پاکستان پھر گردشی قرضوں کے گرداب میں پھنس گیا

March 19, 2017

53ffa7dbb80d4

اسلام آباد : پاکستان ایک بار پھر گردشی قرضوں کے گرداب میں پھنس گیا، چارسو پندرہ ارب کی ادائیگی کیلئے حکومت اور نجی پاور کمپنیوں میں نئی محاذ آرائی شروع ہو گئی، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔

ملک کے گردشی قرضے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے، 2013 میں سرکار نے بغیر کسی آڈٹ کے پورے 480 ارب روپے گردشی قرضوں کی مد میں دے دیئے، ساتھ میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری  اور ملک سے  اندھیروں کے خاتمے کے دعوے بھی کئے، لیکن نتیجہ چار سال بعد بھی وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔

1319972-pak-1486527869-674-160x120

ماہرین کہتے ہیں کہ سسٹم ٹھیک کئے بغیر اربوں کے منصوبے کسی کام کے نہیں، نظام ٹھیک نہ ہوا تو لوڈ شیڈنگ ختم ہوگی نہ ہی قرضہ ختم ہوگا۔

52f5bdc449aa9

بجلی کی نجی کمپنیاں ہی نہیں پی ایس او اور آئل ریفائنریز بھی مشکل کا شکار ہیں، سرکاری اداے تقریباً 100 ارب کے ڈیفالٹر ہیں۔ ماہرین کے مطابق گردشی قرضہ ایک بار پھر عوام کی جیبوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.