Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

آئی ایم ایف کے پروگرامز پاکستان کے لیےکیوں کارآمد نہیں ہیں

SAMAA | - Posted: Oct 25, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 25, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پاکستان اپنی تاریخ میں 22 ویں بار آئی ایم ایف کے پاس امداد کے لیے جارہا ہے مگر یہ نوبت آتی ہی کیوں ہے؟

آئی ایم ایف کی کئی کامیاب داستانیں ہیں۔ آئرلینڈ، فرانس، برطانیہ اور جنوبی کوریا وہ ممالک ہیں جنھوں نے آئی ایم ایف پروگرام سے اپنی معیشت کو کامیابی سے مضبوط کیا۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کاکہناہےکہ آئی ایم ایف سے اجتناب نہ کرنے کی وجہ کرپشن اور پچھلی حکومت کی پالیسیوں کا فقدان ہے۔ تاہم ضروری نہیں کہ صرف یہ ہی وجوہات ہوں۔

آئی ایم ایف پروگرام  سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر ممالک ترقی یافتہ ہیں۔ کچھ معاشی ماہرین کی  رائے ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرامز  ترقی پذیر یا غریب ممالک کے لیے قطعی طور پر فائدہ مند نہیں۔

ان پروگرامز کے تحت جو قرضے دئیے جاتےہیں ان کی شرائط میں معاشی اصلاحات، کرنسی کی قدر کم کرنا اور اداروں کی نج کاری شامل ہیں۔ معاشی اصلاحات کے تحت ٹیکس کے نظام کو وسیع کرکےپرانی مانیٹری پالیسیوں کو جدید کرنا، کرنسی کی قدر کم کرکے برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو کم کرنا، اداروں کی نج کاری کرنا جن میں خسارے کے شکار اداروں کو بیچ کر آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی شامل ہے۔

پاکستان آخری بار آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے،وزیرخزانہ

نوبل انعام یافتہ جوزف اسٹگ لیٹس ہمیشہ سے آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے مخالف رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں حالات کو بہتر بنانے کے بجائے بگاڑتی ہیں ۔ مثال کے طور پر زیادہ اداروں کی نج کاری سے لوگ بےروز گار ہونگے اور اگر سوشل سیکورٹی کا نظام ترقی پذیر ممالک میں نہیں ہو،جیسا کہ عام طور پر ہوتاہے، وہاں بے روز گار افراد کے پاس گھر چلانے کے لیے کوئی ذرائع نہیں ہوتے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے 60 سالہ پرانے تعلق پر ایک نظر

روپے کی قدر کم کرنے سے درآمدات کم ہونگی مگر درآمد ی بل کا وسیع حصہ پیٹرولیم مصنوعات اور مشینری کے لیے چلاجائے گا۔ دونوں چیزیں  پروان چڑھتی معیشت کا حصہ ہوتی ہیں۔ برآمدات میں اضافے کےلیے،پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کی برآمدات کی طلب میں اضافہ نہیں ہوتا ،اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پاکستانی مصنوعات  کم قیمت بھی ہوجائیں تب بھی ان کو خریدار نہیں ملتا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کا60 سالہ پرانا رشتہ

مثال کے طور پر اگر پاکستانی برآمدی شرٹس کم قیمت بھی ہوجاتی ہیں تو ایک حد ہوگی کہ کوئی شخص قیمت سے قطعی نظر ہو کر کتنی شرٹس لے سکتاہے۔ اس کے برعکس ،جاپان جیسے ملک کی کرنسی کی قدر اگر کم ہوجاتی ہے اور جاپانی گاڑیوں کی قیمت کم ہوجاتی ہے،تب بھی زیادہ لوگ جاپانی گاڑیاں لیں گے۔

آئی ایم ایف کا لین دین  ایس ڈی آر میں ہوتا ہے جو کہ ایک  مخصوص کرنسی ہوتی ہے۔ اگر ہم آئی ایم ایف کے تمام قرضوں کو جمع کریں اور انھیں امریکی ڈالرز میں تبدیل کریں تو مجموعی قرضہ  27 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگا اور یہ رقم مہنگائی  کے علاوہ ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube