Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

ميئر کراچی يا شو پیس؟

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago

پيپلزپارٹی وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کرچکی ہے، بلاول بھٹو وزيراعظم عمران خان کو ٹف ٹائم دينے کا پروگرام بنا رہے ہيں مگر ايک ايسے وقت جب بلاول بھٹو اسلام آباد ميں احتجاج کے ليے پر تول رہے ہيں انہيں صوبائی دارالحکومت کراچی ميں دھرنے اور مظاہروں کا سامنا ہے۔ سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی  نے نئے بلدياتی قانون کو کالا قانون قرار دے کر  دھرنا ديا ہوا ہے، پي ايس پی بھی 30جنوری کو مظاہرے کا ارادہ رکھتی ہے، ايم کيوايم پاکستان فی الحال صرف بيان بازی پر اکتفا کررہی ہے جبکہ جی ڈے اے بھی نئے بلدياتی قانون کے خلاف ہے۔

حيران کن طور پر کراچی سے قومی اسمبلی کی 14 سيٹيں جيتنے والی پاکستان تحريک انصاف منظر نامہ سے غائب ہے، تحريک انصاف کے عدم تحرک اور ايم کيوايم کے زبانی جمع خرچ نے کراچی ميں جماعت اسلامی کو سندھ حکومت کے سب سے بڑے ناقد کے طور پر کھڑا کرديا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امير حافظ نعيم الرحمان شہر کي سياست ميں ايک طاقتور آواز کے طور پر ابھررہے ہيں جومسلسل شہری مسائل کے حل کے ليے آواز اٹھارہے ہیں۔

جماعت اسلامی اور اپوزيشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بلدياتی قانون 2021 ميں بلدياتی حکومتوں کے رہے سہے اختيارات بھی ختم کرديے گئے ہيں۔ کراچي کے لوگ جنرل پرويز مشرف کے دور ميں شہري حکومت کا نظام ديکھ چکے ہيں جب سٹی ناظم کے پاس نہ صرف اختيارات تھے بلکہ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، کے بی سی اے اور ماس ٹرانزٹ سميت تمام ادارے تھے۔ شہری حکومت کا نظام يقينا ايک ڈکٹيٹر نے بنايا تھا مگر اس دور ميں کراچی ميں بے حساب ترقياتی کام ہوئے۔ شہريوں نے خود کراچی کو تبديل ہوتا ہوا ديکھا تھا۔

پيپلز پارٹی نے سن 2013 ميں شہری حکومتوں کے نظام کو ختم کرديا اور وسيم اختر سن 2016 ميں ايک ايسے ميئر کے طور پر سامنے آئے جو اگلے 4 سال تک اختيارات اور فنڈز کی کمی کا رونا روتے رہے۔ سن 2021 ميں پيپلزپارٹی نے قانون ميں پھر تبديلی کی اور تمام سرکاری اسکولز پر سے ميئر کا کنٹرول ختم کرديا۔ صحت کے شعبے ميں جو اسپتال اور ڈسپنسرياں ميئر کے ماتحت تھيں ان کا کنٹرول بھی سندھ حکومت نے سنبھال ليا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت ميئر کراچی واٹر بورڈ کا شريک چيئرمين ہوگا مگر اپوزيشن کا کہنا ہے کہ اصل طاقت چيئرمين اور ايم ڈی واٹر بورڈ کے پاس ہوگی اور ميئر کراچی بطور شريک چيئرمين صرف کٹھ پتلی ہوگا۔ پيپلزپارٹی کہتی ہے سالڈ ويسٹ مينجمنٹ بورڈ کا سربراہ ميئر ہوگا جب کہ اپوزيشن کہتی ہے کہ کچرا اٹھانے کا اختيار پہلے بھی ضلعی چيئرمين کے پاس تھا اب وہ ٹاؤنز ديکھيں گے اس ليے کوئی فرق نہيں پڑے گا۔

امير جماعت اسلامی حافظ نعيم الرحمان کا مطالبہ ہے کہ ميئر کراچی کو وہ تمام ادارے واپس کيے جائيں جو سن 2013 ميں ليے گئے تھے۔ واٹر بورڈ، ايس بی سی اے، ماس ٹرانزٹ، ماسٹر پلان، صحت اور تعليم کے تمام ادارے ميئر کے پاس ہونے چاہئیں تاکہ ايک کمانڈ کے تحت تمام ترقياتی کام ہوسکيں۔ نعيم الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر لندن، تہران اور استنبول کے ميئر طاقتور ہوسکتے ہيں تو 3 کروڑ آبادی والے کراچی کا ميئر بے اختيار کيوں ہے؟ جواب ميں صوبائی وزير سعيد غنی کہتے ہيں کہ ہم سن 2001 کا قانون بحال نہيں کريں گے جماعت اسلامی دھرنے پر بيٹھی رہے۔ جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درميان مذاکرات کا ايک دور بھی ہوا جو ناکام رہا۔

اس حقيقت سے انکار ممکن نہیں کہ سن 2013 کا بلدياتی قانون کراچی کے مسائل حل کرنے ميں ناکام رہا تھا۔ صوبائی حکومت نے تمام اداروں کا کنٹرول سنبھال تو ليا ہے مگر عالم يہ ہے کہ 14 سال ميں پيپلزپارٹی نے کراچی ميں صرف 10 بسيں چلائی ہيں جبکہ کراچی کو 5 ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کا آخری منصوبہ کے تھری بھی سٹی ناظم  نعمت اللہ خان کے دور ميں ملا تھا جبکہ پيپلزپارٹی 14 سال ميں کراچی کو ايک بوند اضافی پانی نہيں دے سکی۔

يہ بات سندھ اور کراچی کے مفاد ميں ہے کہ بڑے شہروں ميں طاقتور بلدياتی نظام رائج کيا جائے۔ سندھ حکومت کو چاہيے کہ معاملہ کو انا کے مسئلہ نہ بنائے اور  جمہوريت کی روح پر عمل کرتے ہوئے اختيارات کو نچلی سطح تک منتقل کرے۔ کراچی کا ميئر بااختيار ہونا چاہيے نہ کہ محض ایک شو پیس۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube