Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

لاک ڈاؤن مکالمہ: ایک طرف کنواں، ایک طرف کھائی

SAMAA | - Posted: Apr 13, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 13, 2020 | Last Updated: 2 years ago

Photo/Online

لاک ڈاؤن لوگوں کو مرنے سے تو بچائے گا مگر لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ہماری معیشت وینٹی لیٹر پر ہوگی۔ یہ ایک طرف کنواں، ایک طرف کھائی والی صورتحال ہے۔

دنیا بھر کے ممالک کرونا کی عالمی وبا کے بعد معاشی حکمت عملی کے بارے میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر پاکستان میں لوگ یہ سوچ رہے ہیں ہیں کہ کیا کسی اور کا فارمولا پاکستان میں کارگر ثابت ہوگا۔ اب لاگ ڈاؤن میں 21 اپریل تک توسیع کی باتیں ہو رہی ہیں جیسے کہ سندھ کا کہنا ہے کہ وائرس قابو سے باہر ہوسکتا ہے۔

وفاقی حکومت احساس ایمرجنسی کے پروگرام کے تحت فی خاندان 12000 ہزار روپے دے رہی ہے۔ اس کے تحت 12 ملین خاندانوں کو 144 ارب روپے دیے جائیں گے۔

آئندہ ہفتے پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر مل جائیں گے۔ یہ ایمرجنسی فنڈ پاکستان کی معیشت چلانے پر خرچ ہوگا۔ بری خبر مگر یہ ہے کہ رواں سال پاکستان کی معیشت میں شرح نمو کا ہدف 2 اعشاریہ 8 سے کم کرکے 0.8 کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کے مطابق پاکستان کے برآمدات 50 فیصد کم ہو جائیں گے۔

پاکستان کی کرنسی نے بھی ایشیا کی دوسری کرنسیز کے مقابلے میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ٹی بلز میں مختصر دورانیے کے لیے سرمایہ کاری کرنے والوں نے مارچ سے اب تک 3.4 بلین ڈالر واپس نکال دیے ہیں۔ روپیہ کی قدر میں اس قدر کمی ہوئی ڈالر 154 روپے سے بڑھ کر 169 تک پہنچ گیا۔ بالآخر اسٹیٹ بینک کو مداخلت کرنا پڑی اور ڈالر 166 پر واپس آگیا۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر دی اور اس کے ساتھ ہیں ہی کاروباری طبقے اور ملازمین کی مدد کے لیے متعدد دیگر اقدامات کا بھی اعلان کیا۔

سماء منی نے اس صورتحال میں پاکستان کے 9 معروف صرف تاجر نمائندوں اور ماہرین معیشت سے بات کی۔ ان میں سے 6 افراد نے لاؤن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کو حکومتی طریقہ کار کے مطابق جزوی طور پر چلنا چاہیے۔ مگر اسٹاک مارکیٹ کے ایک بڑے نام نے لاک ڈاؤن کی مخالفت کی۔

قیصر بنگالی، ماہر معیشت

قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ معیثیت سے زیادہ انسانی جان اہمیت رکھتی ہے۔ مگر پاکستان کے اوپر مغربی اداروں کے قرضوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل امتحان کرونا وائرس کے بعد شروع ہوگا۔

حکومتی آمدنی میں کمی میں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کو دیکھ کر ہمارا مستقبل تاریک لگتا ہے۔ حکومت نے انکم سپورٹ پروگرام کی رقم تقریبا دگنی کردی ہے۔ اس کے ساتھ صارفین اور کاروباری طبقے کو سبسڈی کی مد میں 1.2 ٹریلین روپے دیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات عوام کے مسائل تو آسان کیں گے مگر ملک طویل دورانیے کے لیے اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹر فرخ سلیم، ماہر معیشت

ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ضروری ہے۔ ایک ماہر معیشت کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ جب لوگ مرتے ہیں تومعیشت پر کتنا اثر پڑتا ہے۔ مگر ملک کو اس وقت یکساں پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ وفاق، صوبوں اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے الگ الگ فیصلے ہیں۔ ایک عام آدمی کس کی سنے۔ پالیسیوں کو یکساں ہونے کی ضرورت ہے بصورت دیگر لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔

احمد چنائے، چیئرمین پاکستان کلاتھ مرچنٹ ایسوسی ایشن و ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکس چینج

احمد چنائے کا کہنا ہے کہ میں بھی فیکٹریز کو جزوی طور پر کھولنے کا حامی تھا۔ مگر جب ہم ایک کمپنی کھولتے ہیں تو ہمیں ایک پوری ویلیو چین کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ کو خام مال، پیکنگ اور صارفین کی ضرورت پڑتی ہوتی ہے۔ ہمیں ایک ہی بار سخت لاک ڈاؤن نافذ کرکے اس مصیبت سے جان چھڑانی ہوگی اور اس کے بعد صنعتوں کو تیز رفتاری کے ساتھ  واپس کھولنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک جب شرح سود میں کمی کرتی ہے، قرضوں کی واپسی کی مدت بڑھاتی تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بڑی صنعتوں کو کیوں ہوتا ہے۔ یہ بڑی صنعتیں جتنا مرضی قرضے لیں گے اور منافع بھی کمائیں گے۔ مگر چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کا کیا ہوگا جنہیں قرضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ وہ اپنے ملازمین کو کیسے برقرار رکھیں گے اور لاک ڈاؤن بعد صنعتوں کو کیسے بحال کریں گے۔

