر میں دو گھنٹے روزانہ ضائع ہوتے تھے۔ ان کے مطابق گھر سے کام کرنے سے نا صرف پیسے بچتے ہیں بلکہ آپ کے جسم کی توانائی کام کو اچھے انداز سے کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی آؤٹ سورسنگ کمپنی ٹیکناڈو نے گھر سے کام کرنے سے متعلق بڑے پیمانے پر فوائد تلاش کئے ہیں۔ کمپنی کے نائب صدر عمیر ظہیر کہتے ہیں کہ ہم نے گھر سے کام کرنے والے آپشن کو مستقل طور پر اختیار کرنے سے متعلق معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے تاکہ لاکھوں روپے بچائے جاسکیں۔

پاکستان میں کمپنیاں جو اس طرح کا کام کرتی ہیں وہ عالمی سوشل ڈسٹینسنگ کے طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ عمیر ظہیر کے مطابق تقریباً ٹیکنالوجی کی تمام بڑی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار مسلسل بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ آرڈرز کی ادائیگیوں میں کچھ تاخیر ہوئی ہے لیکن ہمارا آؤٹ لک پاکستان کے کسی بھی دوسرے شعبے سے بہتر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘‘مغربی ممالک میں سوشل ڈسٹینسنگ کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کیلئے ٹیکنالوجی کی مدد چاہتا ہے، جسے پاکستانی مارکیٹ سستی خدمات مہیا کرسکتی ہے’’۔

ٹیم ورک

اگر سوشل ڈسٹینسنگ ٹیکنالوجی کی آؤٹ سورسز کمپنی کے کیلئے کار آمد ہے تو ضروری نہیں یہ ایسے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچائے جس میں انسانی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

الفلاح جی ایچ پی انویسٹمنٹ مینجمنٹ کی سی ای او ماہین رحمان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ ہمارا کام گزشتہ 3 ہفتوں سے انتہائی روانی سے جاری ہے تاہم عملے کو ٹیم کے زیرقیادت حل اور برین اسٹورمنگ کی ضرورت ہوتی ہےو جو ورک فراہم ہو میں ممکن نہیں۔ ملازمین آفس میں غیر رسمی گپ شپ اور بات چیت کرتے رہتے ہیں جو کاروبار اور آمدنی کو بڑھانے کیلئے کام دوران ضروری ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤس ایسوسی ایشن کی صدر جہاں آراء محسوس کرتی ہیں کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کا کاروبار لاک ڈاؤن کے دوران اپنی ورچوئل نوعیت کے باعث متاثر نہیں ہوگا، تاہم، ٹیک اسٹارٹ اپس اور انکیوبیشن سینٹرز کو سماجی رابطوں اور ایک چھت کے نیچے لوگوں کے کام کرنے کی ضرورت ہے’’۔

ڈبلیو ایف ایچ (ورک فراہم ہوم) کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جو لوگ دن میں اپنے کاموں کو نمٹانے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں انہیں ٹیک سیکٹر میں نائٹ شفٹوں میں کام کرنے کی حوصلہ افزائی محسوس مل سکتی ہے۔

گھر کا کام بمقابلہ آفس کا کام

بیشتر ورکنگ ویمن کو پتہ ہوتا ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے دو طرح کے کاموں کو کیسے نمٹانا ہے۔

صدر ویمن چیمبر آف کانفرس اینڈ انڈسٹریز ساؤتھ ڈاکٹر فوزیہ حمید کا کہنا ہے کہ آپ گھر میں رہ کر ہی وبائی مرض سے محفوظ رہتے ہیں، لیکن یہ ساتھ ساتھ آپ کے ذہنوں پر بھی برا اثر ڈالتا ہے، حد سے زیادہ تناؤ، اور آپ اس سے بچ نہیں سکتے۔

انہوں نے تفصیل سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ خاص طور پر خواتین کیلئے گھروں سے کام کرنا انتہائی مشک ہوتا ہے کیونکہ خاندانوں کی بھی کچھ توقعات ہوتی ہیں۔ ‘‘ان کے بچے اور شوہر دیگر کاموں کی بھی توقع کرتے ہیں’’۔ جس سے تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ‘‘آپ دیکھیں گے کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد اور مایوسی کے واقعات بڑھ رہے ہیں’’۔

ایک جائزے کے مطابق گھروں سے کام کرنے سے خواتین کو فائدہ ملنا ممکن نہیں۔ لمز کے شعبہ اسکول آفس بزنس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غزل میر ذوالفقار کہتی ہیں کہ ثقافتی صنفی کردار خواتین کو خاندان کی دیکھ بھال کا پابند بناتا ہے، اگرچہ وہ گھریلو معاشیات میں بھی کردار ادا کررہی ہوں۔ مردوں سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ یہ سب کچھ کریں، چاہے وہ گھر سے کام کررہے ہوں یا دفتر میں۔

اس بات کی تائید پی ایٹ شاز کی جہاں آراء نے بھی کی، جن کا کہنا تھا کہ بچوں کی پرورش، ان کیلئے کھانا بنانا اور کھلانا یہاں اپنے آپ میں ایک کام نہیں سمجھا جاتا۔

چھوٹے لوگوں کو سنبھالنا

جوڑوں یا سنگل والدین جو خود کو ایسے وقت میں بچوں کے ساتھ گھر میں پاتے ہیں جب اسکول بند ہوں انہیں والدین کے نئے انداز کا تجربہ ہوتا ہے۔ کچھ خواتین جن سے ہماری بات چیت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ ورک فراہم ہوم کا مطلب گھر والوں کے ساتھ اور زیادہ وقت گزارنا ہے، جو انہیں پسند ہے۔ اس کے برعکس گھروں سے کام کرنیوالے کچھ مردوں سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ ورک فرام ہوم کا آپ کا تجربہ کیسا رہا، ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ خلل۔

لمز کی ڈاکٹر غزل ذوالفقار نے مزید کہا کہ ہمیں کام پہلے کی طرف دیکھتے کئی سال لگ سکتے ہیں، جو خواتین گھروں سے کام کررہی ہیں انہیں اپنی ملازمت کے علاوہ بھی بہت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے اپنی ہی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کبھی کبھی اپنی میٹنگز چھوڑنا پڑتی ہیں جب میرے بچے روٹی مانگتے ہیں اور میں انہیں منع نہیں کرسکتی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ کا بنا کھانا کھلاؤں اور یہ میں اپنی پسند سے کرتی ہوں، مجھے لگتا ہے کہ بہت سے مردوں کو ایسی صورتحال سے نہیں گزرنا پڑتا۔

طویل گھنٹے

لوگ پوچھتے ہیں کہ گھر میں کام کے دوران شفٹ ٹائم کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ خود سے ان اور آؤٹ کا نظام قائم رکھنے کیلئے انتظام کرتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کے مالکان ہوتے ہیں جو توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اور ہر وقت مشکور رہیں یا گھر سے کام کرنے کی اجازت کو آسائش بنا کر پیش کرتے ہیں۔

اور پھر ایسے افسران بھی موجود ہیں، جیسے آل پاکستان کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد اقبال، جن کا کہنا ہے کہ آپ آفس میں اپنے ملازم کو 8 گھنٹے رکھتے ہیں لیکن ورک فراہم ہوم کے تحت وہ 24 گھنٹے اور 7 دن آپ کیلئے کام کرتے ہیں۔ وہ آپ کیلئے خط لکھتے ہیں، معاہدے تیار کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بیوی کے ہاتھوں کے بنے ہوئے سموسوں اور میٹھے سے بھی لطف اٹھاتے ہیں۔

تکنیکی مشکلات

گھروں سے کام کرنا (ورک فرام ہوم) ٹیکناڈو کے نائب صدر کیلئے وسائل تک کی عدم مساوات کو دور کرنے کا سبق تھا۔ جو 600 ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آؤٹ سورس سروس فراہم کرتی ہے۔

عمیر ظہیر کا کہنا ہے کہ جب ہم نے اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی تو ہمیں غیر معمولی اور بے شمار مسائل پیش آئے، ہمارے بہت سے ملازمین کے پاس یا تو کمپیوٹر نہیں تھے یا ان کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کمپنی کے نائب صدر کے طور پر میرے لئے حیرت کی بات تھی کہ ہمارے بہت سے ملازمین کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

حیران کن نتائج

ٹیکناڈو کے نائب صدر پر یہ عقدہ کھلا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پیداواری صلاحیت دو گنا ہوگئی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘شاید یہ تفریح اور نائٹ لائف کی عدم دستیابی کی وجہ ہوسکتی ہے’’۔ اس کی تشریح وہ یوں کرتے ہیں کہ لوگوں کو زیادہ کام کیلئے مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بقاء کا معاملہ ہے۔ ‘‘اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں کہ ملازمین کو جانے دیں اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو سخت حالات کی وجہ سے پوری طرح استعمال نہیں کرتے، ملازمین بھی شاید ایسا ہی خطرہ محسوس کرتے ہیں’’۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
ECONOMY, PAKISTAN, CORONAVIRUS, LOCKDOWN, COVID-19, COVID19, TECHNOLOGY, WORK FORM HOME, WFH, SOCIAL,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube