Friday, September 18, 2020  | 29 Muharram, 1442
ہوم   > معیشت

بچت اسکیموں کیلئے بھی بائیومیٹرک اسکریننگ لازمی قرار

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2020 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2020 | Last Updated: 8 months ago

نئے اور پرانے صارف کے کوائف کی تصدیق بھی ہوگی

حکومت نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معالی معاونت کی روک تھام کیلئے صارفین پر بچت اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کیلئے بائیو میٹرک تصدیق اور اسکریننگ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) کی شرائط پر عمل درآمد کیلئے حکومت کی جانب سے نئی حکومت عملی اپنائی گئی ہے۔ قومی بچت اسکيموں کے ذريعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کے باعث حکومت نے صارفين کی بائيو ميٹرک تصديق اور اسکريننگ کرانے کا فيصلہ کيا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اقوام متحدہ کی فہرست کے تحت ممنوعہ افراد کی نشاندہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی مشاورت سے بولی کے ذریعے بینک کا انتخاب کیا جائے گا، جس کیلئے ملک بھر میں 376 بچت مراکز میں سے 223 کی آٹومیشن کا کام مکمل کردیا گیا ہے۔ عالمی ترقیاتی ادارے کی مدد سے 153 مراکز کی آٹومیشن کا عمل جاری ہے ۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معالی معاونت کے خطرات پر قابو پانے کیلئے بچت مراکز کے عملے کو تربیت بھی دی جائے گی۔

اس حکومت عملی پر عمل درآمد کیلئے کمرشل بینکوں کی خدمات لی گئی ہیں، جس کیلئے قوانین میں ترامیم کی گئی ہے، کمرشل بینکس نئے اور پرانے صارف کا ڈیٹا یا کوائف کی تصدیق کریں گے۔

وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں 4000 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہے، جس سے 70 لاکھ سے زائد سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ شہریوں کی جانب سے اس حکومتی اقدام کی تعریف کی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ عمل تو لمبا ہے لیکن یہ ایک اچھا قدم ہے، جسے ہم سپورٹ کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube