اسٹیٹ بینک کایوآن کےحوالےسے اہم فیصلہ

January 3, 2018

کراچی: بینک دولت پاکستان نے مالی اور کرنسی مارکیٹوں کے پالیسی ساز ادارے کی حیثیت سے چینی یوآن کرنسی میں درآمدات، برآمدات اور مالی لین دین کو یقینی بنانے کے لیے جامع پالیسی اقدامات کیے ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ادارے (پاکستانی اور چینی، دونوں) تجارتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے لیے چینی یوآن کو منتخب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

زرمبادلہ کے موجودہ ضوابط کے تحت چینی کرنسی یوآن پاکستان میں بیرونی کرنسی لین دین کو  کرنے کی منظور شدہ کرنسی ہے۔ اسٹیٹ بینک پہلے ہی مطلوبہ ضوابطی فریم ورک نافذ کر چکا ہے، جس کے تحت تجارت و سرمایہ کاری لین دین میں چینی یوآن کے استعمال میں سہولت دی گئی ہے، جیسے ایل سیز کھولنا اور چینی یوآن میں فنانسنگ کی سہولتوں سے استفادہ کرنا۔ پاکستان میں ضوابط کے لحاظ سے چینی یوآن کو دیگر بین الاقوامی کرنسیوں  کے مساوی حیثیت حاصل ہے جیسے امریکی ڈالر، یورو اور جاپانی ین وغیرہ۔

یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہو گا کہ  پیپلز بینک آف چائنا  سے کرنسی سواپ سمجھوتے (سی ایس اے) پر دستخط کے بعد اسٹیٹ بینک نے چین کے ساتھ دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری میں چینی یوآن کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو چینی یوآن میں  ڈپازٹس قبول کرنے اور تجارتی قرضے دینے کی اجازت دی تھی   ۔ کرنسی سواپ سمجھوتے کی رقوم سے قرض دینے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے قرضہ جاتی طریقہ کار وضع کیا ہے تا کہ وہ اسٹیٹ بینک سے چینی یوآن میں فنانسنگ حاصل کر کے درآمدکنندگان اور برآمدکنندگان کو چینی یوآن میں  تجارتی لین دین  کے لیے قرضے جاری کر سکیں۔ سماء