ریلوے کےمحکمے کا100 برس سے کوئی پرسان حال نہیں

Zaheer Ali Khan
August 31, 2018

ریلوے کا سو سال سے کوئی پرسان حال ہی نہیں ۔ گیارہ ہزار پُلوں نے مرمت کے انتظار میں ایک صدی گزاردی۔ ہزاروں بوگیاں زائد المعیاد ہوچکی ہیں۔ تینوں ٹریک بھی اسی فیصد تک اپنی عمر کب کی  پوری کرچکے ہیں۔ اس لئے کبھی بھی بڑا حادثہ پیش آنے کے خدشات بڑھ گئے۔

سینیٹ کی ریلوے کمیٹی میں تہلکہ خیز انکشافات سامنےآئےہیں۔ ہر دور کی حکومت ریلوے کو پیروں پر کھڑا کرنے کی دعویداررہی لیکن حقیقت میں ریلوے کی بنیادیں بھی کھوکھلی کر دی گئیں۔

دستاویزات کے مطابق ریلوے کے 13 ہزار 900  میں سے 11 ہزار پلوں کی 100 سال سے مرمت ہی نہیں ہوئی ۔ مال گاڑیوں کی 16 ہزار سے زائد بوگیوں میں سے تقریباً 10 ہزار کی معیاد ختم ہوچکی ہے۔1822 مسافر کوچوں میں سے 606 بھی مدت پوری کرچکی ہیں ۔کمیٹی ارکان کے مطابق افسران کو آدھا سچ بولنے کی عادت اب چھوڑنا ہوگی ۔

اس کے علاوہ کراچی،لاہور اور پشاور کے ٹریک ایم ایل ون کا 3ہزار کلومیٹر حصہ زائد المعیاد ہوچکاہے۔

کوٹ ادو اور کوٹری کے ٹریک ایم ایل ٹو کے ساڑھے 12 سو کلومیٹر حصے کی عمر بھی کب کی پوری ہوچکی ہے۔ کوئٹہ تفتان ٹریک کا ایک ہزار کلومیٹر کے قریب ٹریک بھی مدت پوری کر چکا ہے۔