ہوم   > Latest

بجٹ خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح ایک ہزار 922 ارب سے تجاوز کرگیا

4 months ago

وفاقی حکومت کی آمدن اور اخراجات میں فرق بڑھنے لگا، موجودہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 441 ارب روپے اضافے سے ایک ہزار 922 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2018ء تا مارچ 2019ء کے دوران بجٹ خسارے میں 441 ارب روپے اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی خسارہ 1922 ارب روپے تک پہنچ گیا، گزشتہ سال اسی عرصے میں بجٹ خسارہ 1481 ارب روپے رہا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے لحاظ سے 5 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال اسی مدت میں 4.7 فیصد تھا، موجودہ مالی سال میں بجٹ خسارے کا نظرثانی شدہ ہدف 5.1 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق 9 ماہ میں مجموعی آمدن 3 ہزار 583 ارب روپے رہی جبکہ اخراجات 5 ہزار 506 ارب روپے سے بھی بڑھ گئے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت نے پہلے تین کوارٹرز میں 1459 ارب قرضوں پر سود کی مد میں ادا کئے، 774 ارب روپے دفاع پر خرچ کئے گئے جبکہ 684 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر صرف ہوئے۔

حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کیلئے مختلف ذرائع سے 1922 ارب روپے حاصل کرچکی ہے، جس میں 1398 ارب روپے مقامی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے جبکہ 524 ارب روپے بیرونی ذرائع سے حاصل کئے گئے۔

مالی سال 19-2018ء کے نو ماہ کے دوران ٹیکس محاصل کی مد میں 3162 ارب روپے حاصل ہوئے جبکہ نان ٹیکس انکم 421 ارب روپے رہی۔

رپورٹ کے مطابق صوبوں نے اپنے بجٹ اہداف کے برخلاف 292 ارب روپے کم خرچ کئے، پنجاب نے 157 ارب روپے، سندھ نے 52 ارب، بلوچستان کے 43 ارب اور خیبرپختونخوا کے پاس 38 ارب روپے بچ گئے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
3 hours ago
4 hours ago
5 hours ago