Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

سندھ کی خوشحالی کا خواب اور سی پیک

SAMAA | - Posted: Jan 27, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Jan 27, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Gwadar-640x360
بر سہا برس میں کوئی واقعہ ایسابھی وقوع پزیر ہوتا ہے جوقوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے، ملکوں اور معاشروں کے حالات کو ایک نیا رخ دیتاہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا آغاز بھی پاکستان کی تاریخ کا ایساہی ایک سنگ میل ہے جس کے اس خطے اور خصوصاً ہماری معیشت پرغیرمعمولی اثرات مرتب ہونگے۔

گوکہ اس منصوبے کے تحت 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ثمرات چاروں صوبوں نے سمیٹنے ہیں لیکن اس کے باوجود پنجاب کے علاوہ باقی تین صوبوں کے مختلف نوعیت کے تحفظات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جتنا بڑا یہ منصوبہ ہے اتنے ہی بڑے داخلی اور خارجی چیلنجز اسے درپیش ہیں۔ اس کے علاوہ کئی سوالات بھی جواب طلب ہیں کہ ان منصوبوں میں کتنی شفافیت ہوگی، پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں، مقامی لوگوں کو کتنا روزگار ملے گا وغیرہ وغیرہ۔

Pakistan Navy Ship providing Escort to the 1st Chinese merchant ship sailed from Gwadar Port. (1)
سرکار ی اعداد وشماربتاتے ہیں کہ پاک چین معاہدے کے تحت 46 میں سے 43 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں اور21 ارب ڈالر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔ زیادہ رقم یعنی ساڑھے گیارہ ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے، دوسرے نمبر پر بلوچستان میں 7.1 ارب ڈالر کے پروجیکٹ بنیں گے، تیسرے نمبر پر پنجاب میں 6.9 ارب کے پرجیکٹ تعمیر ہوں گے اور چوتھے نمبر پر خیبر پختونخوا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر صوبے میں ایک اقتصادی زون قائم بھی ہوگا۔

 

gwadar-a-modern-day-fatehpur-sikri-1457190518-5263-610x380

سرکار ی اعداد وشماربتاتے ہیں کہ پاک چین معاہدے کے تحت 46 میں سے 43 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں اور21 ارب ڈالر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔ زیادہ رقم یعنی ساڑھے گیارہ ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے، دوسرے نمبر پر بلوچستان میں 7.1 ارب ڈالر کے پروجیکٹ بنیں گے، تیسرے نمبر پر پنجاب میں 6.9 ارب کے پرجیکٹ تعمیر ہوں گے اور چوتھے نمبر پر خیبر پختونخوا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر صوبے میں ایک اقتصادی زون قائم بھی ہوگا۔

یہاں ہم بات کریں گے صوبہ سندھ میں سی پیک منصوبوں کی۔ سندھ میں کل 13 منصوبے سی پیک کا حصہ ہیں۔ ان میں مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن لائن، مٹیاری فیصل آباد ٹرانسمیشن لائن، پورٹ قاسم پاور پلانٹ، اینگرو تھر پاور پلانٹ اینڈ سرفیس مائن ان بلاک ٹو آف تھر کول فیلڈ داؤد ونڈ فارم، جھمپیر ونڈ فارم، سچل ونڈ فارم، چائینہ سیونیس ونڈ فارم، اپ گریڈیشن آف ایم ایل ون، تھرکول بلاک ون اینڈ مائن ماوتھ پاور پلانٹ، گوادر تا نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل اینڈ پائپ لائن، کراچی تا لاہور موٹروے اور جوائٹ فزیبلٹی سٹڈی فار اپ گریڈیشن آف ایم ایل ون شامل ہیں۔

1083421-cpecreuters-1460462542-288-640x480
اس منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے دسمبر2016 کے آخری ہفتے میں ایک اہم بریک تھرو ہوا ۔ یہ تھا سندھ کے کچھ مزید منصوبوں کی سی پیک میں شمولیت۔ یہ پیشرفت سی پیک کے حوالے سے بیجنگ میں ہونے والی ’’پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی ‘‘ کی چھٹی میٹنگ میں ہوئی جس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی سندھ کابینہ کے اہم اور متعلقہ ارکان کے ساتھ شریک ہوئے۔

اس اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ نے کمیٹی کو سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کے حوالے سے بریفنگ دی اور اس راہداری میں سندھ کے تین مزید منصوبے شامل کروانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ تین منصوبے تھے کراچی سرکلر ریلوے، کیٹی بندر اور خصوصی اقتصادی زون۔ یہ یقیناًپیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی ایک بہت بڑی کامیابی اور سندھ کے عوام کے لئے خوشخبری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ چند ماہ میں ان منصوبوں کی فیزایبلٹی رپورٹ تیار کر لی جائے گی جس بعد بعد ان پر کام کا آغاز ہو سکے گا۔

 

PAK CHINA CPEC
یہ نہایت خوش آئند ہے کہ کراچی کے عوام کا دیرینہ مطالبہ یعنی سرکلر ریلوے کی بحالی پورا ہو رہا ہے۔ اس سے ٹراسپورٹ کا مسئلہ بڑی حد تک حل کیا جا سکے گا اور شہر کو پبلک ٹرانسپورٹ مافیا سے بھی نجات ملے گی۔

اس کے علاوہ کیٹی بندر اور اقتصادی زون؂ کی تعمیر کے دو منصوبے ایسے ہیں جن سے سندھ میں لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا اور سندھ کے پسماندہ شہروں میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ان منصوبوں کی تفصیلات کچھ یوں ہے:

کیٹی بندر ضلعہ ٹھٹھہ کے علائقے گھارو سے تقریباً 120 کلو میٹر دور واقع بندر گاہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم ساحلی شہر دیبل کی باقیات پر تعمیر کی گئی بندر گاہ ہے جہاں آج سے سیکڑوں برس قبل ایک کاروباری شہر آباد تھا، جہاں سے ہزاروں ٹن چاول ، مچھلی اور دوسری دیسی اشیا ء دنیا کے مختلف شہروں میں کشتیوں کے ذریعے سندھ سے بھیجی جاتی تھی۔ آج اس کا پرسان حال کوئی نہیں۔ ایک بار پھر سندھ حکومت نے منصوبہ بنایا ہے کہ کیٹی بندر کو سی پیک منصوبے میں شامل کر کے دوبارہ سے فعال کیا جائے۔

کیٹی بندر تھر کول پروجیکٹ کے لئے پاور پارک کا کرداد ادا کر سکتا ہے۔ یہاں تھر کول سے لائے جانے والے کوئلے کو ٹھنڈا کرنے کی سہولت ہوگی۔ کیٹی بندر کراچی سے صرف160 کلو میٹر دور ہے اور بذریعہ سڑک منسلک ہے۔کراچی لاہور موٹر وے سے اس منصوبے کو منسلک کرنا نہایت آسان ہوگا ۔ اس سے 50 لاکھ افراد فائدہ حاصل کر پائیں ۔ یہاں آبادی کم ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی اثرات بھی کم ہوں گے۔

 

CPEC3
کیٹی بندر پر نئی جیٹی کی تعمیر سے کوئلہ برآمد کرنے کی سہولت بھی بڑھے گی جبکہ اسے مکمل بندر گاہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ منصوبے کے تحت یہاں ایک بڑا پاور پارک تعمیر کیا جائے گا جس کی ٹرانسمیشن لائن جامشورو اور مٹیاری گرڈ سے منسلک کی جائے گی۔ اسلام کوٹ سے کیٹی بندر تک کوئلے کی ترسیل کے لیے 235 کلو میٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی جبکہ کیٹی بندر کو نوری آباد سے ملانے کے لیے 190 کلو میٹر طویل سڑک بھی تعمیر کی جائے گی۔
چین میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ہر صوبے میں ایک خصوصی اقتصادی زون ہوگا اور سندھ میں دھابیجی اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جائے گا۔ اسپیشل اکنامک زون اتھارٹی سندھ نے تجویز پیش کی ہے کہ ٹھٹھہ میں دھابیجی اور کیٹی بندر اسپیشل اکنامک زونز قائم کیے جائیں۔ دھابیجی ایک ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے جبکہ یہ کراچی سے 55 کلو میٹر کے فاصلے پر سی پیک این 5 یا ایم 9 کے مشرق میں واقع ہے۔ کیٹی بندر کا اسپیشل اکنامک زون 3 ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے ۔ یہ کراچی سے 153 کلو میٹر کی مسافت پر ہے جبکہ اس علاقے کی صنعتی صلاحیتوں کا اندازہ پورٹ کی تعمیر کے بعد لگایا جاسکے گا۔
gwadar
صوبائی وزیر برائے انڈسٹریز منظور وسان نے جے سی سی پر زور دیا کہ خیرپور اسپیشل اکنامک زون کو بھی سی پیک میں شامل کیا جائے ۔ اب یہ حکومت سندھ پر منحصر ہے کہ وہ فزیبلٹی رپورٹس کی روشنی میں کس اقتصادی زون کو سی پیک کا حصہ بناتی ہے۔ اگر کوئی زون سی پیک کا حصہ نہ بھی بنا تو بھی فکر کی کوئی بات نہیں، یہ سندھ کی تعمیر اقتصادی ترقی میں ضرور کردار ادا کرے گا۔ فی الحال جے سی سی میں کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں نے سندھ حکومت ایک تفصیلی پلان اور فیزیبلٹی رپورٹ پر کام کررہی ہے ۔

دوسری جانب تھر کول فیلڈ کو خصوصی اقتصادی زون قرار دیا جا چکا ہے۔ اس سے تھر کول کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا بھی ممکن ہو جائے گا جس سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم ہوگی۔اسی ماہ (جنوری کے آخری ہفتے میں ) چین اور پاکستان کی ایک کمپنی کے درمیان بلوچستان (حب) اور تھر میں ایک ایک پاور پلانٹ کی تنصیب کامعاہدہ ہوا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے گی۔
gwadar1

سی پیک کے ان منصوبوں کی روشنی میں امید کی جا سکتی ہے کہ اگر سنجیدگی اور خلوص سے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا تو آنے والا وقت سندھ کے عوام کے لئے امن و خوشحالی کے دن لائے گا اور بدحالی سے نجات کی نوید سنائے گا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube