Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > ثقافت

وفاقی دارالحکومت کی پہاڑیوں کا نام مارگلہ کیوں پڑا

SAMAA | - Posted: Aug 26, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 26, 2020 | Last Updated: 2 months ago

یہ علاقہ چوروں اور ڈاکوؤں کی آماجگاہ تھا

مارگلہ کی پہاڑیاں صرف دلکش منظر ہی نہیں بہت سی قدیم کہانیوں کی امین بھی ہیں۔ پہاڑی پتھروں سے بنا قدیم رستہ مغل دور کے تالاب اور سلطان محمود غزنوی کی بنائی گئی مسجد کی جانب جاتا ہے۔ یہی راستہ  کبھی چور پور کا دروازہ کہلاتا تھا۔

کسی زمانے میں یہ ایک ویران بیابان علاقہ تھا۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر چوروں اور ڈاکوؤں نے اسے اپنی آماجگاہ بنا لیا۔ یہ لٹیرے اپنے شکار کا گلہ کاٹ دیتے تھے۔ اسی نسبت سے ان پہاڑیوں کا نام مارگلہ اور اس ویران علاقے کا نام چور پور پڑا۔

تاریخ دان راجہ نور محمد نظامی کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں مقامی طور پر اس کو چوروں کی گھڑی کہتے ہیں۔ وجہ تسمیہ نور پور شاہ میں لکھا ہوا ہے کہ اس کو پہلے چور پور کہتے تھے۔

اس علاقے میں ایک جگہ ہے جیسے چوروں کی گڑھی کہتے ہیں۔ دوسری جانب ایک جگہ ہے نورپور جو کبھی چور پور کہلاتی تھی۔

مغل دور حکومت میں جب بادشاہ شاہجہان کا یہاں سے گُزر ہوا تو پھر ان علاقوں کے نام اُسی سے منسوب کردئیے گئے۔

راجہ نور محمد نظامی کے مطابق شاہ جہان بادشاہ تھا۔ اُسکا بچپن میں میں نام خُرم تھا، وہ یہاں آتے تھے تو شکار کرتے تھے۔ اس مناسبت سے ان علاقوں کا نام خُرم گُجر اور خرم پراچہ پڑا

صدیوں پُرانا یہ قدیم رستہ آج بھی وفاقی دارلحکومت میں جانے کی مختصر ترین راہ ہے۔ اس راستے میں کئی تاریخی نشانیاں آج بھی موجود ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube