Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کس طرح کی؟

SAMAA | - Posted: Sep 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت نے اقتدار کے ایوان میں قدم رکھتے ہی سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی شروع کردی، کچھ لوگوں نے اسے مثبت قرار دیا تو بہت سے لوگوں نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں میں واضح تبدیلی سی پیک کے قلیل اور طویل مدتی فوائد اور نتائج پر نئی بحث شروع کرچکی ہے۔

سماء ڈیجیٹل نے پاکستان میں ہونے والی ان چینی سرمایہ کاریوں پر تحقیق کی جو گزشتہ دس سالوں میں بیلٹ اینڈ روڈ کے نام سے پاکستان اور دنیا بھر میں کی گئیں۔ ان تمام چینی سرمایہ کاریوں سے متعلق اعداد و شمار کیلئے امریکن انٹرپرائزز انسٹی ٹیوٹ، امریکی تھنک ٹینک پبلک پالیسی کے جاری کردہ مواد سے مدد حاصل کی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کا اندازہ لگانا ہے۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کی دو صورتیں ہیں۔

اول **۔ ایک براہ راست سرمایہ کاری، جس میں خود چینی حکومت یا حکومت سے منسلک کوئی فرم پاکستان میں کسی خاص شعبے میں سرمایہ کاری کرتی ہے، جہاں وہ پورا کا پورا کاروبار خریدتی ہے یا کچھ نیا کاروبار شروع کرتی ہے، اس کی ایک مثال سال 2007ء میں دیکھنے میں آئی، جب پاکستان میں چین کی جانب سے چائنا موبائل زونگ نے پاک ٹیل کو خریدا۔ ایسی ہی حالیہ مثال معروف آئن لائن شاپنگ سائٹ دراز پی کے کی ہے، جس نے دنیا کی معروف ترین آئن لائن کمپنی علی بابا کے ساتھ معاہدہ کیا۔

دوئم **۔ چینی نجی یا سرکاری کمپنیوں کو دیئے جانے والے معاہدے، اس صورت میں مختلف سیکٹرز میں کام کیلئے پاکستان کو قرض دیئے جاتے ہیں،  یہ قرضہ چینی بینک سے ہی دیا جاتا ہے، کسی اور بینک سے نہیں اور اس قرضے کو حاصل بھی صرف چینی کنٹریکٹر کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ جیسے چینی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن کی جانب سے 6.5 ارب کا قرضہ دو نئے ری ایکٹرز کی کراچی میں تعمیر کیلئے دیا گیا، جسے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کا نام دیا گیا ہے۔

براہ راست سرمایہ کاری:۔

مجموعی طور پر سال 2014ء سے سی پیک کے ذریعے چین نے 7.63 ارب  ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جبکہ سال 2015ء میں یہ سرمایہ کاری تجاوز کرگئی، اسی سال چین کی جانب سے مجموعی 2.78 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری توانائی کے شعبہ میں کی گئی۔

ان 10 برسوں میں چینی کمپنیوں نے توانائی کے شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری کی، جس کے بعد ٹیکنالوجی (زیادہ تر ٹیلی کام) اور ٹرانسپورٹ کا نمبر آتا ہے، اگر ہم بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے ذریعے چین کی سرمایہ کاری پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان میں انرجی کے شعبے میں چین کی سرمایہ کاری چوتھے نمبر پر ہے۔

معاہدے

ہم نے کئی بار سنا کہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے تحت پاکستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے، اس نقشے کے ذریعے یہ معاملہ سمجھنے میں مدد ملےگی۔

 

 
 Made with Flourish, Developed @ SAMAA Digital

اب تک سی پیک کے ذریعے پاکستان میں تعمیراتی پروجیکٹس کی لاگت 31.8 ارب ڈالر ہے، بنگلادیش ان منصوبوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اس کے منصوبوں کی مالیت 18.2 ارب ڈالر ہے، ان میں سے زیادہ تر پروجیکٹس انرجی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت 68 ممالک میں تعمیراتی منصوبے چل رہے ہیں، پاکستان میں توانائی کے شعبے میں چین کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور اس کا تخمینہ 22.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

چین سے آنے والا یہ سرمایہ امداد نہیں بلکہ قرضہ کی مد میں ہے،  یہ رقم چین کو واپس کرنا ہوگی۔

سینٹرل گلوبل ڈیولمپنٹ کی رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت چین 80 فیصد منصوبوں کیلئے سرمایہ فراہم کرے گا، یہ رقم قرضہ کی صورت میں ملے گی اور اس کی واپسی 5 فیصد سود کے ساتھ کی جائے گی۔ اس تحقیق میں بی آر آئی کے فنڈز کے ذریعے دنیا کے 68 ممالک میں جاری منصوبوں میں قرضے کی شرح کا اندازہ لگایا گیا۔ یہ بات سامنے آئی کہ 23 ممالک دیوالیہ کے نزدیک ہیں، ان میں 8 ممالک میں بی آر آئی کی فنڈنگ بڑھائی جائے گی، پاکستان بھی ان میں سے ایک ملک ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube