Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

یورو فٹبال چیمپئن شپ: دفاعی چیمپئن پرتگال آؤٹ

SAMAA | - Posted: Jun 29, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 29, 2021 | Last Updated: 3 months ago

 یورو 2020  چیمپئن شپ کے ناک آوٹ مرحلے سے ہیوی ویٹ ٹیموں کی رخصتی شروع ہو گئی ہے۔ دفاعی چیمپئن پرتگال ‘ ہالینڈ اور یورو 2020  کے سیمی فائنلسٹ ملک ویلز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ آسٹریا  سخت مزاحمت کے بعد اٹلی سے ہار گیا۔

 پرتگال کے ٹورنامنٹ سے آوٹ ہونے کے ساتھ ہی کرسٹیانو رونالڈو کی ایران کے فٹبالر علی داعی کے 109 انٹرنیشنل گولز کا عالمی ریکارڈ توڑنے کی خواہش دل میں ہی دھری کی دھری رہ گئی ۔

 ارور اب اس ریکارڈ کو توڑنے کیلئے انہیں کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ رونالڈو کا شاید آخری یورو ٹورنامنٹ تھا۔ جب میچ ختم ہوا تو رونالڈو انتہائی افسردہ تھے ۔ انہوں نے  وسل بجتے ہی اپنی آرم بینڈ اتار کر زمین پر دے ماری تھی ۔ تادم تحریر وہ ٹورنامنٹ میں پانچ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر تھے۔

سیویل اسپین میں فیفا کی عالمی رینکنگ میں نمبر ایک بلجیئم نے دفاعی چیمپئن پرتگال کو صفر 1-0 میں شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں باہر کر دیا ۔ گولڈن جنریشن پر مشتمل بلجیئم کی ٹیم نے رونالڈو بریگیڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور میچ کے آغاز سے حریف کھلاڑیوں پر حاوی رہی ۔

 شروع میں پرتگال کے ڈیاگو جوٹا کو موقع ملا تھا لیکن  ان کی لگائی ہوئی شوٹ گول پوسٹ سے کچھ فاصلے سے باہر چلی گئی تھی۔ میچ میں مجموعی طور پر گیند پر پرتگال کا قبضہ 53  فیصد تھا لیکن پہلے ہاف میں کیون ڈی بروئنے ‘ لوکاکو ‘ ایڈن ہیزرڈ اور تھورگن ہیزرڈ نے پرتگالی دفاع کو کئی بار توڑا اور کھیل زیادہ تر پرتگال کے ہاف میں ہوا۔ پہلا ہاف ختم ہونے سے دو منٹ قبل تھورگن ہیزرڈ نے 24 میٹر کی دوری سے خوبصورت کک لگائی جس کو پرتگالی گول کیپر نے جست لگا کر روکنے کی کوشش کی لیکن گھومتی ہوئی گیند چکمہ دے کر جال میں چلی گئی۔

 دوسرے ہاف میں پرتگالی کھلاڑیوں نے اچھا کھیل پیش کیا اور بہترین مووز کے ذریعے گول برابر کرنے کی کئی کوششیں کیں لیکن قسمت کے ساتھ بلجیئم کی مضبوط دفاعی لائن اور گول کبپرتھائبیوٹ کورٹس بھی ان کی راہ میں حائل رہے۔

 گول کیپر کورٹس نے کرسٹیانو رونالڈو کی لو فری کک کو روکا جو کہ 110 گول کرنے کی کوشش میں سرگرداں تھے تاکہ ایران کے علی داعی کا 109  انٹرنیشنل گولز ریکارڈ توڑ سکیں جس کوپرتگالی کپتان نے یورو 2020  کے پہلے راؤنڈ کے اخری میچ میں برابر کیا تھا ۔

 دوسرے ہاف میں بلجیئم کو اس وقت بڑا دھچکہ لگا جب ڈی بروئنے لنگڑاتے ہوئے گراؤنڈ سے باہر چلے گئے ۔ وہ بلجیئن ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتے تھے۔ تاہم ان کے باہر جانے کے باوجود بلجیئن ٹیم نے پرتگال کو گول کرنے کا موقع نہیں دیا ۔

دوسرے ہاف میں پرتگال کی کارنر کک پر بلجیئن گول کیپر کورٹس نے روبن ڈیاز کی گول کرنے کی زبردست کوشش کو ناکام بنا دیا جب انہوں نے زور دار ہیڈ کے ذریعے گیند کو گول پوسٹ میں دھکیلا تھا لیکن مستعد گول کیپر نے اسے کمال مہارت سے ناکام بنادیا ۔

 پرتگالی ٹیم ایک گول کی سبقت ختم کرنے کی مسلسل کوشش کرتی رہی تاکہ میچ کو اضافی وقت میں لے جایا جائے ۔ آخری منٹوں میں فیلکس کی انتہائی طافتور ڈرائیو بلجیئم کی رائٹ گول پوسٹ سے ٹکرا کر واپس آگئی جس پر گول کیپر بھی بیٹ ہو چکا تھا اور یہ یقینی گول تھا ۔ 87  ویں منٹ میں ایڈن ہیزرڈ بھی ہیمسٹرنگ کا شکار ہو کر باہر چلے گئے تھے۔  اب کوارٹر فائنل میں بلجیئم کا مقابلہ اٹلی سے ہو گا۔

 اس میچ سے پہلے  پرتگال اور بلجیئم میں 18 میچز کھیلے گئے تھے جن میں سے پرتگال چھ میں فاتح تھا ۔ بلجیئم نے پانچ میچ جیتے اور سات میچ ڈرا ہوئے تھے ۔ دونوں ٹیموں کا پہلا مقابلہ جنوری 1930 میں ہوا تھا جو بلجیئم نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیتا تھا ۔ آخری میچ جون 2018 میں ہوا جو بغیر کسی گول کے برابر رہا ۔

ڈنمارک نے ایمسٹرڈیم میں یورو 2020  ناک آوٹ مرحلے کے میچ میں ویلز کو 4-0 سے زیر کر کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی اور ویلز کی کوارٹر فائنل میں رسائی کا خواب چکنا چور کر دیا ۔اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کی ڈینش ٹیم کوزبردست سپورٹ حاصل رہی ۔

 ڈینش کھلاڑیوں نے پورے میچ کے دوران انتہائی مربوط حکمت عملی  اپنائی اور کسی بھی مرحلے میں ویلز کے ٹیم کھلاڑیوں کوحاوی نہیں ہونے دیا۔  ڈنمارک کی ٹیم 17 برس بعد  کوارٹر فائنل میں پہنچی ہے۔  ویلز کے کپتان اور سٹار کھلاڑی گاریتھ بیل کو ابتدا میں چند منٹوں میں دو سنہری مواقع ملے تھے جن کو وہ گول میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ ڈینش فٹبالر کیسپر ڈولبرگ نے میچ میں دو گول کیے اور وہ 1992 کے بعد یورو ناک آؤٹ گیمز میں دو گول کرنے والے پہلے ڈینش کھلاڑی بھی بن گئے۔

  ویلش  ٹیم 2016 کے یورو میں سیمی فائنل میں پہنچی تھی اور اس ٹیم کے آٹھ کھلاڑی اس وقت بھی ٹیم میں نمائندگی کررہے تھے۔  کیسپر ڈولبرگ نے 27 ویں منٹ میں پہلا گول کیا۔ ڈولبرگ نے 48 ویں منٹ میں ویلز کے متبادل کھلاڑی  نکوولیمز کی غلطی سے  بھرپور فائدہ اٹھایا اور گیند کو گول پوسٹ میں پہنچا کر ٹیم کی سبقت کو دگنا کر دیا۔

