ہوم   > معیشت

وزیراعظم پر الزام عائد کرنا غلط ہے، اسد عمر

2 weeks ago

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر کا کہنا ہے کہ جی آئی ڈی سی ( گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس آرڈیننس ) کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان پر الزام لگانا غلط ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمرکا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے رشتے داروں یا دوستوں کے پیسے بنانے کیلئے یہ سب نہیں کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خزانہ یہ آرڈیننس میں نے نہیں بنایا تھا البتہ آئیڈیا میرے دور میں شروع ہوا۔

اسد عمر کے مطابق جن سیکٹرز کو 208 ارب روپے سے نوازنے کی بات ہو رہی ہے اسی حکومت نے ان سیکٹرز پر گیس قیمت کی مد میں سالانہ 136 ارب روپے اضافہ کیا۔

سابق وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ اس میں قرضے معاف کرنے کی تو کوئی بات ہی نہیں۔ بات تو عوام کا پیسہ واپس خزانے میں لانے کی ہو رہی تھی۔ اگر وزیراعظم ایسا کر رہے ہوتے تو آرڈیننس واپس نہ لیتے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزحکومت نے جی آئی ڈی سی آرڈیننس واپس لے لیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ معاملہ شفاف بنانے کیلئے اٹارنی جنرل کو عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کا مقصد عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے 50 فیصد رقم وصول کرنا تھا۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق عدالت سے رجوع کرنے پر فیصلہ خلاف آنے کا بھی خطرہ ہے۔ سپریم کورٹ جی آئی ڈی سی کو غیر قانونی قراردے چکی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست بھی خارج کردی گئی تھی۔ آرڈیننس کی صورت میں نئی قانون سازی کی جسے مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا۔

یاد رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے کہا گیا کہ آرڈیننس کے ذریعے حکومت کی معاشی ٹیم نے من پسند کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے اقدام کے تحفظ کی کوشش کی ہے۔ حکومت نے معاملے پر وضاحت کیلئے پریس کانفرنس بھی کی لیکن بالآخر وزیراعظم کی جانب سے اس آرڈیننس کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔

پس منظر

حکومت نے گزشتہ دنوں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میںمختلف کمپنیوں کو 208 ارب روپے معاف کردیے تھے جس پر مخالف حلقوں کی طرف سے کافی اعتراضات اٹھائے گئے۔ وفاقی کابینہ میں بھی وزراء کے اعتراض پر مشیرخزانہ حفیظ شیخ کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں