پاکستان میں 40 ہزار والے پرائز بانڈ پر پابندی، اس کامتبادل کیا ہے ؟

June 25, 2019

 

حکومت پاکستان نے گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے چالیس ہزار کے پرانے پرائز بانڈز کی خرید و فروخت بند کردی لیکن اسے کیوں بند کیا گیا ہے، اس کا متبادل کیا ہے یہ سوال لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔

پاکستان میں ملنے والے پرائز بونڈ میں سب سے بڑا اور مہنگا بانڈ 40 ہزار کی مالیت والے اور سب سے سستا 100 روپے کی مالیت ہے ۔

اگر آپ کے پاس 40 ہزار مالیت والے پرائز بانڈ موجود ہیں تو آپ کے پاس 9 ماہ ہیں جس کے دوران آپ تین طریقے سے اسے تبدیل کراسکتے ہیں، جس میں ایک اسپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ اور ڈیفینس سیونگ سرٹیفیکیٹ جبکہ تیسرا آپشن پرمیئر پرائزبونڈ ہے، پرانے پرائز بانڈز کی اب کوئی قرعہ ندازی بھی نہیں ہوگی، پرانے پرائز بانڈ کو کیش بھی نہیں کیا جائے گا۔

اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے تحت 40 ہزار روپے مالیت کے پرانے رجسٹرڈ پرائز بانڈ کی خرید و فروخت 24 جون سے بند ہوگئی ہے اور انہیں تبدیل کرانے کی آخری تاریخ 30 مارچ 2020 ہے۔ اس کیلئے آپ حبیب بینک ، یونائٹڈ بینک ، نیشنل نیبک ، مسلم کمرشل بینک ، الائیڈ بینک اور بینک الفلاح کے مخصوص برانچوں سمیت اسٹیٹ بینک کی 16 برانچوں سے بھی تبدیل کرائے جاسکتے ہیں اسٹیٹ بینک کی دو برانچیں کراچی میں موجود ہیں جبکہ تیسرا آپشن یہ ہے کہ نیشنل سیونگ سینٹر کی 376 برانچوں سے بھی تبدیل کرسکتے ہیں ۔

اگر آپ 40 ہزار والے بانڈ کے بدلے اسپیشل سیونگ سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں تو آپ سالانہ 12.47 فیصد یا 4988 روپے منافہ کماسکتے ہیں ۔جبکہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ سے سالانہ 11.57 فیصد منافہ کماسکتے ہیں ۔

اگر آپ پریمیر پرائز بانڈ لیتے ہیں تو یہ اسٹینڈرڈ پرائز بانڈ سے تھوڑا مختلف ہوگا۔

حقیقی سرمایہ کار 40 ہزار مالیت کا بانڈ اس غرض سے خریدتے تھے کہ اس کا انعام زیادہ ہوتا تھا لیکن یہ ان لوگوں کیلئے بھی اہمیت رکھتا تھا جو کالے دھن کو سفید کرنا چاہتے تھے ۔

تاہم حکومت کی جانب پرمیئر بانڈ کا جو آپشن دیا گیا ہے یہ بانڈ آپ کے نام پر رجسٹرڈ ہوگا جبکہ اس سے قبل جو عام بانڈ ہوتا ہے وہ کسی کے نام پر رجسٹرز نہیں ہوتا ، حکومت چاہتی ہے کہ اکنامی کو دستاویزی حالت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اس سے قبل 40 ہزار والے بانڈ کو 40 ہزار والے نوٹ کی جگہ استعمال کیا جاتا تھا،جبکہ ٹیکس چور اس پرائز بانڈ کو کالے دھن کی جگہ استعمال کیا جاتا تھا تاہم حکومت کے اس اقدام سے ایف بی آر کو یہ معلوم ہوگا کہ کس کے پاس کتنا بانڈ موجود ہے ۔