 اس گول کے ساتھ ہی ویلش ٹیم حوصلہ ہار گئی۔ تیسرا گول جواکم مہلی نے کیا اس کے کچھ دیر بعد متبادل ویلش فٹبالر ہیری ولیمسن نے جواکم کے خلاف خطرناک فاؤل کیا جس پرولیمسن کو ریڈ کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا۔  ڈنمارک کی جانب سے چوتھا گول مارٹن باربتھ ویٹ نے کیا تھا۔ کوارٹر فائنل میں ڈنماک اور جمہوریہ چیک مدمقابل ہوں گے ۔

اس ناک آئوٹ مرحلے سے قبل ویلز اور ڈنمارک کی فٹبال ٹیمیں 10 مرتبہ مدمقابل آئیں جن میں ڈنمارک چھ   قتوحات کے ساتھ بالادست رہا ۔  ویلز نے چار میچ جیتے۔ دونوں ممالک آخری مرتبہ یوایفا نیشن لیگ میں سانے آئے تھے جس میں ڈنمارک ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیت گیا تھا۔

رواں یورو کمپین میں یہ اٹلی کی 11  ویں کامیابی تھی میچ کے پہلے ہاف کے32 ویں منٹ میں چیرو ایموبیلی کو آسٹریای کی گول پوسٹ سے ٹکرا کر باہر چلی گئی تھی۔  اطالوی ٹیم کو غیر متوقع طور پر آسٹریا کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔

اٹلی کی فارورڈ لائن آسٹریا کے دفاع میں شگاف ڈالنے میں ناکام رہی  پہلا ہاف برابری پر منتج ہوا۔  دوسرے ہاف میں آسٹریا کے فٹبالرز نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے زیادہ اٹیکنگ کھیل پیش کیا جس کے نتیجے میں 65 ویں منٹ میں مارکو ارناؤٹووچ نے ہیڈ کے ذریعے خوبصورت گول کر کے آسٹریائی کمیپ میں خوشی کی لہر دوڑا دی لیکن اطالوی کپتان نے ریویو کا مطالبہ کیا۔

 ریویو کے بعد اس گول کو آف سائیڈ قرار دے دیا گیا اس طرح آسٹریا کے کھلاڑیوں کی خوشی کافور ہو گئی۔ آسٹریا نے 62 سال سے اٹلی کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ اطالوی ٹیم بھی کوشش کے باوجود گیند کو آسٹریائی جال میں پھنیکنے میں ناکام رہی۔ میچ مقررہ وقت میں  برابر رہنے کی وجہ سے اضافی وقت میں چلا گیا۔

 95 منٹ میں  اٹلی کے 23 سالہ فریڈریکو چیسا نے لیونارڈو سپنزولا کے پاس کو باکس ایریا میں خوبصورتی سے کنٹرول کیا اور ایک مشکل اینگل سے گیند کو گول پوسٹ میں پہنچا کراٹلی کو برتری دلوا دی۔

 اس گول کے بعد آسٹریائی کھلاڑیوں نے ہمت نہیں ہاری اورگول برابر کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔ ایک بار گیند گول پوسٹ کو چھو کر باہر چلی گئی۔  اٹلی کی جانب سے دوسرا گول 105  ویں منٹ میں میٹیو پیسینا نے  کیا۔ اس کے چند منٹ بعد آسٹریا کے متبادل کھلاڑی ساسا کلازچ نے خوبصورٹ ہیڈ کے ذریعے گول کر کے مقابلہ 2-1 کردیا۔

 اس گول کے بعد کھیل میں تیزی آئی کیونکہ آسٹریائی فٹبالرز  دوسرا گول کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ انہوں نے اچھی مووزبنائیں لیکن اٹلی کی مضبوط دفاعی لائن ان کے آڑے آئی  اور میچ اٹلی کی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔  اطالوی فٹبالر  فریڈریکو چیسا کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوگیا کہ ان کے والد انریکو چیسا نے1996 کی یورو چیمپئن شپ میں  انفیلڈ میں  جمہوریہ چیک کے خلاف گول کیا تھا لیکن اس میچ میں اٹلی کو 2-1 سے شکست ہو گئی تھی۔ وہ یورو فائنلز میں گول کرنے والے پہلے باپ بیٹا ہیں ۔

اس میچ سے قبل اٹلی نے گزشتہ 11 میچوں میں کوئی گول نہیں کھایا اور تمام میچ جیتے۔  دونوں ملکوں میں اس سے پہلے 35  میچز  کھیلے گئے جن میں اٹلی 16 اور آسٹریا 11 میں فاتح رہا جبکہ 8  میچ ڈرا ہوئے تھے ۔ آسٹریا کےخلاف آخری 13  میچوں میں اٹلی کی ٹیم کو شکست نہیں ہوئی ۔

 دونوں ٹیمیں چار مرتبہ بڑے ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آئیں اور چاروں مرتبہ جیت اٹلی کا مقدر بنی تھی ۔ آسٹرین فٹبال ٹیم تاریخ میں پہلی بار ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچی تھی  ۔ اطالوی ٹیم 14 مرتبہ ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچی اور اس نے چار مرتبہ یورو ٹائٹل جیتا ۔  دونوں ملکوں کے مابین پہلامیچ دسمبر 1912 میں کھیلا گیا تھا جس میں آسٹریا ایک کے مقابلے میں دو گول سے فاتح تھا۔ اطالوی ٹیم کو آسٹریا کے ہاتھوں آخری بار شکست دسمبر 1960 میں انٹرنیشنل دوستانہ میچ میں 1-2  سے ہوئی تھی ۔

  بڈاپسٹ کے پسکاس ایرینا میں جمہوریہ چیک نے ہالینڈ کو 0-2 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ ڈچ ٹیم کا ایک کھلاڑی اس شکست کا مورد الزام خود کو ٹھہراتا ہے جب دوسرے ہاف میں میتھیس ڈی لائٹ نے باکس ایریا میں چیک کے فٹلبالر پیٹرک چک کو یقینی گول کے موقع سے محروم کر دیا تھا ۔

 ڈی لائٹ نے ہاتھ سے گیند دور کر دی تھی پہلے ریفری نے ڈی لائٹ کو یلو کارڈ ڈکھایا لیکن وی اے آر سے پتہ چلا کہ ڈی لائٹ نے گیند کو ہاتھ مار کر چک کو یقینی گول کرنے سے  محروم کیا تھا جس پر اسے ریڈ کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا تھا۔

 اس وقت دونوں ٹیمیں گول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں ۔ ڈی لائٹ کے باہر جانے کا چیک فٹبالرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔  اس کے بعد ٹامس ہولس 68 ویں منٹ اور  پیٹرک چک نے 80   ویں منٹ میں اوپر تلے دو گول کر کے ڈچ کھلاڑیوں  کے حوصلے پست کر دیئے۔ اس کے بعد کھلاڑی نہ سنبھل پائے۔

 ڈچ ٹیم عالمی رینکنگ میں 24 ویں اور جمہوریہ چیک 40 ویں نمبر پر ہے۔ جمہوریہ چیک کی 2004 کے بعد کسی بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کے ناک آئوٹ مرحلے میں یہ پہلی کامیابی تھی۔ اس ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں جمہوریہ چیک نے ڈنمارک کو 3-0 سے ہرایا تھا اور اب پھر جمہوریہ چیک کا کوارٹر فائنل میں مد مقابل ہو گا۔

یورو ناک آئوٹ کے اس میچ سے پہلے جمہوریہ چیک اور ہالینڈ میں 8 میچ کھیلے گئے جن میں سے چیک نے چار جیتے جبکہ ہالینڈ تین میں فاتح تھا ۔ ایک میچ بے نتیجہ رہا  ۔ دونوں ملکوں کا  پہلا  میچ 11 جون 2000 میں ہواتھا جو ہالینڈ نے 1-0  سے جیت لیا تھا۔  آخری میچ 13 اکتوبر 2015 کو کھیلا گیا تھا جس میں جمہوریہ چیک نے دو کے مقابلے میں تین گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube