Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

آسٹریلین اوپن17جنوری سے شروع ہوگا، ویمنز سنگلز کی100ویں سالگرہ

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago

نئے سال 2022 کا پہلا گرینڈ سلام ایونٹ آسٹریلین اوپن ٹینس چیمپئن شپ 17 جنوری سے میلبورن میں شروع ہو رہی ہے جو 30 جنوری تک جاری رہے گی۔ اس بار بھی کرونا وائرس کے نئے ویرینٹ کی وجہ سے صورت حال گزشتہ برس سے کچھ مختلف نہیں ہے کئی ملکوں میں صورت حال بگرنے کی وجہ سے دوبارہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

آسٹریلیا میں کرونا وائرس ویکسی نیشن کے بغیر کسی شخص کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ وہاں کے قرنطینہ رولز بھی انتہائی سخت ہیں۔ آسٹریلیا آنے والے افراد کو ٹیسٹ منفی آنے کے باوجود حکومت کے منظور شدہ ہوٹلز میں 15 دن کا لازمی قرنطینہ کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران کمرے کی کھڑکیاں کھولنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ کوئی بھی شخص صرف ماہرین کے انڈی پینڈنٹ پینل کی جانب سے ویکسی نیشن سے میڈیکل استثنیٰ کی بنیاد پر آسٹریلیا میں داخل ہو سکتا ہے۔

ان سخت رولز کی وجہ سے آسٹریلیا کی عالمی ٹینس نمبر ایک اور ومبلڈن چیمپئن ایشلے بارٹی کو گزشتہ سال اپنا ٹینس سیزن وقت سے پہلے ہی ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا کیوں کہ حکام نے انہیں اپنے گھر پر قرنطینہ کرنے کی اجاز ت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ڈبلیو ٹی اے فائنلزمیں بھی شرکت نہیں کی تھی اور متعدد ٹینس ایونٹس چھوڑ دیے تھے۔ سربیا کے عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ مینز سنگلز اور جاپان کی ناﺅمی اوساکا ویمنز سنگلز کی دفاعی چیمپئن ہیں۔

آسٹریلیا میں کرونا کے سخت رولز کی وجہ سے عالمی نمبر ایک اور آسٹریلین اوپن کے دفاعی چیمپئن نواک جوکووچ کی ٹورنامنٹ میں شرکت مشکوک دکھائی دے رہی تھی کیوں کہ انہوں نے اپنی ویکسی نیشن کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی تھی اور وہ ویکسی نیشن کے خلاف بیان بھی دے چکے ہیں ۔ آسٹریلوی حکام نے ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں سٹاف سپورٹ سٹاف اور تماشائیوں کے لیے ویکسین کی لازمی شرط رکھی ہے۔ ٹینس آسٹریلیا اور ریاست وکٹوریہ نے بھی ان رولز پر اطلاق سے مکمل اتفاق کیا ہے۔

نواک جوکووچ سب سے زیادہ 9 مرتبہ آسٹریلین اوپن سنگلز ٹائٹل جیت چکے ہیں۔ وہ 20 گرینڈ سلام اعزازات کے ساتھ سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر اور ہسپانوی لیجنڈ رافیل نڈال کے ہم پلہ ہیں اور آسٹریلین اوپن جوکووچ اور نڈال کے لیے سب سے زیادہ گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والے مرد کھلاڑی بننے کا سنہری موقع ہے۔ نواک جوکووچ  کو یکم جنوری سے سڈنی میں جاری اے ٹی پی کپ میں اپنے ملک سربیا کی ٹیم میں نمائندگی کرنی تھی لیکن انہوں نے آسٹریلیا کے سخت کرونا ویکسی نیشن رولز کی وجہ سے اس ایونٹ میں حصہ لینے سے معذوری ظاہر کر دی تھی جس سے آسٹریلین اوپن میں ان کی شرکت مشکوک ہو گئی تھی لیکن آسٹریلوی حکام نے انہیں میڈیکل استثنیٰ دے دیا ہے اس طرح اب وہ اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے میلبورن میں موجود ہوں گے۔ جوکووچ نے بلغراد کی سڑک پر ٹینس پریکٹس کرتے ہوئے اپنی تصاویر ٹویٹر پر شیئر کی ہیں۔

 سرب ٹینس اسٹار نواک جوکووچ نے گزشتہ سال آسٹریلین اوپن کے فائنل میں روس کے ڈینیل میڈیڈیف کو شکست دے کر سیزن کا شاندار آغاز کیا تھا۔ انہوں نے فرنچ اوپن میں کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال کی بالادستی کا خاتمہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اور پھر وہ ومبلڈن سنگلز ٹرافی بھی لے اڑے تھے تاہم ٹوکیو اولمکپس میں گولڈ میڈل جیتنے کی خواہش پوری نہیں ہو سکی تھی۔ سال کے آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن میں روس کے ڈینیل میڈیڈیف نے جوکووچ کو زیر کر کے آسٹریلین اوپن فائنل میں شکست کا حساب نہ صرف چکا دیا تھا بلکہ اپنے ٹینس کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل بھی جیتا تھا۔ گزشتہ سال جوکووچ سے ان کی ویکسی نیشن کے حوالے سے متعدد بار سوالات کیے گئے تھے لیکن انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ آیا انہوں نے کوویڈ 19 ویکسی نیشن کروائی ہے یا نہیں۔

 آسٹریلوی ریاست وکٹوریہ نے پہلے نواک جوکووچ کو ویکسی نیشن کی لازمی شرط سے استثنیٰ دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ روسی خاتون کھلاڑی نٹالیہ نے بھی کورونا ویکسی نیشن نہیں کروائی ہے جس کی وجہ سے وہ بھی اس ایونٹ میں شرکت نہیں کریں گی۔ وکٹوریہ کے نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے تمام کھلاڑیوں سٹاف اور تماشائیوں کے لیے ویکسی نیشن کی شرط لازمی ہے۔ ہم کسی کو بھی بلاوجہ میڈیکل استثنیٰ نہیں دے سکتے ۔ ٹینس آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ ہم اس سرکاری پراسس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایسا کریں گے کیوں کہ یہ لوگوں کی جانوں کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

گزشتہ 17 برسوں سے آسٹریلین اوپن مینز سنگلز پر بگ تھری کی اجارہ داری ہے اور بیشتر اعزازات نواک جوکووچ، راجر فیڈرر اور رفیل نڈال کے ہاتھ آئے ہیں۔ نواک جوکووچ نے 9 مرتبہ آسٹریلین اوپن اپنے نام کیا جبکہ راجر فیڈرر 6  اور رافیل نڈال ایک بار ٹائٹل جیت پائے۔ روسی کھلاڑی مراٹ سافن نے سن 2005 اور سوئس اسٹار سٹان واورنکا نے سن 2014 میں آسٹریلین اوپن سنگلز ٹرافی جیتی تھی۔

 برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اینڈی مرے کو اس بار آسٹریلین اوپن میں وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی ہے۔ مرے 13 مرتبہ اس ایونٹ میں شرکت کر چکے ہیں ۔ وہ 5 بار اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچے لیکن کبھی فائنل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مرے کو 4 مرتبہ جوکووچ اور یک مرتبہ راجر فیڈرر نے شکست دی تھی ۔ برطانوی کھلاڑی نے سن 2019 میں آخری مرتبہ آسٹریلین اوپن میں حصہ لیا تھا اور وہ پہلے راﺅنڈ میں 5 سیٹ کے انتہائی سخت اور دلچسپ مقابلے کے بعد رابرٹو بوسٹا سے ہار گئے تھے۔ اس میچ کے بعد انہوں نے گھٹنے کی سرجری کروائی تھی ۔ گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے وہ کچھ عرصے ٹینس کورٹ سے باہررہے تھے۔ اینڈی مرے کا کہنا ہے کہ مجھے ایک بار پھر میلبورن پارک میں کھیلنے پر انتہائی خوشی ہو گی ۔ یہ میری فیورٹ کورٹ ہے۔

 آسٹریا سے تعلق رکھنے والے سابق عالمی نمبر 3 ڈومینک تھیم نے بھی انجری کی وجہ سے آسٹریلین اوپن میں شرکت سے معذوری کا اظہارکیا ہے ۔ ان کی کلائی میں تکلیف ہے جس کی وجہ سے وہ گزشتہ سال کے بیشتر حصے میں ٹینس کورٹ میں متحرک دکھائی نہیں دیئے تھے ۔ ڈومینک تھیم نے ومبلڈن، ٹوکیو اولمپکس اور یو ایس اوپن میں بھی حصہ نہیں لیا تھا جبکہ آسٹریا کی ٹیم میں نامزدگی ہونے کے باوجود اے ٹی پی کپ بھی نہیں کھیلے۔ ڈومینک تھیم نے سن 2020 کے آسٹریلین اوپن فائنل میں رسائی کی تھی جہاں وہ پانچ سیٹ کے جاں گسل مقابلے میں جوکووچ کے ہاتھوں شکار ہو گئے تھے۔

 آسٹریلین اوپن ٹینس چیمپئن شپ کا آغاز سن 1905 میں ہوا تھا اور ابتداء میں صرف مینز سنگلزکے مقابلے ہوتے تھے تاہم چیمپئن شپ میں سن 1922 میں ویمنز سنگلز اور دیگر ایونٹس متعارف کروائے گئے تھے۔ اس طرح یہ ٹورنامنٹ ویمنز سنگلز کی 100 ویں سالگرہ بھی ہے۔ ابتدائی برسوں میں یہ ایونٹ گراس کورٹ پر کھیلا جاتا تھا لیکن بعد میں اسے ہارڈ کورٹ پر منتقل کر دیا گیا ۔ سن 1988 سے یہ ایونٹ نئے میلبورن ایرینا میں کھیلا جاتا ہے۔ اس پارک میں آسٹریلیاکے دو لیجنڈ ٹینس اسٹارز مارگریٹ کورٹ اور راڈ لیور کے نام پر دو ایریناز بنائے گئے ہیں۔ اس میں کئی ٹینس کورٹس ہیں جہاں میچز کھیلے جاتے ہیں ۔ یہ ٹورنامنٹ کا 110 واں ایڈیشن ہے۔ مینز، ویمنز سنگلز، ڈبلز، مکسڈ ڈبلز کے علاوہ جونیئر اور وہیل چیئر ایونٹس بھی منعقد ہوں گے۔ دنیا بھر کے موسم کے بر عکس آسٹریلیا میں موسم انتہائی گرم ہوتا ہے جس کی وجہ سے میچوں کے دوران کئی کھلاڑیوں کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ آسٹریلین اوپن مینز اور ویمنز سنگلز ایونٹس میں 128، 128 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں ۔ دونوں کٹیگریز میں 16، 16 کوالیفائرز اور آٹھ آٹھ وائلڈ کارڈ انٹریز شامل ہیں۔

 اس مرتبہ ٹورنامنٹ کی مجموعی انعامی رقم میں ساڑھے چار فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو بڑھ کر 54 ملین امریکی ڈالر ہو گئی۔ مینز اور ویمنز سنگلز کے فاتح کھلاڑیوں کو 3 اعشایہ 19 ملین ڈالر فی کس انعامی رقم اور ٹرافیاں ملیں گی۔ رنرز اپ کھلاڑیوں اور ہر راﺅنڈ میں رسائی کرنے والے کھلاڑیوں کو بھی انعام دیا جائے گا۔

 آسٹریلین اوپن آرگنائزرز نے ٹورنامنٹ اسٹاف، اسپورٹ اسٹاف اور کھلاڑیوں کو دنیا بھر سے لانے کے لیے دو درجن سے زائد چارٹر پروازوں کا انتظام کیا ہے۔ اس سلسلے میں دبئی، لاس اینجلس، سان تیاگو، ٹوکیو اور سنگاپور سمیت مختلف ملکوں سے چارٹرڈ پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔ ان پروازوں کے ذریعے مرد اور خواتین کھلاڑیوں کی خاصی تعداد آسٹریلیا پہنچ چکی ہے جو قرنطینہ کرنے کے بعد پریکٹس میں مصروف ہے اور ٹورنامنٹس میں حصہ لے رہی ہے۔

جاپانی اسٹار ناﺅمی اوساکا ملیبورن میں اپنے اعزاز کا دفاع کریں گی۔ انہوں نے 2 مرتبہ آسٹریلین اوپن ویمنز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیا ہے اور وہ اس بار اپنے اعزاز کے لیے انتہائی پر عزم ہیں ۔ اوساکا میلبورن میں پریکٹس کررہی ہیں ۔ ٹوکیو اولمپکس میں غیر متوقع شکست کے بعد انہوں نے ٹینس سیزن سے عارضی بریک لیا تھا اور یو ایس اوپن میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

 گزشتہ سال ومبلڈن ٹائٹل جیتنے والی آسٹریلوی اسٹار ایشلے بارٹی اس بار ہوم گراونڈ پر گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے کے لیے پر امید ہیں ۔ سن 2021 میں وہ زبردست فارم میں تھیں اور انہوں نے متعدد ٹورنامنٹس جیتے تھے۔ گزشتہ 44 برسوں میں کوئی آسٹریلوی خاتون میلبورن میں سنگلز اعزاز اپنے نام نہیں کر سکی ہے۔ سن 1977 میں آسٹریلیا کی گولاگونگ نے فائنل میں ہموطن ہیلن گورٹی کو زیر کر کے ویمنز سنگلز ٹائٹل جیتا تھا۔ سن 1980 میں وینڈی ٹمبل فائنل میں رسائی کرنے والی آخری آسٹریلوی خاتون تھیں جن کو چیکوسلواکیہ کی حنا مانڈلیکووا نے ہرایا تھا۔

سن 1976  میں مارک ایڈمنڈ سن آسٹریلین اوپن مینز ٹائنل جیتنے والے آخری مقامی کھلاڑی تھے جنہوں نے فائنل میں لیجنڈ جان نیو کومب کو زیر کیا تھا جبکہ فانئل میں رسائی کرنے والے آخری آسٹریلوی کھلاڑی لیٹن ہیوٹ تھے جن کو روس کے مراٹ سافن نے سن 2005 کے فائنل میں چار سیٹ کے سخت مقابلے کے بعد شکست دی تھی۔

شائقین ٹینس آسٹریلین اوپن 2022 میں راجر فیڈرر، اسٹان واورنکا بیانکا اینڈریسکو، سرینا ولیمز وینس ولیمز اور دیگر کئی کھلاڑیوں کا کھیل دیکھنے سے محروم رہیں گے۔ بیانکا اینڈریسکو نے سن 2019 میں یو ایس اوپن ویمنز سنگلز ٹائٹل جیتا تھا ۔ وہ اپنی میڈیکل ٹیم کی ایڈوائس پر ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے رہی ہیں جبکہ سات بار آسٹریلین اوپن جیتنے والی امریکی لیجنڈ سرینا ولیمز نے بھی فٹنس مسائل اور میڈیکل ٹیم کی مشاورت پر ٹورنامنٹ میں شرکت سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ سرینا ولیمز کا کہنا ہے کہ میلبورن میری فیورٹ جگہ ہے اور یہاں کے تماشائی میرے زبردست سپورٹر ہیں ۔ میں یہاں کھیلتے ہوئے ہمیشہ خوشی محسوس کرتی ہوں۔

راجر فیڈرر، ڈومینک تھیم، اسٹان واورنکا، میلوس راﺅنک، گاڈیو پلا کی عدم شرکت کی وجہ سے ان کے متبادل کھلاڑیوں کو ڈراز میں جگہ دی گئی ہے ۔ ویمنز کیٹیگری میں بیانکا اینڈریسکو، جینیفر براڈی، کیرولینا پلسکووا، کیرولینا موچووا اور نادیہ پوڈوروسکا کورٹ میں متحرک نہیں ہوں گی۔ پلسکووا کا دایاں بازو زخمی ہے جبکہ موچووا بھی انجری کی شکار ہیں۔ موچووا نے گزشتہ سال آسٹریلین اوپن کے سیمی فائنل میں رسائی کی تھی۔ روسی اسٹار سویتلانا کوزنتسیوا ٹورنامنٹ میں نظر نہیں آئیں گی۔

 امریکہ کی 40 سالہ سرینا ولیمز نے سن 2017 میں اپنا آخری اور 23 واں سنگلز گرینڈ سلام ٹائٹل ملیبورن میں ہی جیتا تھا۔ اس کے بعد سے و ہ 24 ویں گرینڈ سلام ٹائٹل کے لیے سرگرداں ہیں لیکن انہیں کامیابی نصیب نہیں ہو رہی۔ وہ مارگریٹ کورٹ کا 24 سنگلز گرینڈ سلام کا ریکارڈ برابر کرنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں ۔ آسٹریلین اوپن 2021 کے سیمی فائنل میں سرینا کو ناؤمی اوساکا نے شکست دی تھی۔ گزشتہ سال ومبلڈن اوپن کے پہلے راﺅنڈ میں سرینا ولیمز ہمسٹرنگ انجری کی وجہ سے ریٹائر ہو گئی تھیں جس کے بعد سے انہوں نے کسی ایونٹ میں حصہ نہیں لیا۔ سرینا نے کہا کہ میڈیکل ٹیم کی ہدایت پر میں نے آسٹریلین اوپن میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم میں فرنچ اوپن میں شرکت کیلئے پر عزم ہوں ۔ کافی عرصے سے ٹینس سرکٹ میں سرگرم نہ ہونے کی وجہ سے سرینا عالمی رینکنگ میں 41 ویں نمبر پر چلی گئی ہیں۔

آسٹریلین ا وپن کی تاریخ میں گزشتہ 24 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ ولیمز سسٹرز میں سے کوئی ایک بھی حصہ نہیں لے رہی ہے۔ اکتالیس سالہ وینس ولیمز نے ٹانگ میں تکلیف کی وجہ سے اگست کے بعد سے کسی بھی ایونٹ میں شرکت نہیں کی اور وہ عالمی رینکنگ میں بھی انتہائی نچلے درجے پر چلی گئی ہیں اس وقت ان کی عالمی رینکنگ 318 ہے۔ ٹاپ 100 سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ براہ راست مین ڈرا میں شامل نہیں ہو سکتی تھیں اس لیے منتظمین نے انہیں وائلڈ کارڈ انٹری دی تھی۔ سن 1997 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں بہنیں میلبورن میں متحرک نظر نہیں آئیں گی۔ وینس ولیمز نے اپنے کیریئر میں سات گرینڈ سلام ٹرافیاں جیتی ہیں لیکن وہ سن 2003 اور سن 2017 میں فائنل میں رسائی کے باوجود آسٹریلین اوپن ٹائٹل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ تاہم وینس ولیمز نے سن 1998 میں آسٹریلین اوپن ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے اعزازات اپنے نام کیے تھے۔

 ابوظہبی میں نمائشی ٹورنامنٹ کے دوران کوویڈ 19 کا شکار ہونے والے ہسپانوی ٹینس اسٹار رافیل نڈال آسٹریلین اوپن میں شرکت کے لیے میلبورن پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح ان کی اس ایونٹ میں عدم شرکت کے بارے میں چہ میگوئیاں دم توڑگئی ہیں۔ وہ آسٹریلین اوپن جیت کر سب سے زیادہ گرینڈ سلام ٹائٹلز والے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ وہ میلبورن میں پریکٹس کررہے ہیں۔ نڈال نے چار ماہ کے وقفے کے بعد ابوظہبی میں میچ کھیلا تھا۔ ان کے ساتھ وہاں کوویڈ 19 کا شکار ہونے والوں میں آندری روبیلیف، بلینڈا بینچچ، انس جابر، یو ایس اوپن چیمپئن ایما رڈوکانو اور شپووالوف بھی شامل تھے۔ ایما رڈوکانو بھی صحتیاب ہو کر آسٹریلیا پہنچ چکی ہیں لیکن انہوں نے میلبورن کے وارم اپ ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے لیا ہے تاہم وہ آسٹریلین اوپن کے لیے پر عزم ہیں۔

 مینز کیٹیگری میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ڈینیل میڈیڈیف، الیگزینڈر زیوریف، ڈینیل شپووالوف، میٹیو بریٹینی اور اسٹیفانوس تسسیپاس آسٹریلین اوپن کے مضبوط امیدوار ہوں گے اور وہ نواک جوکووچ اور رافیل نڈال کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کی شان دار پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے 8 سال بعد کوئی نیا چہرہ مینز سنگلز ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ آندری روبیلیف، کیسپر رڈ، ہوبرٹ ہرکاز، یانک سنر، کیمرون نوری، کرسٹین گارن بھی اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال ان کھلاڑیوں نے مثالی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رینکنگ کو بہتر بنایا تھا۔ خواتین کیٹیگری میں ایشلے بارٹی، ناﺅمی اوساکا، ایما رڈوکانو، لیلیٰ فرنانڈس، انس جابر، صوفیہ کینن، اینجلک کیربر، کیرولین وزنیاسکی، ایگا سواٹیک، گاربین موگوروزا، سیمونا ہالیپ، باربورا کراجسیکووا، ماریہ سکاری، اینیٹ کونٹاویٹ، پاﺅلیو چنکووا میں ٹائٹل کے لیے کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube