ہوم   > معیشت

آئی ایم ایف اوردیگراداروں کیساتھ شراکت جاری رہے گی، باقررضا

SAMAA | - Posted: Sep 19, 2019 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 19, 2019 | Last Updated: 8 months ago

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر اقتصادی اصلاحات کا پروگرام شروع کردیا، جس میں تعاون کے حصول کیلئے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ نتیجہ خیز شراکت جاری رہے گی۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک وفد نے ڈائریکٹر شعبہ مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا مسٹر جیہاد آزور کی قیادت میں آج (جمعرات کو) گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر سے کراچی میں ملاقات کی، عالمی مالیاتی ادارے کے وفد میں پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کے سربراہ مسٹر ارنیسٹو رمی ریز ریگو، آئی ایم ایف کی نمائندہ برائے پاکستان مس ٹریزا ڈیبن سانچیز اور آئی ایم ایف کے کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی خصوصی معاون اولگا اسٹینکووا بھی شامل تھیں۔

گورنر نے آئی ایم ایف کے وفد کو معیشت پر اسٹیٹ بینک کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر بنایا ہوا اقتصادی اصلاحات کا پروگرام شروع کر دیا اور انہیں توقع ہے کہ اصلاحات کے اس پروگرام میں تعاون کے حصول کیلئے بین الاقوامی فنانشیل کمیونٹی میں آئی ایم ایف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز شراکت جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی بنیاد پر شرحِ تبادلہ کے نظام کی طرف منتقلی، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی لانا مالی استحکام کی بحالی کے اسٹیٹ بینک کے اصلاحاتی پروگرام اور پائیدار و شراکتی نمو کی غرض سے بنیاد فراہم کرنے کیلئے کلیدی اہمیت کے عناصر ہیں، اصلاحاتی پروگرام کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، بازار مبادلہ میں پائی جانے والی تغیر پذیری اور اس سے منسلک بے یقینی کم ہوچکی ہے اور بتدریج اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے عالمی مالیاتی ادارے کو بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے پیدا ہونے والے اقتصادی عدم توازن کے باعث مہنگائی بڑھی تھی تاہم رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی کا دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سے قطع نظر، اصلاحاتی عمل کے یہ ابتدائی مراحل ہیں اور اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنا اور پالیسیوں کو استحکام کے حصول اور پائیدار و شراکتی نمو کے فروغ پر مرکوز رکھنا لازمی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ساتھ بات چیت میں جیہاد آزور نے اس حوالے سے اپنی رائے ظاہر کی کہ خطے میں مرکزی بینک درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہو رہے ہیں، خاص طور پر وہ چیلنج جو سرمائے کے بہاؤ، ٹیکنالوجی کے کردار اور اقتصادی انتظام میں مرکزی بینکوں کے کردار سمیت دیگر شعبوں میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ شراکت جاری رہے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube