ہوم   > معیشت

یوٹیوب سے آپ بھی لاکھوں روپے ماہانہ کما سکتے ہیں

2 weeks ago

اگر آپ کے پاس نوکری نہیں ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں، آپ یو ٹیوب کے ذریعے خوب کمائی کرسکتے ہیں۔ ایک ایسی نوکری کے بارے میں سوچیں جہاں آپ ایک بینک مینیجر سے زیادہ رقم کما اور بچا سکتے ہیں، جس کے ذریعے شہر کے کسی عالی شان علاقے میں جائیداد بھی خرید سکتے ہیں، یہ سب حقیقت بھی ہوسکتا ہے۔

معاشی صورت حال خراب ہونے کے بعد مالیاتی اداروں سمیت میڈیا ہاؤسز اور نجی کمپنیوں میں نوکریاں ختم ہورہی ہیں اور اقتصادی نشو نما بھی غیر تسلی بخش ہے، تاہم اس تمام تر صورت حال کے باوجود ایسے مواقع موجود ہیں جہاں آپ اچھی خاصی رقم کما سکتے ہیں۔ جی ہاں، ہم یوٹیوب کے ذریعے رقم کمانے کی بات کررہے ہیں۔

پاکستان میں کامیاب اور مشہور یوٹیوبرز تقریباً ڈھائی ہزار ڈالر ماہانہ کما رہے ہیں جو کہ آج کے کرنسی ریٹ کے مطابق 4 لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ ان میں سے اکثر افراد نے بیش قیمت گاڑیاں اور جائیدادیں خرید لی ہیں اور یہ سب یوٹیوب چینلز کے ذریعے ہونے والی کمائی سے ممکن ہوا ہے، البتہ یہ سب راتوں رات ممکن نہیں ہوا، کسی کو 3 سال لگے اور کسی کو اس سے بھی زیادہ ۔ یو ٹیوب کے ذریعے کس طرح پیسہ کمایا جاسکتا ہے اس پر سماء منی نے ایک تحقیق کی ہے۔

کام کیسے شروع کیا جائے؟

یوٹیوب پر کام کے آغاز کیلئے آپ کو کچھ بنیادی آلات درکار ہوتے ہیں، جن میں اسمارٹ فون، مائیک، ہینڈز فری اور ٹرائی پورڈ شامل ہیں۔ یوٹیوب چینل بغیر کسی معاوضے کے بن جاتا ہے، آپ کو اپنے جی میل اکاؤنٹ سے لاگ ان ہو کر کمرشل چینل بنانا ہوگا۔ اس کام کے بعد آپ اپنے یوٹیوب چینل کے مواد کو تیار کرکے صارفین کیلئے اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔

آپ کی آمدنی کب شروع ہوگی؟

یوٹیوب پر آمدنی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد ایک ہزار ہوچکی ہو اور آپ کی ویڈیوز مجموعی طور پر 4 ہزار گھنٹے دیکھی جاچکی ہوں۔ جب آپ یہ سنگ میل عبور کرلیں گے تو آپ کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام (وائی پی پی) کو درخواست دینا ہوگی تاکہ آپ کا چینل مونیٹائزڈ (رقم کے حصول کا اہل) ہوجائے۔ اگر آپ نے یوٹیوب کی کسی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی نہیں کی تو آپ کی درخواست منظور کرلی جاتی ہے اور آپ کو 2 ہفتے کے اندر تصدیقی کوڈ (ویری فکیشن کوڈ) موصول ہوجاتا ہے۔ چینل کی منظوری اور تصدیق کے بعد آپ کے اکاؤنٹ میں ڈالرز آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

اپنے چینل کو کس طرح بڑھائیں؟

مونیٹائزیشن کی منظوری کے بعد آپ کے چینل کو بڑھانے کیلئے جو ضروری چیز سبسکرائبرز اور ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہے، یہ مرحلہ آپ کے صبر اور مستقل مزاجی کا متقاضی ہے، ابتداء میں آپ اپنے ذاتی سماجی دائرے سے رابطہ کریں، اپنے دوستوں، رشتہ داروں، کلاس فیلوز اور دیگر ساتھیوں سے چینل سبسکرائب اور اپنے دوستوں می شیئر کرنے کا کہیں، یہ شروع میں آپ کے چینل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس کیلئے آپ سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس یعنی فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام کا بھی استعمال کرسکتے ہیں، اپنی یوٹیوب ویڈیوز کو ان سائٹس پر ری شیئر کریں۔ اپنے ناظرین کے ساتھ رابطوں کو مضبوط کریں، ان کے سوالات کا جواب دیں، یہ عمل آپ کے چینل کے دیکھے جانے کو مستحکم بنیادیں فراہم کرے گا۔

آپ کتنا کما سکتے ہیں؟

اس کا دار و مدار آپ کے ناظرین پر ہے، یو ٹیوب آپ کو سی پی ایم (کلک پر مائل) کی بنیاد پر ادائیگی کرتا ہے، جس کے نرخ ایک ہزار کلکس یا ویوز کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ سی پی ایم کے نرخ خطوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، آسٹریلیا کیلئے سی پی ایم کی قیمت 7 ڈالر، امریکا کیلئے 4 ڈالر جبکہ پاکستان کیلئے 0.02 ڈالر ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ یوٹیوب سے کمائی کیلئے آپ کو اپنے ناظرین کو جاننا ضروری ہے، پاکستان سے 5 لاکھ ویوز آپ کو 10 ہزار روپے دیتے ہیں، یقیناً اس کا محنت سے تقابل نہیں، لیکن تصور کریں کہ اگر اس کا ایک فیصد یعنی 5 ہزار ویوز سب سے زیادہ سی پی ایم ریٹ والے ملک آسٹریلیا سے ہوں تو آپ اسی ویڈیو سے 35 ہزار روپے تک کماسکتے ہیں۔ اگر آپ مزید پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو بین الاقوامی ناظرین (آسٹریلیا، امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ) کو ذہن میں رکھیں، ایک بڑے ہدف کے طور پر آپ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں اور بھارتیوں پر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان میں ملازمت کے زیادہ مواقع نہ ہونے کے بیش نظر یہ کمائی آپ کی بہترین مددگار ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ہر سال 5 لاکھ نوجوان گریجویشن کرتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 10 فیصد (50 ہزار) ہی ملازمت حاصل کرپاتے ہیں۔ اگر ہم نان گریجویٹ نوجوانوں کو بھی مدنظر رکھیں تو یہ تعداد سالانہ 2 لاکھ تک بڑھ جاتی ہے۔ اس مایوس کن صورتحال میں یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل اور دیگر افراد کیلئے کیریئر کے قابل عمل آپشنز میں سے یوٹیوب سب سے نمایاں ہے۔

چینل کی نمو کیلئے مواد کلیدی اہم رکھتا ہے

کچھ پانے کیلئے کچھ کھونا پڑتا ہے کے مصداق تمام کامیاب یوٹیوبرز نے اپنا مقام حاصل کرنے کیلئے سخت محنت کی ہے۔ یوٹیوب عالمی اور سخت مقابلے والا میدان ہے۔ آپ کا مواد (ٹیکسٹ اور ویڈیو) ہی آپ کی کامیابی کا کلیدی کردار ہے، ہمیشہ معیاری اور منفرد مواد تخلیق کریں۔ پاکستان کا ایک یوٹیوب چینل ’’ولیج فوڈ سیکرٹ‘‘ منفرد مواد کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی ایک اچھی مثال ہے۔ پنجاب کی خصوصی ثقافت دکھانے والا ولیج فوڈ سیکرٹ اب تک 10 لاکھ سبسکرپشن حاصل کرچکا ہے۔

 

One Comment

  1. Avatar
    Rizwanali   September 13, 2019 9:28 pm/ Reply

    Kya yehi kaaam halal ha

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں