ہوم   > معیشت

کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں ميں 20 فيصد اضافہ

SAMAA | - Posted: Dec 4, 2019 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 4, 2019 | Last Updated: 2 months ago

گندم آٹے اور کپڑے کے دام بھی بڑھ گئے

مہنگائی کی سالانہ شرح تیرہ فیصد تک پہنچ گئی، کھانے پينے کی اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے، ٹماٹر چارسوچھتیس فیصد اورپیاز ایک سو چھپن فیصد مہنگا ہوگیا جبکہ گندم آٹے اور کپڑے کے دام بھی بڑھ گئے۔

یوں تو موجودہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح دس اعشاریہ آٹھ صفر رہی لیکن سالانہ شرح ابتدائی تخمینے یعنی 11 سے 12 فیصد سے بھی آگے نکل گئی،نومبر 2019 میں مہنگائی ایک اعشاریہ تین چار فیصد اضافے کے ساتھ۔12.7فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔

سب سے زیادہ اضافہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوا جو ماہانہ بنیاد پر 3.20 فیصد اور سالانہ تقریبا 20 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جلد خراب ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں ماہانہ ساڑھے 10 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 70 فیصد تک اضافہ ہوا۔

ایک سال میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 436 فیصد اضافہ ہوا۔ پیاز 156 فیصد، گیس 54 فیصد، دال مونگ بھی 54 فیصد، آلو کے نرخ 42 فیصد بڑھ گئے، بجلی ٹیرف ساڑھے اٹھارہ فیصد۔۔چائے 17 فیصد مہنگی ہوئی، گوشت 13 فیصد، گھی، کوکنگ آئل، گندم اور آٹے کے نرخ 15 فیصد تک بڑھ گئے۔ صحت 11 فیصد، تعلیمی سہولیات 6 فیصد مہنگی ہوئیں۔

گزشتہ ماہ نومبر کے دوران قیمت میں 149 فیصد اضافے کے ساتھ ٹماٹر نے سب سے لمبی اننگ کھیلی مہنگائی نے غریب کی تو کوئی دال نہ گلنے دی، یعنی دال ماش 12 فیصد، دال مونگ 8 فیصد مہنگی ہوئی،وزارت خزانہ نے دسمبر کے اختتام تک مہنگائی میں کمی کی نوید بھی سنا دی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube