عالمی بینک نے پاکستانی معیشت کے متعلق خبردار کردیا

November 11, 2017

کراچی: پاکستانی معیشت کے غبارے سے ہوا نکلنے لگی۔ ٹیکس محاصل، ترسیلات زر اور زر مبادلہ میں مسلسل کمی جبکہ مجموعی قرض، تجارتی، کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔


عالمی بینک کی تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کی گاڑی کے چاروں پہیوں سے ہوا نکلنے لگی۔ دوہزار سولہ سترا میں ایف بی آر کے ٹیکس محاصل کے ہدف میں سترا فیصد کے مقابلے میں صرف آٹھ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایف بی آر ٹارگٹ سے دو سو ساٹھ ارب روپے پیچھے رہ گیا۔

بیرونی سرمایہ کاری پر جمود طاری تو ذرمبادلہ کے ذخائر بھی سکڑ گئے۔ جون دوہزار سولہ میں زرمبادلہ کے ذخائر اٹھارا ارب ڈالر سے زائد تھے تو رواں سال جون میں سولہ اشاریہ دو ارب رہ گئے۔ دو ہزار سترا میں  بیرونی ذرائع سے دس ارب ڈالر سے زائد قرضہ لیا گیا جس میں سالانہ ڈیڑھ کھرب روپے تو صرف غیر ملکی قرضوں پر سود ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوہزار سترا میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ دس سال کی بلند ترین سطح یعنی ساڑھے بارہ ارب ڈالر تک اور تجارتی خسارہ ستائیس ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر رہا جبکہ بجٹ خسارہ سات سو ارب اضافے کے ساتھ  بائیس سو ارب تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ترقی کی شرح چھ فیصد ہدف کے بجائے پانچ اشاریہ پانچ فیصد رہنے کا خدشہ ہے۔ ملک کو روزگار کے سالانہ بیس لاکھ مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.