ظفر محمود، چیئرمین پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن

ظفر محمود کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ہیں ضروری صنعتوں کا چلنا بھی اہم ہے۔ حکومت اہم صنعتوں کو تو چلنے دے رہی ہے مگر ان کمپنیوں کو خام مال کی ضرورت پڑتی ہے۔ مال تیار ہونے کے بعد اس کو پیک کرکے مارکیٹ تک بھی پہنچانا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم صابن بناتے ہیں۔ ہمیں کاسٹک سوڈا، چکنائی اور کیمیکل درکار ہوتا ہے۔ صابن تیار ہونے کے بعد اس کو پیک کرنے کے لیے ہمیں پیپر، سیاہی اور دیگر اشیا کی ضرورت پڑتی ہے اور ان چیزوں کے کارخانے بند پڑے ہیں۔ جب ہماری پوری سپلائی چین ہی متاثر ہوگی تو ہم صابن کیسے بنائیں گے۔ اگر حکومت حفاظتی تدابیر پر مبنی ایک طریقہ کار بنا کر دے گی تو صنعتیں خود ہی اپنا راستہ بنا سکتی ہیں۔ جو صنعتیں اور کاروبار حکومتی ہدایات اور طریقہ کار پر عمل نہ کریں، ان کو بند کردو یہ کوئی مشکل کام تو نہیں۔

خواجہ محمد زبیر، چیئرمین کراچی کاٹن ایسوسی ایشن

خواجہ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ضروری ہے اور جس طرح حکومت ضروری خدمات کی اجازت دے رہے ہے یہ اچھی بات ہے۔ مگر صنعتوں کو چلنا چاہیے۔ ہمیں طریقہ کار طے کرکے صنعتوں کو جزوی بحال کرنا چاہیے۔ مکمل لاک ڈاؤن مددگار ثابت نہیں ہورہا۔ حکومتی طریقہ کار پر پوری اترنے والی کمپنیوں کو چلنے کی اجازت دی جائے۔

امین یوسف یوسف بیلگم والا، چیئرمین پاکستان کمیکمل مرچنٹ ایسوسی ایشن

امین یوسف کا کہنا ہے کہ کیمیکل مرچنٹس کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے۔ ہمارا کیمیکل کا کاروبار ہے جو صرف انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے۔ امپورٹ اور کسٹم کلیئرنس کے بغیر ہم یہ کیمیکلز ٹیکسٹائل انڈسٹریز کو سپلائی نہیں کر سکتے۔ اس میں وہ کارخانے بھی شامل ہیں جو سنیٹائزر بناتے ہیں۔ ہم بھی ضروری خدمات کے دائرے میں آتے ہیں مگر ہمیں مسائل کا سامنا ہے۔ ایک طرف مذہبی لوگ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دوسری جانب انڈسٹریز کو بند رکھا گیا ہے۔

مزمل اسلم، چیف ایگزیکٹو انویسٹ اینڈ فائنانس سیکیورٹیز

مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن کا ایک دن پانچ سو ملین ڈالر کا پڑتا ہے۔ اگر اس کا کوئی ایک بھی فائدہ ہوا ہے تو وہ فضائی آلودگی میں کمی ہے۔ باقی دنیا کی طرح پاکستان اپنی معاشی سرگرمیاں ترک کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسمارٹ لاک ڈاؤن زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ حکومت دفعہ 144 نافذ کرے اور جن علاقوں میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئیں ان کو قرنطینہ یا سیل کر دیں۔ اس شہر میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو دن میں کماکر رات کو کھاتے ہیں۔ ومت ایسے سارے لوگوں کو نہیں کھلا سکتی کیونکہ حکومت کے پاس بھی اتنے پیسے نہیں ہیں۔

عتیق میر، چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد

عتیق میر کا کہنا ہے کہ لاگ ڈاؤن ضروری ہے مگر حکومت کو کاروبار جزوی طور پر بحال کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ جن ممالک میں کرونا وائرس کے باعث شرح اموات زیادہ ہیں وہ وبا کے خاتمے کے بعد فوری اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں گے مگر پاکستان کی معیشت کو دوبارہ معمول پر آنے میں طویل عرصہ درکار ہوگا۔

عقیل کریم ڈھیڈی، چیئرمین اے کے ڈی گروپ

عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں ہوا۔ گروسری اسٹورز کے اوقات کم کرنے سے ان پر رش بڑھ گیا اور لوگوں نے افراتفری کے عالم میں سماجی فاصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کو نہ سندھ حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت روزانہ کھلا سکتی ہے۔ احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube