Saturday, August 8, 2020  | 17 Zilhaj, 1441
ہوم   > معیشت

ورلڈ بینک پاکستان کے ٹیکس نظام کی خرابیاں سامنے لےآیا

SAMAA | - Posted: Nov 25, 2019 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 25, 2019 | Last Updated: 9 months ago

پاکستان اپنی صلاحیت کا صرف پچاس فیصد ٹیکس وصول کرتا ہے،نصف سے زیادہ انکم ٹیکس اور دو تہائی جی ایس ٹی وصول ہی نہیں کیا جاتا، زراعت، تعمیر اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں کو ٹیکس مراعات حاصل ہیں،عالمی بینک پاکستان کے ٹیکس نظام کی خرابیاں سامنے لے آیا۔

ورلڈ بینک نے پاکستان کے ٹیکس سسٹم کا پوسٹ مارٹم کردیا،رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی صلاحیت کا صرف 50 فیصد ٹیکس وصول کرتا ہے۔

ملک میں ریٹیلرز کا بڑا طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے جکہ زراعت، تعمیرات اور ٹیکسٹائل جیسے بڑے شعبوں کو ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے ، ورلڈ بینک نے پاکستان کے ٹیکس نظام کو پیچیدہ اور دشوار قرار دیا اور مختلف مصنوعات پر 26 قسم کے ٹیکسز کے نفاذ پر پر بھی سوال اٹھادیئے۔

ورلڈ بینک کے مطابق جہاں کاروباری طبقہ ٹیکس نہ دے وہاں حکومتیں کام نہیں کرسکتیں۔ خدمات فراہم کرنے والی 60 کمپنیاں ٹیکس ریٹرن جمع کراتی ہیں جبکہ جنرل سیلز ٹیکس کے معاملے پر بھی صوبوں اور وفاق کو الگ الگ جواب دہ ہیں۔

عالمی بینک نے ٹیکس نظام آسان بنانے کے لئے صوبوں اور وفاق کو مل کر کام کرنے کا مشورہ دے دیا۔

عالمی بینک ٹیکس سسٹم میں آسانی پیدا کرنے اور ریونیو بڑھانے کے منصوبے پر 40 کروڑ ڈالر خرچ کرے گا۔ قرض کی یہ رقم اگلے پانچ سال میں 1.25 فیصد کے رعائتی شرح سود پر دی جائے گی، کسٹمز میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے ساتھ ایف بی آر میں بنیادی اصلاحات کی جائیں گی۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube